جمعہ , 7 اکتوبر 2022

جنگی قیدیوں کے بدلے روسی فوجیوں کی لاشیں تلاش کرتے یوکرینی

یوکرینی حکام تباہ شدہ علاقوں کے ملبے سے روسی فوجیوں کی لاشوں کو جمع کر رہے ہیں تاکہ ان کے بدلے روسی حراست میں یوکرینیوں کو واپس حاصل کیا جا سکے۔
یوکرینی حکام کے مطابق یوکرین ان مردہ روسی فوجیوں کی لاشوں کو اکٹھا کر رہا ہے جو سابق مقبوضہ قصبوں کے ملبے میں بکھری ہوئی ہیں۔

یوکرینی حکام جنگی قیدیوں کے بدلے ان لاشوں کی شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے سے لے کر ٹیٹو تک سب کچھ استعمال کر رہے ہیں۔

رضاکاروں نے خارکیو کے شمال مشرقی علاقے میں 60 لاشیں اکٹھی کرنے میں فوج کی مدد کی ہے جہاں روسی افواج حالیہ ہفتوں میں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

یہاں سے ملنے والی ان لاشوں کو ریفریجریٹر ریل گاڑی میں رکھا گیا ہے۔

اس کوشش کو مربوط کرنے والی یوکرین کی مسلح افواج کی ملٹری سول کوآپریشن برانچ کے کپتان اینٹون آئیوینیکوف نے کہا: ’لاشوں کو بعض اوقات قیدیوں کے تبادلے کے حصے کے طور پر اور کئی بار یوکرینی لاشوں کے تبادلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

اعلیٰ عہدے پر رہنے والے افراد کی لاشیں تبادلے کے لیے خاص طور پر قیمتی ہو سکتی ہیں۔

آئیوینیکوف نے کہا: ’ہم تمام دستاویزات، تمام نشانات، تمام کریڈٹ کارڈز جمع کر رہے ہیں۔ کوئی بھی چیز جس سے ہمیں جسم کی شناخت میں مدد ملے، بشمول ٹیٹو اور ڈی این اے کے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مستقبل میں تبادلے کے لیے یہ ہمیں بتائے گا کہ کون سا فوجی، کون سی بریگیڈ اس خطے میں تعینات تھا۔‘

ان کے مطابق: ’یہ لاشیں ٹرین میں کیئف جائیں گی جہاں تبادلے کے لیے مذاکرات کرنے والی ٹیم قائم ہے۔‘

اس علاقے میں لاشیں نکالنے کی یہ کوشش یوکرین کی طرف سے روسی افواج کو خارکیو کے قصبوں سے دھکیلنے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خارکیو شہر کے بالکل مشرق میں واقع گاؤں مالا روہن میں رضاکاروں کو دو روسی فوجیوں کی لاشوں کو کنویں سے نکالنے کے لیے رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس علاقے میں گھروں کو جنگ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایوانیکوف نے کہا: ’ان دونوں میں سے کم از کم ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، یہ ایک نشانی ہے کہ انہیں شاید حکم نہ ماننے کی سزا دی گئی ہو۔‘

تاہم روئٹرز کسی بھی ہلاکت کے حالات کی تصدیق کرنے سے قاصر تھا۔

ایک مقامی خاتون ٹاٹیانا نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب روسی افواج ان کے گاؤں میں پہنچیں تو فوجیوں نے انہیں اور ان کے خاندان کو تہہ خانے میں رہنے کو کہا جب تک کہ وہ ان کے گھر پر قابض تھے۔ اس کے فوراً بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں سے بھاگ گئیں۔

جب یوکرینی افواج کی طرف سے روسی فوج کو پیچھے دھکیلنے کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس آئیں تو ٹاٹیانا نے بتایا کہ انہوں نے اپنا گھر تباہ شدہ اور تہہ خانے میں ایک روسی فوجی کی لاش پائی۔

روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے ساتھ تبادلے کی اطلاعات یا اس الزام پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا کہ روسی فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر گولی مار دی گئی ہے۔

جبکہ یوکرینی فوج نے جنوب مشرق میں تقریباً 240 کلومیٹر (149 میل) خارکیو کے آس پاس لاشیں برآمد کیں، اس کی افواج مشرقی یوکرین کے دونبیس علاقے میں شدید حملوں کے خلاف دفاع کر رہی ہیں۔

ماسکو اپنے پڑوسی کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنے اقدامات کو ’خصوصی آپریشن‘ قرار دیتا ہے جبکہ کیئف نے کہا کہ اس نے کبھی بھی روس کو کسی بھی طرح سے دھمکی نہیں دی اور روس کا یہ حملہ مکمل طور پر بلا اشتعال تھا۔

یہ بھی دیکھیں

بلاول بھٹو کا صدر مملکت کیخلاف مواخذے کی کارروائی جلد شروع کرنے کا مطالبہ

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کیخلاف مواخذے کی کارروائی …