اتوار , 25 ستمبر 2022

روسی افواج لُوہانسک پر مکمل قبضے کے قریب

گزشتہ ایک سو دنوں سے یوکرینی جنگجو روسی حملوں کو پسپا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مشرقی خطے لُوہانسک میں انکے آخری مضبوط ٹھکانے کا کنٹرول انکے ہاتھ سے نکلنے کے قریب ہے۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی افواج اب بھی سویلیئن اہداف پر حملے کر رہی ہیں۔

لُوہانسک کے گورنر نے بتایا ہے کہ ایک کیمیکل پلانٹ پر فضائی حملے سے نائٹرک ایسڈ کے ایک ٹینک کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارخانہ کوئی فوجی ہدف نہیں ہے اور تقریباً 800 عام شہری قریبی بم شیلٹرز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ فوجیوں کو یہ قیاس آرائی کرتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ زہر آلود کیمیائی مواد ہو سکتا ہے۔

برطانوی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ روس کا اس خطے پر قبضہ نوشتہ دیوار ہے۔ انکے مطابق فوجی دستے پہلے ہی لُوہانسک خطے کے 90 فیصد سے زائد کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں کسی بھی وقت باقی علاقہ بھی فتح کر لیا جائے گا۔

تاہم امریکہ میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسیوں کو سیورودونیتسک شہر اور اسکے آس پاس بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ افواج ہمسایہ دونیتسک خطے میں کچھ زیادہ علاقے کا کنٹرول حاصل کر پائیں گی۔

روس کے ایک سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے پہلے ہی دونیتسک اور لُوہانسک میں اپنے بہت سے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام اہداف کے حصول تک فوجی کارروائی جاری رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی صدر نے غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر دیا

واشنگٹن:امریکا کے صدر نے اہم غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر …