بدھ , 28 ستمبر 2022

یوکرینی اجناس کی برآمدات میں مدد کی بیلاروس کی تجویز

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لُوکاشینکو نے کہا ہے کہ انکا ملک اپنے علاقوں کے راستے بحیرہ بالٹک کی بندرگاہوں تک یوکرینی غلے کی ترسیل کرنے کو تیار ہے۔

صدارتی دفتر نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ صدر لُوکاشینکو نے اِسی روز یہ تجویز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گُوتیرس کو ٹیلی فون بات چیت کے دوران دی ہے۔

روسی حملے کی وجہ سے بحیرہ اسود کی جنوبی بندرگاہوں سے یوکرینی گیہوں برآمدات رک چکی ہیں۔

صدارتی دفتر کے مطابق جناب لُوکاشینکو نے اس معاملے کے حل کے لیے بیلاروس، یوکرین اور بالٹک ریاستوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ یوکرینی غلے کے لیے راہداری فراہم کرنے کی شرط کے طور پر بحیرہ بالٹک میں جرمنی، پولینڈ، بالٹک ریاستوں اور روس کی بندرگاہوں کو بیلاروسی اشیا کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔

روس کا اتحادی ہونے کی وجہ سے بیلاروس کو مغربی پابندیوں سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان میں کھاد کی برآمد پر پابندیاں شامل ہیں جو اس ملک کی سب سے بڑی پیداوار ہے

یہ بھی دیکھیں

آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات ہوئی تو قوم سے معافی مانگ لوں گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات …