جمعہ , 7 اکتوبر 2022

آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان رواں سال کی برآمدات کے ہدف سے پیچھے رہ جائے گا، پاشا

ا

نفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انڈسٹری نے ملک کی آئی ٹی کی برآمدات ترقی کی جانب گامزن ہونے کے حکومتی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان آئی ٹی سیکٹر میں ایک ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف سے پیچھے رہ جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان سوفٹ وئیر ہاؤسز ایسوسی ایشن فار آئی ٹی اور آئی ٹیز (پاشا) کی جانب سے’ وائے پلینڈ گروتھ واس ناٹ اچیو‘ ( مقرر کردہ ہدف کیوں حاصل نہ ہوا) کے نام سے مرتب کردہ رپورٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

رپورٹ میں آئی ٹی کی بڑھتی ہوئی ترقی رکنے کی 5 وجوہات بتائی گئی ہیں، جس میں خصوصی ٹیکنالوجی زون اتھارٹی ( ایس ٹی زی اے) کا قیام بھی شامل ہے۔
رپورٹ کا اجرا آئندہ ہفتے کیا جائے گا جس میں ایس ٹی زی اے کے قیام پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متوجہ کیا گیا ہے کہ ایس ٹی زی اے کو کمزور کرتے ہوئے اسے آئی ٹی کی برآمدات سے منسلک نہیں کیا گیا۔

پاشا کا کہنا تھا کہ ایس ٹی زی اے میں کوئی اسٹیک ہولڈر نمائندہ نہیں تھا اس حقیقت کے باوجود بھی حکام نے رواں سال جنوری میں اس کا افتتاح کیا، اب بھی یہ ٹیکنالوجی زون موجودہ آئی ٹی اور آئی کی خدمات فراہم کرنے والی صنعت کے لیے فعال نہیں ہے۔

پی ایٹ شاہ کی رپورٹ وزارت آئی ٹی کو بھی پیش کی جائے گی، جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی اور آئی ٹی کی صنعت کی ترقی اب بھی جاری ہے لیکن اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021-2022 میں نمو کا رجحان کم ہوا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال صرف ایک تبدیلی ہوئی ہے وہ ٹیکس میں نظام میں ہونے والی تبدیلی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 2020-21 کے دوران آئی کی ترقی کی شرح 47 فیصد تھی اور اگر ایسی رجحان کی پیروی جاری رہتی تو آئی ٹی صنعت رواں مالی سال میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کا ہدف عبور کرتی۔

گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی اور آئی ٹیز کی برآمدات 2 ارب 10 کروڑ ڈالر تھی، جس کے بعد مالی سال 2021-22 کے لیے ساڑھے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، صنعت نے تخمینہ لگایا تھا کہ 30 جون 2022 تک برآمدات کی حد 2 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگی۔
پاشا کی جانب سے کمی کے رجحان کی وجہ ٹیکس نظام میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹیکس سے استثنا آئی ٹی کی صنعت کے لیے واحد مراعات تھی جس کے تحت 2025 تک ٹیکس میں چھوٹ کا وعدہ کیا گیا تھا۔

2021 میں اسے صنعت اور آئی ٹی کی وزارتوں سے مشورہ کیے بغیر ٹیکس کریڈٹ کے متنازع نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

سائفر سے فائدہ اٹھانے والے اس کی تحقیقات کیسے کرسکتے ہیں؟ عمران خان

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسمبلی میں کسی …