بدھ , 28 ستمبر 2022

آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان رواں سال کی برآمدات کے ہدف سے پیچھے رہ جائے گا، پاشا

انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انڈسٹری نے ملک کی آئی ٹی کی برآمدات ترقی کی جانب گامزن ہونے کے حکومتی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان آئی ٹی سیکٹر میں برآمدات کے ہدف سے ایک ارب ڈالر پیچھے رہ جائےگا۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن فار آئی ٹی اور آئی ٹیز (پاشا) کی جانب سے ’وائے پلینڈ گروتھ واس ناٹ اچیو‘ (ترقی کا ہدف کیوں حاصل نہیں ہوا) کے نام سے مرتب کردہ رپورٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

رپورٹ میں آئی ٹی کی بڑھتی ہوئی ترقی رکنے کی 5 وجوہات بتائی گئی ہیں جن میں خصوصی ٹیکنالوجی زون اتھارٹی (ایس ٹی زی اے) کا قیام بھی شامل ہے۔

رپورٹ کا اجرا آئندہ ہفتے کیا جائے گا جس میں ایس ٹی زی اے کے قیام پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متوجہ کیا گیا ہے کہ ایس ٹی زی اے کو کمزور کرتے ہوئے اسے آئی ٹی کی برآمدات سے منسلک نہیں کیا گیا۔

پاشا کا کہنا تھا کہ ایس ٹی زی اے میں کوئی اسٹیک ہولڈر نمائندہ نہیں تھا اس حقیقت کے باوجود بھی حکام نے رواں سال جنوری میں اس کا افتتاح کیا، اب بھی یہ ٹیکنالوجی زون موجودہ آئی ٹی اور آئی ٹی کی خدمات فراہم کرنے والی صنعت کے لیے فعال نہیں ہے۔

پاشا کی رپورٹ وزارت آئی ٹی کو بھی پیش کی جائے گی، جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی اور آئی ٹی کی صنعت کی ترقی اب بھی جاری ہے لیکن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 22-2021 میں نمو کا رجحان کم ہوا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گزشتہ سال کے مقابلے اس سال صرف ایک تبدیلی ہوئی ہے اور وہ ٹیکس نظام میں ہونے والی تبدیلی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 21-2020 کے دوران آئی ٹی کی ترقی کی شرح 47 فیصد تھی اور اگر اسی رجحان کی پیروی جاری رہتی تو آئی ٹی صنعت رواں مالی سال میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کا ہدف عبور کرتی۔

گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی اور آئی ٹیز کی برآمدات 2 ارب 10 کروڑ ڈالر تھی، جس کے بعد مالی سال 22-2021 کے لیے ساڑھے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم صنعت نے تخمینہ لگایا ہے کہ 30 جون 2022 تک برآمدات 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تک محدود رہے گی۔

 

پاشا کی جانب سے کمی کے رجحان کی وجہ ٹیکس نظام میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹیکس سے استثنیٰ آئی ٹی کی صنعت کے لیے واحد مراعات تھی جس کے تحت 2025 تک ٹیکس میں چھوٹ کا وعدہ کیا گیا تھا۔

2021 میں اسے صنعت اور آئی ٹی کی وزارتوں سے مشورہ کیے بغیر ٹیکس کریڈٹ کے متنازع نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ڈالر کی اڑان جاری، اوپن مارکیٹ میں قیمت 245 روپے سے تجاوز کرگئی

کراچی: ملک کو رواں سال مطلوبہ 36 ارب ڈالر کی ضروریات کا بندوبست نہ ہونے، …