بدھ , 10 اگست 2022
تازہ ترین

پیرس:روس کے بجائے عرب امارات سے پٹرولیئم مصنوعات خریدے پر غور ہو رہا ہے: برونو لی مائیر

فرانس روس سے درآمدکی جانے والی توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ متحدہ عرب امارات سے پیٹرولیم مصنوعات خرید کرنے کے بارے میں بات چیت کررہا ہے
فرانسیسی وزیرخزانہ برونولی مائیر نےگزشتہ روز کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں خودمختاری میں اضافے کے لیے آف شور ونڈ فارمز کی تنصیب میں تیزی لانے کا منصوبہ بھی زیرغور ہے اور فرانس صاف توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیزکرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے۔

لی مائیر نے سی نیوز ٹی وی اور یورپ -1 ریڈیو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہہم روس سے گیس یا ڈیزل کی درآمدات کے متبادل تلاش کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات عارضی طور پر تیل اور ڈیزل کی ترسیل میں روس کی جگہ لے سکتا ہے،س ضمن میں عرب امارات کے ساتھ پہلے ہی بات چیت شروع ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے یوکرین میں جنگ پرروس کے خلاف پابندیوں کے چھٹے پیکج کی منظوری دی تھی جس میں روس سے تیل کی درآمدات پر جزوی پابندی بھی شامل تھی۔

فرانسیسی صدرامانویل ماکروں نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں سال کے آخرتک یورپی یونین میں روس سے تیل کی درآمدات میں قریباً 92 فی صد کمی کی جائے گی مگرانھوں نے یہ بھی کہا کہ روسی گیس پرپابندی سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔

دریں اثناء، یورپی یونین کی داخلی منڈیوں کے کمشنر تھیری بریٹن نے سی نیوزاور یورپ 1 کے ساتھ الگ سے ایک انٹرویومیں کہا کہ روسی صدر ولادی میرپوٹن یورپ کو تقسیم کرنے کی کوشش میں گیس کا استعمال کررہے ہیں کیونکہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بریٹن نے کہا کہ ہمیں خود کو روسی گیس پرانحصار بھی ختم کرنا چاہیے،ہمیں اپنی خودمختاری جلد ازجلد واپس حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ولادیمیرپوٹن کو یورپی منصوبہ پسند نہیں ہے۔

انھوں نے سالوں سے یورپ کو تقسیم کرنے کے لیے سب کچھ کیا ہے جبکہ اب وہ ہمیں تقسیم کرنے کے لیے گیس کا استعمال کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی ریاست کرناٹک میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی …