پیر , 26 ستمبر 2022

عثمان بزدار کا وزیرخزانہ پنجاب کیلئے ‘تلاش گمشدہ’ کا اشتہار

سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر پنجاب کے وزیر خزانہ کو ’تلاش‘ کرنے کے لیے تلاش گمشدہ کا اشتہار جاری کیا جسے کل 23-2022 کا صوبائی بجٹ تیار کرکے پیش کرنا

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر تلاش گمشدہ کا ایک فرضی اشتہار شیئر کرتے ہوئےعثمان بزدار نے صارفین سے کہا کہ ’اگر آپ کے پاس وزیر خزانہ کے بارے میں کوئی معلومات ہیں تو پنجاب اسمبلی سے رابطہ کریں جو کہ رواں سال اپریل سے لاپتا ہیں‘۔

ٹوئٹ کے ذریعے عثمان بزدار نے مسلم لیگ (ن) کے سیاستدانوں کے ساتھ بظاہر بدلہ لینے کی کوشش کی ہے جو ماضی میں انہیں ’کٹھ پتلی‘ کہا کرتے تھے جس کی ڈوریں بنی گالہ (عمران خان کی نجی رہائش گاہ) سے ہلائی جا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تمام وزرا کیلئے سرکاری پیٹرول پر پابندی لگا دی، عطا اللہ تارڑ

16 اپریل کو حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پی ٹی آئی کے نشانے پر ہے اور وقتاً فوقتاً اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے وزرا کے حلف اٹھانے کے 11 روز گزر جانے کے باوجود پارٹی اپنی تاحال چھوٹی سی کابینہ کے ارکان کو قلمدان دینے سے قاصر رہی۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بزدار حکومت کو بنی گالا سے چلانے کے طعنوں کے جواب میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد مسلم لیگ (ن) کے سیٹ اپ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اسے جاتی امرا (مریم نواز کی رہائش گاہ) اور لندن سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز عملی طور پر حمزہ شہباز کی پنجاب حکومت چلا رہی ہیں اور وہ افسران کے تبادلوں اور تقرر کے علاوہ وزرا کو قلمدان دینے میں بھی مداخلت کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب اب تک کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ پیش کرنے کیلئے تیار

حال ہی میں مریم نواز سے منسوب ایک لیک آڈیو کلپ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ حکومت کے میڈیا کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کابینہ کی تشکیل، خاص طور پر قلمدانوں کی تقسیم میں اپنی رضامندی شامل رکھنا چاہتی ہیں۔

تحریر جاری ہے‎

ذرائع نے ایک مثال بھی پیش کی کہ مریم نواز اپنی پسندیدہ عظمیٰ بخاری کے لیے وزارت اطلاعات کا قلمدان چاہتی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز عطا اللہ تارڑ کو اس عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح ذرائع نے مزید بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں 7 نشستوں والی پیپلز پارٹی فنانس اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے محکموں میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن شہباز شریف ان اہم وزارتوں کو اپنی پارٹی میں رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا 2653 ارب روپے کا بجٹ پیش، جنوبی پنجاب کیلئے الگ ترقیاتی فنڈز مختص

مسلم لیگ (ن) کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ پی پی پی کے ساتھ وزارت خزانہ کا معاملہ حل ہو گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی کو یہ قلمدان ملنے کا فیصلہ طے پاگیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کے صوبائی وزیر خزانہ بننےکا امکان ہے اور وہ پیر کو (کل) بجٹ پیش کریں گے، اس سلسلے میں جلد ہی کسی بھی وقت نوٹی فکیشن متوقع ہے۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کیا جاچکا ہے کہ پنجاب کا مالی سال 23-2022 کا سالانہ بجٹ اور رواں مالی سال 22-2021 کا ضمنی بجٹ 13 جون کو (کل) پنجاب اسمبلی کے جاری 40 ویں اجلاس کے دوران پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے

اسلام آباد: لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف …