بدھ , 6 جولائی 2022

بیجنگ ڈیجیٹل شہر کیسے بنا؟

تحریر: تحریم عظیم

ہمیں پتہ چلاہے کہ ہماری عارضی قیام گاہ یعنی بیجنگ کو دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل شہروں میں شمار کیا گیا ہے۔

معروف برطانوی اخبار دی اکانومسٹ سے وابستہ ایک تھنک ٹینک گروپ اکانومسٹ امپیکٹ نے کچھ دن پہلے ڈیجیٹل سیٹیز انڈیکس کے نام سے ایک وائٹ پیپر شائع کیا ہے جس میں بیجنگ کو دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ ڈیجیٹل شہر کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایشیا میں بیجنگ پہلے نمبر پر ہے۔

یہ ادارہ ہر سال دنیا کے مختلف شہروں کی کنیکٹوٹی، سروس، ثقافت اور سسٹین ایبیلیٹی یا پائیداری کے اعتبار سے درجہ بندی کرتا ہے۔

اس فہرست میں پہلا درجہ ڈینمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن اور دوسرا درجہ نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم نے حاصل کیا ہے۔

آپ جان کر حیران ہوں گے کہ اس فہرست میں لندن چوتھے، نیو یارک چھٹے، واشنگٹن ڈی سی نویں اور پیرس دسویں نمبر پر موجود ہے، یعنی بیجنگ سے پیچھے۔

ہمارے وہ احباب جو پچھلے چند سالوں میں چین چھوڑ کر گئے ہیں ان کے مطابق چین سے باہر نکل کر ایسے لگتا ہے جیسے ماضی میں داخل ہو گئے ہوں۔

یہاں زندگی اس قدر تیز رفتار اور آسان ہے کہ اس کے بعد کہیں اور زندگی اس طرح آسان محسوس نہیں ہوتی۔

صرف بیجنگ کی بات کریں تو یہ جہاں ہی کوئی اور ہے۔ کوئی کام ہو بس اپنا فون نکالو، چند بٹن دبائو اور کام ڈن۔

بیجنگ نے ایسا کیسے کیا؟

چین پچھلے کئی سالوں سے مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور فائیو جی ٹیکنالوجیز کا استعمال کر کے اپنے شہروں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم چین سے باہر نکلتے ہیں تو ہمیں دنیا قدرے سست اور پرانی محسوس ہوتی ہے۔

کہاں چین میں 430 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چلنے والی شنگھائی میگلیو اور کہاں پاکستان میں سو سے ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چلنے والی ٹرینیں۔

اس وائٹ پیپر میں چین کو کنیکٹویٹی اور پائیداری کے اعتبار سے درجہ بندی میں شامل باقی تیس شہروں کے مقابلے میں زیادہ نمبر ملے ہیں۔

چین اپنے شہریوں کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ چین میں مغربی انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز بند ہیں لیکن چینی انٹرنیٹ اور پلیٹ فارمز چینی شہریوں کو بہترین اور تیز رفتار سروسز پیش کرتے ہیں۔

بیجنگ ڈیجیٹل فنانس میں دنیا کے تمام شہروں سے آگے ہے۔ چین میں لوگ اپنے موبائل فون کی مدد سے رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اب چاہے وہ ادائیگی ایک سوپر مارکیٹ میں کرنی ہو یا ایک چھوٹی سی ریڑھی پر۔

بس جیب سے فون نکالا۔ رقم کی ادائیگی کے لیے چسپاں کیو آر کوڈ سکین کیا اور پھر وی چیٹ یا علی پے کی مدد سے رقم ادا کر دی۔

بیجنگ کو سب سے زیادہ نمبر اپنے فضائی آلودگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ملے ہیں۔

کچھ سال پہلے تک بیجنگ کے رہائشی آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور تھے۔

چینی حکومت نے 1990 کے بعد بیجنگ میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیےسخت قوانین بنائے، ان پر عمل درآمد کا طریقہ بنایا، بہتر فضا کے حصول کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔

ٹرانسپورٹ فضائی آلودگی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔ چین نے اپنی پبلک ٹرانسپورٹ کو بجلی پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ 2000کے بعد چین کے دارالحکومت بیجنگ کی ہوا صاف ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بیجنگ کی ہوا میں کاربن مونو آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسی مہلک گیسوں کی مقدار کم ہو رہی تھی۔

ہر سال موسمِ سرما میں بیجنگ گہرے سموگ میں ڈوب جاتا تھا۔ 2012 کی سردیاں اس حوالے سے بدترین ثابت ہوئی تھیں۔

اگلے سال یعنی 2013 میں چین نے بیجنگ میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پانچ سالہ ایکشن پلان بنایا تھا۔ اس ایکشن پلان کے تحت فیکٹریوں اور صنعتوں سے نکلنے والے دھویں کے اخراج کے حوالے سے قوانین بنائے گئے تھے۔

عوام کے لیے پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصول آسان بنایا گیا۔

ان تمام اقدامات سے نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی آئی بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کااخراج بھی کم ہوا۔

ان کوششوں کا نتیجہ 2017 کے موسمِ سرما میں بیجنگ کے رہائشیوں کو اپنے سر کے اوپر نیلے آسمان کی صورت میں دکھائی دیا۔ اس سے پہلے انہیں اوپر دیکھنے پر دھویں کی ایک چادر دکھائی دیتی تھی۔

بیجنگ مشترکہ معیشت کے نظریے کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ اس کی مثال کار پول یا کرائے پر حاصل کی جانے والی سائیکلیں یا گاڑیاں ہیں۔

ڈیجیٹل شہروں میں انٹرنیٹ کتنا آزاد ہے، یہ بھی بہت معنی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہاں مار کھا جاتا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ پر عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے یہاں بیجنگ کا سکور پچاس سے کم ہو جاتا ہے۔

اس کے باوجود بیجنگ رہائش کے لیے ایک بہترین شہر ہے۔ یہاں دنیا کی ہر سہولت بس ایک کلک پر موجود ہے اور یہی دنیا کا مستقبل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …