بدھ , 6 جولائی 2022

اسرائیل اور لبنان کے قدرتی گیس کے ذخائر

تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

بحیرہ روم میں قدرتی گیس کے ایسے وسیع ذخائر موجود ہیں جو لبنان اور فلسطین کے درمیان مشترک ہیں۔ یہ ذخائر ناقورا لائن کے شمال اور جنوب میں واقع ہیں اور چونکہ یہ خطہ لبنان کا جنوبی ترین حصہ اور فلسطین کا شمالی ترین حصہ قرار پاتا ہے لہذا یہ ذخائر دونوں کے مشترکہ جانے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ہر ملک کے ساحل پر ایک خاص فاصلے تک سمندری حدود پائی جاتی ہیں۔ اس وقت لبنان کے جنوب میں واقع شبعا کھیت اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے قبضے میں ہیں اور اقوام متحدہ بھی اس علاقے کو مقبوضہ قرار دے چکی ہے۔ لہذا لبنان کی سمندری حدود شبعا کھیتوں سے شروع ہوتی ہیں۔ یوں لبنان کی سمندری حدود تقریباً 2300 مربع کلومیٹر کے علاقے پر مشتمل ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم شبعا کھیتوں کو لبنان کی سرزمین کا حصہ نہیں سمجھتی اور اس کی سمندری حدود کو ان کھیتوں کے پیچھے سے حصار کرتی ہے جس کے نتیجے میں لبنان کی سمندری حدود کم ہو کر 830 مربع کلومیٹر رہ جاتی ہیں۔ اس اختلاف کا اثر اس وقت سامنے آیا جب غاصب صہیونی رژیم نے سمندر میں قدرتی گیس کے ذخائر کی تلاش شروع کی۔ درحقیقت غاصب صہیونی رژیم نے تیل اور گیس کی یہ تلاش تقریباً دس برس پہلے شروع کی تھی اور اس وقت وہ سمندر سے گیس اور تیل نکالنے میں مصروف ہے۔ صہیونی حکمران لبنان کی جانب سے شدید ردعمل سے بچنے کیلئے اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ وہ گیس اور تیل کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ گیس اور تیل نکال کر فروخت بھی کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنی تازہ ترین تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان کی سمندری حدود میں غاصب صہیونی رژیم کے غیرقانونی اور جارحانہ اقدامات کا جواب دیں گے۔ سید حسن نصراللہ نے غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے لبنان کی سمندری حدود سے گیس نکالنے کو لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ لبنانی حکومت نے بھی اب تک اس بارے میں دو ٹوک اور واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ سابق لبنانی وزیراعظم حسان دیاب نے کچھ عرصہ پہلے اس بارے میں ایک حکومتی منصوبہ صدر کے دفتر جمع کروایا تھا۔ اس منصوبے میں صہیونی حکمرانوں اور لبنانی ماہرین کی متضاد آراء کے مقابلے میں ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سید حسن نصراللہ نے اپنی حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ حزب اللہ لبنان، حکومت کے موقف کا انتظار کرے گی اور اس مسئلے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حزب اللہ لبنان لبنان کی خودمختاری اور لبنانی عوام کے حقوق کا دفاع کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ سید حسن نصراللہ نے غاصب صہیونی رژیم کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف مسلح کاروائی کی جائے گی۔ لہذا اب لبنانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کا تعین کب کرتی ہے اور آیا شبعا کھیتوں کو سمندری حدود کے تعین کی بنیاد بناتی ہے یا ان سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے یہ کام انجام دیتی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے ساتھ ساتھ امل تحریک نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس مسئلے میں لبنان کے صدر جو بھی موقف اختیار کریں گے اسے قبول کیا جائے گا۔

بحیرہ روم میں قدرتی تیل اور گیس کے ذخائر، لبنان میں پائی جانے والی اقتصادی مشکلات کے تناظر میں بھی بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ لبنان کی معیشت تین اہم ستونوں پر استوار ہے جن میں سیروسیاحت، زراعتی محصولات کی پیداوار اور گیس کی پیداوار شامل ہیں۔ سیروسیاحت اور زراعتی محصولات کی پیداوار لبنانی معیشت کا 60 فیصد جبکہ گیس کی پیداوار 40 فیصد حصہ پورا کرتی ہے۔ لبنان اور شام میں سکیورٹی بحران رونما ہونے کے بعد سیروسیاحت کی صنعت شدید صدمے سے دوچار ہوئی ہے جبکہ زراعتی محصولات کی برآمدات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ لہذا اس وقت لبنان کو اپنی معیشت بہتر بنانے کیلئے گیس کی برآمدات کی شدید ضرورت ہے۔ اسی لئے سید حسن نصراللہ نے بہت واضح انداز میں گیس کے ذخائر کو لبنان کیلئے بہت اہم قرار دیا ہے۔

لبنان میں اسلامی مزاحمت نے اب تک اس ملک کی خودمختاری، سالمیت اور حق خود ارادیت کو مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی مزاحمت کی فوجی طاقت ہمیشہ سے قومی وقار اور طاقت کا باعث بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند عشروں کے دوران اسرائیل نے لبنان میں اندرونی فتنے پھیلا کر اسلامی مزاحمت کی فوجی طاقت کو متنازعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن حزب اللہ لبنان کی بابصیرت قیادت نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ لبنان کی سمندری حدود کے دفاع کے مسئلے پر لبنان کے عیسائی صدر، سنی وزیراعظم، شیعہ پارلیمنٹ اسپیکر اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ لہذا حزب اللہ لبنان نے غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے اپنی سمندری حدود کی ممکنہ خلاف ورزی پر فوجی طاقت بروئے کار لانے کی دھمکی دی ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …