بدھ , 6 جولائی 2022

بجٹ، آئی ایم ایف اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں

تحریر: محمد ابراہیم خلیل

تقریباً ڈیڑھ عشرہ قبل تک بجٹ آئی ایم ایف کے سخت شکنجے سے آزاد ہوتا تھا ، عوام دوست ہوتا تھا ، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ بجٹ پیش کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کے لیے ریلیف کی کوئی صورت نکالی جائے۔ اس کے اوپر سے مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جائے۔

بجٹ خسارہ کم سے کم رہے۔ پہلے بجٹ کا حجم بھی کم ہوتا تھا کیونکہ روپے کی قدر بڑھی ہوئی ہوتی تھی ، ڈالر ریٹ کم تھے۔ 1990 کی دہائی میں 1994-95 کا بجٹ عوام کے لیے مہنگائی کا تحفہ لے کر نمودار ہوا تھا۔ اس بجٹ کا حجم محض 3کھرب 85 ارب روپے تک تھا۔ بجٹ خسارہ صرف 45 ارب 50 کروڑ روپے کا تھا۔

بجٹ پیش کرنے کے بعد سیمنٹ، ٹیکس اور بسوں کے کرایوں میں اضافہ ہوا۔ بہت سی ملکی مصنوعات اور درآمدی مصنوعات بھی مہنگی ہو کر رہ گئیں۔ پھر کئی سال کے تجربے کے بعد حکومت نے جب 13 جون 1997 کا بجٹ پیش کیا تو اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا۔

سیمنٹ پر سیلز ٹیکس ختم، فون کالز کی شرح میں 20 فی صد کمی۔ واضح رہے کہ اس وقت موبائل فون نہیں آئے تھے۔ بہت سی اشیا پر سیلز ٹیکس ختم کرنے سے یا کم کرنے سے ملکی ترقی میں اضافہ ہوا۔ اس سال کے مارچ کے ماہ میں (ن) لیگ نے عنان اقتدار سنبھالا تھا اور اسی سال پاکستان کی گولڈن جوبلی بھی منائی جا رہی تھی۔ تاجروں نے اس بجٹ کو عوامی اور گولڈن جوبلی کا تحفہ قرار دیا۔ ان دنوں آئی ایم ایف کا اتنا شور و غوغہ نہیں تھا۔ نئی صدی کے آغاز پر جب 17جون 2000 کو بجٹ پیش کیا گیا تو انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کردی گئی۔ چھوٹے سرکاری ملازمین کو سالانہ ایک اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ تعلیمی بجٹ 32 فی صد بڑھا دیا گیا۔

اسی مہینے ہائی اسپیڈ اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں محض 70 پیسے اور 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 13روپے 50 پیسے ہوگئی اور لائٹ ڈیزل 11روپے فی لیٹر دستیاب ہونے لگا۔ آئی ایم ایف کا کوئی خاص دباؤ تو تھا نہیں یوں بھی کافی عرصے بعد قیمت میں معمولی اضافہ کیا گیا تھا۔ جون 2001 بجٹ کا حجم 758 ارب روپے کا تھا۔

4 سو اشیا کی ڈیوٹی میں کمی کردی گئی، بجٹ خسارہ محض ساڑھے 10 ارب روپے کا تھا۔ کھاد، سریا، ٹن پلیٹس اور کئی اشیا سے ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی گئی۔ پنشن میں 5 سے 15 فی صد تک اضافہ ہوا۔ یعنی اعلیٰ گریڈ والوں کو کم اضافہ دیا گیا۔ 2002 کے بجٹ کے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا۔ آئی ایم ایف کی طرف سے کچھ شرائط کا نفاذ ہونے لگا۔ گھی اور تیل 15فی صد مہنگا کر دیا گیا۔ 7 جون 2003 بجٹ پیش کرنے کے موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے آخری قرضہ لیں گے۔ لیکن اب تک ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

پرویز مشرف کے دور حکومت میں قرضوں سے چھٹکارے کے لیے بہت سی تجاویز مرتب کی گئیں۔ ان پر عمل درآمد کا عزم بھی کیا گیا ، لیکن قرض لیتے چلے گئے۔ پھر جمہوری حکومتیں آئیں اور قرض کا بار بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کا شکنجہ بھی مضبوط ہوتا چلا گیا۔ 2007 تک تو ڈالر کے پَر کٹے رہے لیکن 2008 کے الیکشن ہوتے ہی ڈالر نے آئی ایم ایف کی شے پر اڑان ایسی بھری کہ اب دنیا حیرت سے اسے تکتی ہے اور پاکستانی روپے کی ایسی بے قدری شروع ہوئی کہ پاکستانی عوام روپے کو اب حسرت سے دیکھتے ہیں۔ افسوس کے سوا اب اور کیا کرسکتے ہیں اب تو سالہا سال سے بجٹ آئی ایم ایف زدہ ہونے کے باعث عوام کے لیے کوئی ریلیف کوئی نوید لا ہی نہیں سکتا۔

پھر تو ایسے بجٹ عوام پر مہنگائی بم گرانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ملک کی اکثریتی آبادی کو ستانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ایسے بجٹ غریبوں کے دکھ درد کے مداوے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ غریبوں کے غموں کو بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ لہٰذا قرض سے نجات کے نسخے آزمائے جائیں۔ معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی تدبیریں کی جائیں۔ ورنہ کب تک بجلی، گیس، پٹرول وغیرہ وغیرہ کی قیمت بڑھاتے چلے جائیں گے۔ چنانچہ اس آفت زدہ ماحول میں نئی حکومت نے 9 ہزار 5 سو دو ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا جس میں 3 ہزار 798 ارب روپے سے زائد کا خسارے ہی خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ البتہ زرعی آلات، بیج، سولر پینل، ادویات سستی کردی گئیں۔

طلبا کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان قسطوں میں دینے کا اعلان کیا، کئی سال قبل مفت دیا جاتا تھا۔ اب جب قسطوں میں ہی دینا ہے تو دائرہ وسیع کیجیے اور جو بھی قسطوں میں خریدنا چاہتا ہے حکومت اس کے لیے اسکیم کو آسان کرکے نافذ کرے، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور پڑھے لکھے بے روزگاروں کے لیے روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بھی ہے۔

تنخواہوں میں 15 فی صد اضافہ اور پنشن یافتہ کے لیے محض 5 فی صد اضافہ کیا گیا۔ کیونکہ نئی حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی 10 فی صد اضافے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ تو معلوم کر لینا چاہیے کہ 2020 میں پنشن میں قطعی اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس بات کی تحقیق کرکے ان کی اس محرومی کا مداوا کیا جائے کم ازکم گریڈ 17تک کے ملازمین کی پنشن میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بھی مہنگائی کا مقابلہ کرسکیں۔

اعلان کیا گیا کہ مہنگائی کی شرح 11.5 فی صد پر لائی جائے گی اس وقت 24 فی صد ہے۔ ادھر ایک بار پھر چند دنوں کے وقفے سے تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ان حالات میں مہنگائی کی شرح کو کس طرح نصف کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی سمجھ میں صرف ایک ہی نسخہ آتا ہے جو آئی ایم ایف کے ہاتھوں لکھا ہوا ہے۔

اس طرح قیمت بڑھاتے چلے جانے سے معاشی ترقی کی شرح جس کا ہدف 5 فی صد مقرر کیا گیا ہے وہ کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ معکوس ترقی ہوگی۔ صنعت و حرفت جمود کا شکار ہوکر رہے گی۔ عالمی کساد بازاری کی وبا پاکستان پر زیادہ اثرانداز ہوگی۔ لہٰذا بجٹ کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں تاکہ روپے کے قدم مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جائیں اور ڈالر کے قدم اکھڑتے چلے جائیں ، تب کہیں جا کر حکومت بھی عوام دوست بجٹ پیش کرسکتی ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …