بدھ , 6 جولائی 2022

یورپی پارلیمان کا صہیونی ریاست کو نسل پرست قرار دینے کا اعلان

اسرائیل کے خلاف “مقاطعہ، عدم سرمایہ کاری اور پابندیوں” (Boycott, Divestment and Sanctions [BDS]) کی تحریک (بائیکاٹ تحریک) – جو صہیونی ریاست کو تنہا کرنے کی بین الاقوامی تحریک ہے – نے اپنے ایک بیان میں اس قرارداد کی منظوری پر کاتالونیا کی پارلیمان کی حمایت کرتے ہوئے مذکورہ پارلیمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
بائیکاٹ تحریک نے اپنے بیان میں کہا ہے: “اس قرارداد کے بدولت کاتالونیا کی پارلیمان پہلی یورپی پارلیمان کی حیثیت سے جانی جائے گی جس نے تسلیم کیا ہے کہ فلسطین کی مقبوضہ سرزمین کے مقابلے میں اسرائیلی نظام بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور کے آرٹیکل 7/2 کے مطابق نسل پرستی اور اپارتھیڈ کے جرم کا عین مصداق ہے”۔
بائیکاٹ اسرائیل تحریک نے توقع ظاہر کی ہے کہ کاتالونیا کی پارلیمان کا یہ دلیرانہ فیصلہ ہسپانیہ کی دوسری علاقائی پارلیمانوں کے لئے نمونہ عمل بنے گا اور وہ بھی اسی راستے پر گامزن ہو جائیں گی۔
کاتالونیا کی پارلیمان کی قرارداد میں کاتالونیا اور ہسپانیہ کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام سفارتی اور سیاسی وسائل کو بروئے کار لا کر اسرائیلی حکام کو ایمنسٹی انٹرنیشل اور ہیومین رائٹس واچ کی سفارشات پر عملدرآمد پر آمادہ کریں۔
اس قرارداد میں اسرائیلی اداروں کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں میں انسانی حقوق کے مسائل کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل نے اس سال (مورخہ 20 اپریل 2022ع‍ کو) نے صہیونی ریاست کو اپارتھیڈ نظام قرار دے کر اعتراف کیا کہ اس ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام اور ان پر صہیونیوں کا تشدد اور ان کے حقوق سلب کرنا، “انسانیت کے خلاف جرم” ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل 20 اپریل کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا: “اپارتھیڈ ریاست محض ماضی کا حصہ [اور جنوبی افریقہ کے سابق نظام حکومت تک محدود] نہیں ہے، بلکہ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں کئی ملین فلسطینیوں نے جھیل لیا ہے اور یہ آج بھی جاری ہے”۔
مذکورہ بین الاقوامی ادارے نے مزید بیان کیا ہے کہ وہ غیر قانونی قتلوں، خودسرانہ حراستوں، تشدد اور اجتماعی سزاؤں سے متعلق رپورٹوں کو دیکھ رہا ہے اور ان مسائل کی نگرانی کر رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل نے اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے: “اپارتھیڈ نظام ایک گروہ کی جانوں کو دوسرے گروہ سے زیادہ اہم سمجھتا ہے اور اسرائیل اپنی اپارتھیڈ ریاست کو فلسطینیوں کے قتل عام، ان کے حقوق سلب کرنے [اور چھین لینے] کے سہارے قائم رکھتا ہے اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سہارے اسے تحفظ فراہم کرتا ہے؛ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے جس کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے”۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

بشکریہ ابنا نیوز ایجنسی

یہ بھی دیکھیں

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا …