بدھ , 6 جولائی 2022

اسرائیلیوں پر مقاومتی بلاک کے پچھلے ایک سال میں 8650 حملے

مترجم سید ذیشان الحسنی

ایران کے قدیمی و رسمی اخبار کیہان میں سعد اللہ زارعی کا اسرائیل کی ناتوانی و ضعف پر بہترین تجزیہ شواہد و ادلہ کے ساتھ…

یہ کالم دراصل جواب ہے ان افراد کے لیے جو یہ توہم و گمان کر رہے ہیں کہ ایران اب اسرائیل سے سہمہ سہمہ اور دفاعی پوزیشن پر آ چکا ہے۔

کالم کے آغاز میں ہی یہ کہا گیا ہے کہ مکمل جرات اور دلیل کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی دو دہائیوں میں اسرائیل و آمریکا کسی ایک مقام پر بھی فتح نہیں پا سکے لیکن اپنی سیاسی ایڈورٹاییز منٹ سے یہ شو کرتے ہیں کہ ابھی تک امور کی لگام انکے ہاتھوں میں ہے اور ایسے لوگ جو حقائق کو اپنی آنکھوں سے سے نہیں دیکھ سکتے وہ انکے پرانے کھوکھلے دعووں کو مان لیتے ہیں
. انکی نظر میں امریکہ ابھی بھی قدرت و تسلط کا مظہر ہے اور اسرائیل دنیا کی چوتھی بڑی فوج کا حامل ہے حالانکہ اگر یہ اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ انکا پاور شو اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے…

امریکہ جو کہ افغانستان سے 20 سال بعد ذلیل ہو کر بھاگا ہے اور اپنی بڑی سرمایہ کاری کو لاوارث چھوڑنے پر مجبور ہوا اب وہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر بھی تسلط قائم کرنے کی قدرت رکھتا ہے حالانکہ افغانستان ایران کے مقابلے میں قابلِ ذکر قدرت و توانایی نہیں رکھتا تھا…

آج سے 30 سال پہلے تک اسرائیل اوسلو اور ماڈرید معاہدہ کے درمیان مستی کے عالم میں تھا جب اسکے مقابلے میں کسی عرب دنیا میں کوئی مقاومتی تحریک نہیں تھی لیکن پھر بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا… آج اسکی حالت یہ ہے کہ وہ ناخواستہ چھ مٹری دیوار میں مقيد ہو گیا ہے…
اپنی آخری جنگ سیف القدس میں دراصل اس نے خود فلسطین سے جنگ بندی کی بھیک مانگی تھی جبکہ وہ ظاہر یہ کرتا ہے کہ ایران سے جنگ لڑنے کے لیے پر تول رہا ہے.. یہاں کچھ حقائق بیان کرنا چاہ رہا ہوں….
1.امریکی حکومت اپنے کھوکھلے ترین دور سے گزر رہی ہے.. 2020 کے انتخابات امریکی حکومت و معاشرے کے لئے ایک گہرا گڑھا ثابت ہوئے ہیں…
اسلحہ مخالف گروہ کے کانفرنس پر حملے سے پانچ افراد کی ہلاکت 1500 سے زائد کا زخمی ہونا جن میں سے 500 افراد تقریباً پولیس کے تھے اور 800 افراد کی گرفتاری سے امریکی غبارے کی حقیقت کا علم ہوتا ہے…

ایک سروے کے مطابق 74 فیصد امریکی یوکرائن کی جنگ میں امریکہ کی شرکت کے مخالف ہیں اور 64 فیصد امریکی روس کو خطرناک دشمن تصور کر رہے ہیں…
یہ دو رائے درحقیقت انکے اضطراب و دگرگونی داخلی کی علامت ہے…

.امریکی قرض انکی درآمد کے برابر ہو چکا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کہیں پر نئی سرمایہ گزاری نہیں کر سکتا یہاں تک کہ پرانے منصوبوں کی دوبارہ تعمیر کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے…

انتخابات کمپین میں جب باییڈن نے یہ کہا کہ امریکہ کو اپنے بحران دور کرنے کے لیے 1000 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تو ٹرامپ نے فورا یہ کہا کہ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے تو باییڈن سے جواب نہ بن پایا اور کہا کہ لوگ اس رقم کو ادا کریں گے…

یہ ہی وجہ ہے کہ جب یوکرائن کا مسئلہ شروع ہوا تو توانائی ذخائر کی 70 فیصد سے زائد قیمتیں بڑھ گئی جس سے باییڈن نے امریکہ کی ریڈ لائن کو کراس کرتے ہوئے ونزویلا سے مذاکرات کئے جو انکی ان ہی پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا….

اسی ایک سال میں ڈالر کو بھاری جھٹکا لگا جب روس نے پیٹرول و گیس کے خریداروں سے روبل روسی میں معاملہ طے کیا اور جرمنی نے باقاعدہ رسمی طور پر روسی کرنسی کو ڈالر کا بديل قرار دیا ہے جبکہ امریکہ کچھ بھی نہیں کر سکا…

.امریکا سیاسی طور پر بھی روس کے مقابلے میں کوئی مضبوط بلاک نہیں بنا سکا بس باییڈن نے اسی اعلان پر اکتفا کیا کہ 20 ممالک روس پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں اب یہ ممالک کتنے قدرتمند ہیں اسکا کسی کو کچھ نہیں پتہ کیوں کہ اصلا انکا نام نہیں لیا گیا…

یوکرائن کا مسئلہ امریکہ و یورپ کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے.. کیونکہ پوٹن کے دور میں کئی سالوں سے روس اقتصادی، عسکری و سیاسی حوالے سے ابھر رہا تھا جس سے امریکہ و انگلینڈ و فرانس کو پریشانی لاحق تھی جب جنگ شروع ہوئی تو بعض نے کہا کہ بس اب پوٹن یورپ کے ہاتھوں شکست کھا جائے گا اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ روس انکے سوشل اتحاد سے مضبوط نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی کا یورپ بیسویں سے کمزور ہے لہذا ممکن ہے کہ روس کو فتح نصیب ہو ممکن ہے کہ نہ ہو لیکن یہ کہنا کہ یورپ جیت جائے گا بالکل ممکن نہیں….

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناروے و فن لینڈ سے نیٹو میں نتیجہ مل سکتا ہے، نیٹو ذیادہ مضبوط و منسجم ہے لیکن انہیں یہ بھول گیا ہے کہ نیٹو سوريا کے مسئلے کو جیسے حل کرنا چاہتا تھا ویسا نہیں کر سکا.. یہ ہی نیٹو افغانستان میں امریکا کے ساتھ ملا لیکن جیسے ہی اسے اندازہ ہوا کہ یہ کچھ نہیں کر سکتا ساییڈ پر ہو گیا…

لہذا اس بار اسکے سامنے طالبان جیسا چھوٹا گروہ نہیں کہ جنکے پاس کوئی سٹریٹجی بھی نہیں تھی اور نہ ہی شام جیسا محاصرہ شدہ ملک بلکہ روس کی حکومت اور اسکی توانا فوج ہے اسی لئے یورپ بالکل جنگ کو طول دینے کا متحمل نہیں لہذا ان آخری دنوں میں جو مختلف یورپی ممالک کے سفارتکاروں و عہدے داروں کا یوکرائن میں سفر تھا وہ جس خاطر بھی ہو لیکن جنگ کو طولانی کرنے کے لیے ہرگز نہیں تھا..

2.*اب اسرائیل کیطرف آتے ہیں جو کہ یہ دعویٰ کرتا نظر آتا ہے* کہ امریکی و عربی اتحاد کے ساتھ ایران کو ٹارگٹ کر سکتا ہے یہ ہرگز اس کام کی قدرت نہیں رکھتے کہ امریکی و سعودی و اماراتی ڈھال کے ایران پر غلبہ پا لے.. یہ ہی ایک ماہ پہلے نئے چیف سنٹکام نے امریکی پارلیمنٹ میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور یہ ہی کچھ ماہ پہلے امارات کے سرکاری وفد نے تہران میں کہا ہے کہ ہم کسی آنٹی ایران اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے اور جہاں تک سعودیہ کا تعلق ہے تو اس نے اپنے حالات بہتر کرنے اور یمن جنگ کی مینجمنٹ کے حوالے سے ایران کے ساتھ پانچ دوروں پر مشتمل مذاکرات بغداد میں کر چکا ہے.. یہاں ہی سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کی پشت خالی ہے…

2021 میں اسرائیلی حکومت پر 10850 فلسطینی جہادی حملے ہوئے جن میں سے وہ فقط 2200 کی شناخت یا انہیں ناکام کر سکا.
یہ رژیم اس سال 3693 مسلحانہ فلسطینی حملوں کا شکار ہوا.
انہی کچھ مہینوں میں اس رژیم کے 30 فوجی ہلاک ہوئے.
پچھلے سال 190 مليون ڈالرز کا اسرائیلی اسلحہ فلسطینیوں کے ہاتھ لگا.
اسرائیل رژیم پچھلے تین سالوں میں 4 بار پارلیمنٹ الیکشن کروا چکا ہے اور اب پانچویں بار کی تیاری میں ہے.. إن حالات میں موجود بینیٹ کی اتحادی حکومت لڑکھڑاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور کسی ایک کے استعفے سے ختم ہو سکتی ہے..

اب إن حالات میں جب کہ وہ خود 10850 بار حملوں کا شکار ہو چکا ہے وہ خیالی تصویر سازی کرتے ہوئے ایران پر کچھ امنیتی حملے کر چکا ہے جسکے نتیجے میں کچھ انگشت شمار افراد کو شہادت ملی ہے جبکہ اسی پچھلے سال میں 30 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے چار بڑے عہدے کے آفیسرز تھے اور ایک ان میں سے خود تلابیب میں تھا.
اسی ایک سال میں انکے اسلحہ سازی کا بڑا کارخانہ تباہ کر دیا گیا ہے کہ جس میں ماڈرن ترین اسلحے تیار کئے جاتے تھے جسے بچانے میں اسرائیل ناکام رہا…

یہ رژیم کہ جو نظنز یا کرج میں کچھ نقصان پہنچانے پر اپنی پاور شو کرنا چاہ رہا ہے یہ اسکی خام خیالی ہے کیونکہ جو نقصان خود انہیں ہوا ہے یہ اسکے مقابلے میں ایسے ہی ہے جیسے سو کے مقابلے میں ایک ہو….

سعد اللہ زارعی کی اس تحلیل کے بعد عزیزان گرامی ایک نکتے کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے کہ فلینظر الانسان الی طعامہ… اسکا جہاں لفظی مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے کھانے کیطرف دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کھا رہا ہے وہاں یہ بھی تفسیر ہو سکتی ہے کہ انسان کو اپنے علم و معلومات کو بھی دیکھنا چاہیے کہ کہاں سے لے رہا ہے… اگر سیاسی تحلیل کا مصدر دشمن کے چینلز ہوں یا اپنی خیال پردازی ہو یا پھر مخصوص مقتدر حلقوں کی رضایت جلب کرنا ہو یا پھر کسی کے بغض و عناد میں حقائق سے چشم پوشی ہو تو آپ کبھی درست تحلیل نہیں کر سکتے….

یہ بھی دیکھیں

دعا کیس کے تفتیشی افسر سے ضمنی چالان طلب

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو نے دعا زہرا کےمبینہ اغواء کے کیس کی سماعت …