بدھ , 28 ستمبر 2022

جی ایس پی پلس کنونشنز کے مؤثر نفاذ کا جائزہ لینے کیلئے یورپی یونین مشن کی پاکستان آمد

اسلام آباد: یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن برائے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) بدھ کو اسلام آباد پہنچ گیا ہے جہاں وہ 27 بین الاقوامی کنونشنز کے مؤثر نفاذ کا جائزہ لے گا۔

یہ جائزہ ٹیرف لائنوں کے 66 فیصد کے لیے کسی قسم کی ڈیوٹی کے بغیر یورپی یونین کی منڈیوں میں اشیا برآمد کرنے کی اہلیت کے حصول کے لیے مشروط ہے۔

کنونشنز کا تعلق انسانوں اور مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور گڈ گورننس سے ہے۔ یورپی یونین متعلقہ 27 بین الاقوامی کنونشنوں کے نفاذ کی مسلسل نگرانی کرتا ہے جو کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی رپورٹوں اور معلومات پر ہے جو متعلقہ کنونشن کے محافظ ہیں۔

جیس ایس پی پلس کمزور ترقی پذیر ممالک سے یورپی یونین کو درآمدات کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیرف کی ترجیحات فراہم کرتا ہے تاکہ غربت کے خاتمے، پائیدار ترقی اور عالمی معیشت میں ان کی شرکت کے ساتھ ساتھ اچھی حکمرانی کو تقویت دی جاسکے، یہ ترجیحی حیثیت جی ایس پی پلس ان ممالک کے لیے مشروط ہے جو 27 بین الاقوامی کنونشنوں کے نفاذ پر ٹھوس پیش رفت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

یورپی یونین مانیٹرنگ مشن 27 بین الاقوامی کنونشنز کے مؤثر نفاذ کا جائزہ لے گا جہاں پاکستان اس پر دستخط کرنے والا ہے۔

جی ایس پی پلس پاکستانی کاروبار کے لیے بہت فائدہ مند رہا ہے جس سے یورپی یونین مارکیٹ میں ان کی برآمدات میں 2014 میں 65 فیصد اضافہ ہوا تھا، 44کروڑ سے زائد صارفین کی حامل یورپی سنگل مارکیٹ پاکستان کی سب سے اہم منزل ہے، پاکستان کی 12 کھرب روپے کی برآمدات بنیادی طور پر گارمنٹس، بیڈ لینن، ٹیری تولیے، ہوزری، چمڑے، کھیلوں اور جراحی کے سامان پر مشتمل ہیں۔

‎اسلام آباد میں یورپی یونین کے مشن نے اعلامیے میں کہا کہ جیسا کہ اعلیٰ نمائندے اور نائب صدر جوزپ بوریل فونٹیلس نے زور دیا ہے، جی ایس پی اسکیم پائیدار ترقی کے لیے یورپی یونین اور پاکستان کے مشترکہ عزم کے بارے میں ہے۔

ایگزیکٹو نائب صدر اور کمشنر برائے تجارت ویلڈس ڈوم بروسکی نے کہا کہ نے کہا کہ 2021 میں پانچ دہائیوں تک یو رپی یونین جی ایس پی نے کمزور ممالک کو یورپی یونین کی منڈیوں تک ترجیحی رسائی دے کر پائیدار طریقے سے ترقی کرنے میں مدد کی ہے، اس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اپنی معیشتوں کو متنوع اور ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد ملی ہے۔

اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران، مشن حکومت، اقوام متحدہ کی پاکستان میں ٹیم، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، کاروباری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کرے گا، مشن کے نتائج اگلی جی ایس پی رپورٹ کا حصہ ہوں گے، جو 2022 کے آخر تک یورپی پارلیمنٹ اور کونسل کو پیش کی جانی ہے۔

پاکستان کے علاوہ یورپی یونین اس وقت بولیویا، کابو وردے، کرغزستان، منگولیا، فلپائن، سری لنکا اور ازبکستان کو یکطرفہ طور پر جی ایس پی پلس ٹیرف کی رعایتیں دیتی ہے، موجودہ جی ایس پی فریم ورک دسمبر 2023 میں ختم ہو رہا ہے اور اگلے دورانیے کے لیے قانون سازی جاری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات ہوئی تو قوم سے معافی مانگ لوں گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات …