جمعہ , 1 جولائی 2022

بینکوں کو ورک فرام ہوم کی پالیسی بنانے اور کفایت شعاری سے ایئر کنڈیشنرز استعمال کرنے کی ہدایت جاری

سرکلر میں کہا گیا کہ بینک اپنی برانچز سمیت تمام دفاتر شام 7 بجے یا جلد بند کریں اور ہنگامی استعمال، کال سینٹرز، آلٹرنیٹیو ڈیلیوری چینلز کی نگرانی، بیک اپ اور ضروری برقی، آئی ٹی آلات کے سوا بجلی کی فراہمی بند کر دیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے توانائی بچانے کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایک سرکلر کے ذریعے بینکوں کو ورک فرام ہوم کی پالیسی بنانے اور کفایت شعاری سے ایئر کنڈیشنرز استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایس بی پی نے بینکوں اور مائیکرو فنانس بینکس کے علاوہ مالیاتی ترقی کے اداروں کے سی ای اوز کو ہدایت کی کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیشِ نظر انہیں ایندھن کی بچت کرنی چاہیے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکوں سے متصل اے ٹی ایمز پر لگے ایئر کنڈیشنرز کو کفایت شعاری سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سرکلر میں کہا گیا کہ بینک اپنی برانچز سمیت تمام دفاتر شام 7 بجے یا جلد بند کریں اور ہنگامی استعمال، کال سینٹرز، آلٹرنیٹیو ڈیلیوری چینلز کی نگرانی، بیک اپ اور ضروری برقی، آئی ٹی آلات کے سوا بجلی کی فراہمی بند کر دیں۔ مرکزی بینک کا مزید کہنا تھا کہ برانچوں اور دیگر دفاتر کے برقی سائن بورڈز کو تمام وقت بند رکھا جائے۔ سرکلر میں اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینک ایسی پالیسی تشکیل دیں کہ دفاتر ہر ہفتے میں ایک سے دو روز گھر سے کام کریں تا کہ ارادی مقاصد حاصل ہوں۔

ساتھ ہی بینکوں کو اپنے اجلاس ورچوئلی کرنے، ملکی اور غیر ملکی سفر کے اخراجات محدود کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ عملے کو دفاتر تک پہنچنے کے لیے مشترکہ ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب اور بینک عملے کی آمدو رفت کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات اٹھائے جائیں۔ علاوہ ازیں بینکوں کو توانائی کے متبادل اور سستے ذرائع بھی استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی جس میں دفاتر میں شمسی ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت کرنے والے آلات کا استعمال شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکس بجلی اور ایندھن کی بچت کے دیگر اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مرغیوں کی آواز سے اضطراب نوٹ کرنے والا سافٹ ویئر

ہانگ کانگ:  ڈیپ لرننگ الگورتھم پولٹری فارم میں جانوروں کی بہتری اور نگہداشت میں اہم …