جمعہ , 7 اکتوبر 2022

قدیم افغان بدھسٹ شہر کو چینی تانبے کی کنسورشیم کان سے خطرات


کابل کے قریب بڑی چٹانوں میں تراشا گیا قدیم بدھ مت شہر ہمیشہ کے لیے دفن ہونے کے خطرے سے دوچار ہے جہاں چینی کنسورشیم دنیا کے سب سے بڑے تانبے کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے مصروف عمل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے حوالے سے ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یونانی اور ہندوستانی ثقافت کے سنگم پر واقع بدھ مت کا یہ شہر میس عینک کے نام سے جانا جاتا ہے، اس شہر کے حوالے سے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ایک سے 2 ہزار سال پرانا ہے جو کہ کسی زمانے میں تانبا نکالنے اور تجارت سے جڑا ایک وسیع شہر تھا۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس قدیمی شہر میں بدھ خانقاہوں، اسٹوپاوں، قلعے، انتظامی عمارتوں اور رہائش گاہوں سے پردہ ہٹایا، جبکہ سیکڑوں مجسمے، فریسکوز، سیرامکس، سکے اور مخطوطات بھی اس شہر سے دریافت کیے جاچکے ہیں۔
فرانسیسی کمپنی آئیکونیم کی ماہر آثار قدیمہ باسٹین وروتسیکوس جو اس شہر اور اس کے ورثےکو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور اس شہر کے حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ اس صدی کے آغاز میں لوٹ مار کے باوجود میس عینک دنیا کے سب سے خوبصورت آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ قدیم ورثہ اب افغان طالبان کی مالی ضرورت کو پورا کرنے لیے اپنی تاریخ کے دفن ہونے کے قریب ہے کیونکہ گزشتہ برس اگست میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد افغانستان کو فراہم کی جانے والی بین الاقوامی امداد بند ہوگئی تھی، جس کے بعد سے طالبان حکومت آمدنی کے نئے وسائل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی اور انہوں نے اس کے حصول کے لیے اس منصوبے کو ترجیح دی ہے جس کے بعد مزید آثار قدیمہ کا کام رک جائے گا۔

کان کنی کنسورشیم
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدیمی شہر سے دریافت شدہ اشیا بنیادی طور پر دوسری سے نویں صدی عیسوی کے درمیان کی ہیں لیکن اس سے پہلے کے قبضے کا بھی امکان سمجھا جاتا ہے اور کانسی کے زمانے سے تعلق رکھنے والے مٹی کے برتن بھی پائے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بدھ مت کی پیدائش سے بہت پہلے کے ہیں۔
1960 کی دہائی کے اوائل میں ایک فرانسیسی ماہر ارضیات کی جانب سے ان آثار قدیمہ کی دوبارہ دریافت سے پہلے صدیوں تک بھولے ہوئے صوبے لوگر میں واقع میس عینک شہر کی اونچائی اور اہمیت کا موازنہ پومپی اور ماچو پچو کے آثار قدیمہ سے کیا جاتا ہے۔

یہ قدیمی کھنڈرات جو ایک ہزار ہیکٹر پر محیط ہیں، ایک بڑی چوٹی پر اونچی جگہ پر موجود ہیں اور سرخی مائل چٹانیں تانبے کی موجودگی کو بھی چھپاتی ہیں۔

لیکن 2007 میں چینی کان کنی کی بڑی کمپنی میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن نے ایک سرکاری کنسورشیم کی سربراہی کی، جس کو بعد میں ایم جے اے ایم کا نام دیا گیا اور 30 برسوں میں ذخائر کی کان کے لیے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15سال بعد بھی کان نہیں ملی، معاہدے کی مالی شرائط پر بیجنگ اور کابل کے درمیان عدم تحفظ اور اختلافات تاخیر کا سبب بنے ہیں۔
تاہم، یہ منصوبہ اب ایک بار پھر دونوں فریقین کے لیے ایک توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس پر بات چیت جاری ہے کہ کس طرح اس کان کنی کو آگے بڑھانا ہے۔

تحفظ کا فرض
باسٹین وروتسیکوس نے کہا ہے کہ یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ شاہراہ ریشم کے سب سے خوش حال تجارتی مرکزوں میں سے ایک سمجھا جانے والا یہ تاریخی مقام بغیر کسی نگرانی کے غائب ہو سکتا ہے جو کہ 2010 کی دہائی کے اوائل میں دنیا کے سب سے بڑے آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک تھا۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار کی فوجی عدالت نے جاپان کے صحافی کو 10 سال قید سنا دی

میانمار: میانمار کی فوجی عدالت نے قانون شکنی کے الزام میں جاپان کے صحافی “طورو …