پیر , 26 ستمبر 2022

روس کے ساتھ رابطہ چینل قائم رکھے جانے پر نیٹو کی تاکید

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ رابطہ چینل کا تحفظ کئے جانے کی شدید ضرورت ہے۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق نیٹوکے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ روس کے ساتھ تمام رابطہ چینل باقی رکھے جائیں تاکہ کوئی غلط خیال کسی ایسے ردعمل پر منتج نہ ہو کہ جس کو کنٹرول نہ کیا جاسکے۔

یورپ کے اس عہدیدار کے مطابق نیٹو تنظیم مشرقی یورپ میں جوہری ہتھیار تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روس اور نیٹو کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے تو یہ جنگ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے کہیں زیادہ شدید اور بدتر ہو گی ۔ جب سے یوکرین کی جنگ شروع ہوئی ہے نیٹو کے رکن ممالک اس جنگ میں براہ راست طور پر شمو لیت اختیار کرنے سے تو گریز کرتے رہے ہیں تاہم یوکرین کو ہتھیار اور ایندھن کی مدد فراہم کرتے رہے ہیں ۔ جبکہ روس نے ہمیشہ خبردار کیا ہے کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ابتر نتائچ برآمد ہوں گے اور جنگ کے طویل ہونے کا باعث بنے گی۔

گروپ سات کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے بحران سے خوراک سے متعلق مسائل و مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ بائر بوک نے بھی خوراک سے متعلق برلن کانفرنس میں روس پرالزام لگایا ہے کہ اس نے گندم کی جنگ شروع کر کے پوری دنیا کو یرغمال بنا لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماسکو تمام ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دانستہ طورپرغذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ روس بھوک کے مسئلے کو ایک جنگی ہتھیار اور دنیا کو یرغمال بنانے کے حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی برلن کانفرنس سے اپنے خطاب میں اکیسویں صدی میں بھوک اور غذائی اشیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جانے کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ جب تک روس اور یوکرین جو دنیا کاتقریبا انتیس فیصد برآمداتی گندم پیدا کرتے ہیں تجارت کی کوئی مناسب راہ پیدا نہیں کرتے بحران کے لئے کوئی مناسب راہ حل پیدا نہیں ہو سکے گی ۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے گروپ سات کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو اس بحران کا باعث قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ افراط زر میں اضافہ کوئی کل ہی نہیں ہوا ہے بلکہ یہ برسوں کی غلط اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کے ذمہ دار گروپ سات کے رکن ممالک ہیں۔

روسی صدر نے دنیا میں تجارتی و اقتصادی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس نے یوکرین سے گندم کی برآمدات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی اوراس سلسلے میں خود ساختہ تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا کہ ماسکو توانائی، زرعی پیداوار اور کیمیکل کھاد نیز دیگر مصنوعات و پیداوار کی فراہمی کے سلسلے میں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آمادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی صدر نے غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر دیا

واشنگٹن:امریکا کے صدر نے اہم غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر …