بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

ایشیائی خطہ میں تنہا پاکستان

کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ چین میں گلوبل ڈویلپمنٹ جیسے اہم موضوع پر انٹرنیشنل ڈائیلاگ ہوگا جس میں
ایران کا صدر ابراہیم رئییسی وہاں موجود ہوگا اور چین کی دعوت پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی عالمی راہنماؤں کے ساتھ فوٹو سیشن کروا رہا ہوگا۔ یہاں تک کہ فجی کا ولیم کیٹوناویری بھی اس محفل کی رونق ہوگا۔ ایتھوپیا کی ساحل ورک تو کیا سینیگال کے میکی سال بھی ہوں گے لیکن۔۔۔۔۔
گلوبل ڈویلپمنٹ کی چین میں منعقدہ کانفرنس میں اس کا سب سے قریبی دوست، ہمسایہ ملک، سی پیک کا مرکز، دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ کا حامل، گوادر کا مالک اور چین کا اہم ترین پارٹنر پاکستان اگنور کر دیا جائے گا۔
چین پاکستان ایتھیوپیا اور سینیگال جیسے ممالک کو تو اہمیت دے گا لیکن پاکستان جیسے ملک کو اگنور کر دے گا فوٹو سیشن میں مودی تو ہو گا لیکن پاکستان کا راہنما نہ ہو گا۔۔۔۔
آج ہم نے وہ وقت بھی دیکھ لیا کہ چین جیسے اہم ترین شراکت دار نے ہم سے نظریں پھیر لیں۔ ہم نے اس سے قرض مانگا تو اس نے پہلے سے منظورشدہ قرضے کی مقدار بھی آدھی کر دی اور ہماری شاہراہِ گروی لے کر قرض دیا۔ یہ سلوک وہ بھارت کے ساتھ بھی نہیں کرتا لیکن اب اس نے ہمارے ساتھ دو ٹوک تعلقات کی راہ چن لی جس سے بس اپنا فائدہ سمیٹو آج وہ سمندر سے گہری ، شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند دوستی غلامی کے نیچے کہیں دب کر رہ گئی ہے۔۔۔۔
مودی نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو تنہا کر دیں گے۔ ہم اس بات پہ ہنسا کرتے تھے۔ آج پورے خطے میں ہماری اہمیت فجی اور سینیگال جتنی بھی نہیں ہے۔ آج ہم واقعی تنہا ہو گئے ہیں!
اپنی ہی حکومت کا بار بار تختہ الٹنے والی آرمی کو دیکھ کر دنیا کیونکر اس ملک کو آزاد اور محفوظ سمجھے گی۔ چوروں اور لٹیروں پہ مشتمل ایک حکومت کے ہوتے ہوئے دنیا کیوں انھیں حکمران تسلیم کرے گی؟
ہم روز ایک ذلت آمیز دن سے ابتدا کرتے ہیں ہم روز اس غم میں گھلتے ہیں ہر روز کڑھتے ہیں۔ ہماری ہنسی کھوکھلی ہے۔ ذرا سوچیں ہمیں روز اس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج ہر غیرت مند پاکستانی اس ذلت کو محسوس کر رہا ہے جو روز اس ملک کے نام پہ ہورہی ہے۔

ملکی معیشت کا کباڑہ نکل چکا اور عوام کا خون چوس کر پروٹوکول میں گھوما جا رہا ہے جبکہ پاکستان پوری دنیا میں رسوا ہو رہا ہے۔
آخر ان محافظوں نے قوم کو کس چیز کی سزا دی ہے؟ اندھی عقیدت کی یا بلامشروط محبت کی ۔۔۔۔۔۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …