بدھ , 10 اگست 2022
تازہ ترین

اکثر تناؤ کا شکار رہنے والے افراد کو کن امراض کا سامنا ہوسکتا ہے؟

ملازمت کی فکر ہو، روزمرہ کی پریشانیاں یا کسی بھی قسم کا صدمہ، تناؤ کا سامنا تو ہم سب کو ہوتا ہے۔

مگر بہت زیادہ تناؤ کا شکار رہنے والے افراد کا مدافعتی نظام تیزی سے کمزور ہوجاتا ہے جس سے کینسر، امراض قلب اور مختلف امراض جیسے کووڈ 19 کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام قدرتی طور پر کمزور ہونے لگتا ہے جس کے باعث بڑھاپے میں مختلف امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

مگر اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا تھا کہ تناؤ کس حد تک مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس تحقیق میں 50 سال سے زائد عمر کے 5744 افرد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

ان افراد سے تناؤ کے حوالے سے سوالات بھی پوچھے گئے اور ان کے جوابات کا موازنہ خون کے نمونوں میں ٹی سیلز کی سطح سے کیا گیا۔

تحقیق میں پرتناؤ واقعات اور مدافعتی نظام میں کمزوری کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔

محققین نے بتایا کہ جو لوگ زیادہ تناؤ کا شکار ہوتے ہیں ان کا مدافعتی نظام بھی زیادہ عمر کا نظر آتا ہے اور کسی نئی بیماری سے مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ تیار نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد میں ٹی سیلز (مدافعتی نظام کے دفاع کا اہم ترین حصہ) بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔

ٹی سیلز مختلف وائرسز کے ساتھ ساتھ ایسے خلیات کا صفایا بھی کرتے ہیں جو مزید تقسیم تو نہیں ہوتے مگر مرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے اور انہیں زومبی سیلز کہا جاتا ہے۔

یہ خلیات متعدد اقسام کے پروٹینز خارج کرتے ہیں جو ٹشوز کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں دائمی ورم کا امکان بڑھتا ہے، دائمی ورم مختلف امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اسی طرح ہڈیوں کے بھربھرے پن کے مرض، الزائمر اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

محققین نے کہا کہ اگرچہ تناؤ کی کچھ وجوہات پر قابو پانا ممکن نہیں مگر پھر بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تناؤ کا سامنا کرنے والے افراد کی غذائی عادات بھی صحت مند نہیں ہوتیں جبکہ وہ ورزش سے بھی دور رہتے ہیں، جس سے بھی مدافعتی نظام کی عمر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر درمیانی عمر میں غذا اور ورزش کی عادات کو بہتر بنایا جائے تو تناؤ سے مدافعتی نظام پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی ریاست کرناٹک میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی …