پیر , 26 ستمبر 2022

اسرائیل کی شکست خوردہ رژیم اس قابل نہیں کہ لبنان کو دہمکی دے سکے، حسن فضل اللہ

اپنے ایک بیان میں حزب اللہ سے وابستہ سیاسی اتحاد الوفاء للمقاومۃ کے رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل ”مقاومت” کو بُرا بھلا کہنے والوں نے انتخابات کے بعد عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، لیکن حزب اللہ نے ایسا واضح موقف اپنایا ہے، جس سے لبنان کو فائدہ پہنچے گا۔
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ کے حمایت یافتہ سیاسی اتحاد ”الوفاء للمقاومه” کے پارلیمانی رکن نے اپنے بیان میں ”مقاومت پورے لبنان کی قومی ضرورت ہے” اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دھمکیاں لبنان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ حزب اللہ کے سیاسی دھڑے کے رکن حسن فضل اللہ نے آج سہ پہر اپنے ایک بیان میں کہا کہ صیہونی حکومت کی دھمکیاں لفظی اور نفسیاتی حربے ہیں کہ جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ نجی نیوز چینل نے حسن فضل اللہ کے بیانات کے حوالے سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کے خلاف صیہونی فوجی کمانڈروں اور اسرائیلی حکام کی دھمکیاں بالخصوص جنوب اور سرحدی علاقے میں لبنان کی تیل اور گیس کے خلاف جنگ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "یہ دھمکیاں لبنان کو تیل اور گیس کے حقوق سے ڈرانے کے لیے ہیں” توضیح دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن لبنانی وسائل پر قابض ہونا چاہتا ہے اور اگرچہ ”مقاومت” نے صیہونی حکومت کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا ہوا ہے لیکن لبنان کے کمزور ہوتے ہی وہ جارحیت کی پالیسی پر گامزن ہوگا۔

حزب اللہ کے حمایت یافتہ دھڑے کے رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ لبنان میں ”مقاومت” ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے آمادہ و تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالات بتا رہے ہیں کہ ”مقاومت” پورے لبنان کی قومی ضرورت ہے اور اسرائیلی دھمکیاں لبنان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ فضل اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت ایک شکست خوردہ حکومت ہے، ایسی حکومت جو لبنانی قوم کے عزم و ارادہ کے سامنے ڈھیر ہے، تاکید کی کہ یہ حکومت اب لبنانی عوام کو خوفزدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ایک ایسی قوم کو جو اپنی مزاحمت اور لبنان کی حمایت کرنے کی صلاحیت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں ”مقاومت” کے دشمنوں کے جھوٹے انتخابی نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ اس وقت لبنان میں کسی بھی بحران، جیسے ادویات اور بجلی جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی بھی کوشش نہیں کر رہے ہیں اور یہ اپنے کسی بھی انتخابی نعرے کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ”مقاومت” کو بُرا بھلا کہنے والوں نے انتخابات کے بعد عوام کے لیے کچھ نہیں کیا، لیکن حزب اللہ نے ایسا واضح موقف اپنایا ہے، جس سے لبنان کو فائدہ پہنچے گا۔

اس سلسلے میں ”الوفا للمقاومۃ” سیاسی دھڑے نے مئی کے اواخر میں کہا تھا کہ لبنان کو اس وقت جن سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کے لیے ایک قومی، جامع اور خود مختار موقف کی ضرورت ہے، جو صہیونی دشمن کیلئے محکم پیغام ہو اور اسے لبنان کے قومی وسائل، بحری ڈکیتی اور دریایی حدود کی خلاف ورزی سے روکے. اسی دھڑے نے کہا کہ تمام لبنانیوں کو قومی مقصد کے حصول کے لیے متحد ہو جانا چاہیئے اور یہ سیاسی نعرہ دیا کہ لبنانی عوام دشمن کو ملک کی خود مختاری پر تجاوز کی اجازت نہ دیں۔ یاد رہے کہ ان دنوں صیہونی حکومت اور لبنان کے درمیان سمندری سرحدوں پر تنازعہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ لبنان کا کہنا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ نام نہاد 23 اور 29 سمندری لائنوں کے درمیان کے علاقوں پر مذاکرات کر رہا ہے۔ گیس سے مالا مال لبنانی علاقے ”قانا” پر صیہونیوں کی غاصبانہ نظریں لگی ہوئی ہیں اور دستیاب معلومات کے مطابق اس میدان کا دو تہائی حصہ لبنان کے بالک 9 میں قرار دیا گیا ہے جبکہ آخری تیسرا حصہ 23 لائن متنازعہ علاقے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دشمن نیویارک میں ایرانی قوم کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا:ایرانی صدر

تہران:ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ دشمنوں نے سرتوڑ کوشش کی …