بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

انتہا پسندوں کے درمیان طاقت کی رسہ کشی

تحریر: علی احمدی

غاصب صہیونی رژیم کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے درمیان پارلیمنٹ تحلیل کر کے مڈٹرم الیکشن منعقد کروانے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعوی کیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کامیابی انہیں نصیب ہوگی اور وہ دوبارہ اقتدار میں واپس لوٹ آئیں گے۔ پیر کی رات عبری ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ وزیراعظم نیفتلی بینت اور وزیر خارجہ یائیر لیپید کے درمیان ملک کو درپیش سیاسی بحران کے راہ حل کیلئے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ نیفتلی بینت اور یائیر لیپید نے بھی میڈیا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل آئندہ ہفتے پیش کریں گے جس کے بعد مقررہ مدت سے پہلے دوبارہ مڈٹرم الیکشن کروائے جائیں گے۔

یاد رہے گذشتہ چار برس میں یہ پانچویں مڈٹرم الیکشن ہیں اور اس دوران جو حکومت بھی آئی ہے وہ اپنی قانونی مدت پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ اس دوران یائیر لیپید ملک کے نگران وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ صہیونی ذرائع ابلاغ نے اس معاہدے کو انتہائی اہم سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ اگر یہ بل پیش کر دیا جاتا ہے تو وزیر خارجہ یائیر لیپید نگران وزیراعظم بنا دیے جائیں گے اور نیفتلی بینت نگران وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک اہم سیاسی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف سابق صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اقتدار میں دوبارہ واپس آنے کیلئے کمر کس لی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی تحلیل کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

موجودہ اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی شہریوں کو بہت اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ ہم لیکوڈ پارٹی کی سربراہی میں ایک وسیع کابینہ تشکیل دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا: "موجودہ کابینہ نے سیکیورٹی، سیاسی، اقتصادی ہر لحاظ شکست کھائی ہے اور میں ایک وسیع کابینہ تشکیل دینے کی کوشش کروں گا۔ میں اور میرے اتحادی لیکوڈ پارٹی کی سربراہی میں ایک وسیع کابینہ تشکیل دیں گے۔ ہم تمام اسرائیلی شہریوں کو اہمیت دیتے ہیں اور کامیاب ہونے کی کوشش کریں گے۔” دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم کے وزیر انصاف گدعون ساعر نے اس بارے میں کہا: "آئندہ الیکشن کا مقصد واضح ہے اور وہ بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار میں واپس آنے سے روکنا ہے۔”

گدعون ساعر نے مزید کہا: "ہم بینجمن نیتن یاہو کو واپس آ کر اپنے مفادات کیلئے اقتدار ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے الیکشن کے انعقاد پر مبنی فیصلے کی اصل وجہ بعض اراکین پارلیمنٹ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا۔” غاصب صہیونی رژیم سیاسی بند گلی سے روبرو ہو چکی تھی جس کے باعث موجود حکمرانوں نے پارلیمنٹ تحلیل کر کے دوبارہ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ الیکشن 25 اکتوبر کے دن منعقد کروائے جائیں گے۔ یاد رہے جون 2021ء میں بھی غاصب صہیونی رژیم ایسے ہی سیاسی بحران سے روبرو تھی جس کے باعث پارلیمنٹ تحلیل کر کے مڈٹرم الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس الیکشن کے نتیجے میں گذشتہ 12 برس سے وزارت عظمی کے عہدے پر براجمان بنجمن نیتن یاہو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیفتلی بینت اور یائیر لیپید کی پارٹیوں نے جزوی اکثریت حاصل کی تھی جس کے نتیجے میں انہوں نے مل کر حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی رو سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ نیفتلی بینت اور یائیر لیپید باری باری وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اسی طرح یہ بھی طے پایا تھا کہ اگر پارلیمنٹ تحلیل ہوتی ہے تو لیپید، نیفتلی بینت کی جگہ لے لیں گے۔ مقبوضہ فلسطین میں آئندہ الیکشن کے بارے میں کئی سروے بھی انجام پا چکے ہیں۔ ان کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن میں بنجمن نیتن یاہو کی پارٹی 59 سیٹیں حاصل کر پائے گی جبکہ ان کا مدمقابل اتحاد 55 سیٹیں لینے میں کامیاب رہے گا۔ اسی طرح ایک اور سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی پارٹی 36 سیٹیں، یائیر لیپید کی پارٹی 20 سیٹیں اور بینت کی پارٹی 10 سیٹیں لے پائے گی۔

غاصب صہیونی رژیم کے بعض حلقے بینجمن نیتن یاہو کے اقتدار میں دوبارہ واپس آنے کے شدید مخالف ہیں۔ مثال کے طور پر صہیونی رژیم کے وزیر خزانہ اویگڈور لیبرمین اس بارے میں کہتے ہیں: "بینجمن نیتن یاہو کو کسی قیمت پر واپس اقتدار میں نہیں آنا چاہئے۔ ہماری پارٹی انہیں اقتدار میں واپس آنے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے دورہ اقتدار میں میرون کا حادثہ پیش آیا تھا (یہ حادثہ 30 اپریل 2021ء کے دن ایک مذہبی تقریب کے دوران پیش آیا تھا جس میں 45 صہیونی ہلاک اور دسیوں دیگر زخمی ہو گئے تھے)۔ لیبرمین نے مزید کہا کہ بینجمن نیتن یاہو فلسطینی گروہوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور ان کے زمانے میں ہمیں بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …