بدھ , 28 ستمبر 2022

آئی ایم ایف کے ساتویں، آٹھویں جائزے کیلئے اہداف موصول ہوگئے، مفتاح اسمٰعیل

پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے مشترکہ معاشی اور مالیاتی اہداف موصول ہوگئے۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’آج صبح حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے ایم ای ایف پی (میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی) موصول ہوا ہے‘۔

خیال رہے کہ ایم ای ایف پی میں وہ پیشگی اقدامات شامل ہیں جن پر آئی ایم ایف بورڈ میں پاکستان کا کیس اٹھائے جانے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ ایک ارب ڈالر کے اجرا سے قبل عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پ لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 21 جون کو معاملات طے پاگئے تھے۔

یہ مفاہمت اور پیش رفت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی سربراہی میں پاکستانی معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی تھی۔

اس کے بعد امکان تھا کہ آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جبکہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی (ایف ای ایف پی) کی مفاہمتی یادداشت کا مسودہ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔

ایف ای ایف پی میں کچھ ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن پر پیشگی عمل کرنا آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے منظوری کے لیے پاکستان کے کیس پر غور کرنے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل عمل درآمد کرنا ضروری ہوگا۔

اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی وصولی شروع کرنے پر اتفاق کیا، طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی چارجز 5 روپے ماہانہ سے بتدریج بڑھا کر 50 روپے کردیے جائیں گے۔

ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے 15 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے والی کمپنمیوں پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر 3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والی کمپنمیوں پر 4 فیصد غربت ٹیکس لگانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل اصل بجٹ میں حکومت نے صرف 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے والی کمپنیوں پر 2 فیصد غربت ٹیکس لگایا تھا۔

آئی ایم ایف معاہدے کے لیے حکومت نے اضافی تنخواہوں اور پنشن کے فیصلے کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس کے بجائے ہنگامی حالات کے لیے الگ سے مختص کیے گئے فنڈز کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ بجٹ صرف انتہائی ہنگامی حالات جیسے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے دوران خرچ کرنے کے لیے ہوگا ورنہ یہ رقم خرچ نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

ڈالر کی اڑان جاری، اوپن مارکیٹ میں قیمت 245 روپے سے تجاوز کرگئی

کراچی: ملک کو رواں سال مطلوبہ 36 ارب ڈالر کی ضروریات کا بندوبست نہ ہونے، …