بدھ , 28 ستمبر 2022

ایران سے بار بار شکست کا راز، ‘سنت الہیہ’ سے دشمن کی ناواقفیت

عدلیہ کے سربراہ ڈاکٹر بہشتی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی برسی پر اور یوم عدلیہ کی مناسبت سے منگل کی صبح عدلیہ کے سربراہ اور عہدیداروں نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے معاشروں میں اللہ کی اٹل سنتوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا: 1981 میں رونما ہونے والے بڑے ہولناک واقعات کے مقابلے میں ایرانی قوم اور اسلامی جمہوری نظام کی سربلندی اور حیرت انگیز فتح کا سبب، استقامت، جدوجہد، دشمنوں سے نہ گھبرانا تھا اور یہ سنّت الہیہ، ہر دور میں دوہرائي جا سکتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سنہ 2022 کا خدا بھی وہی سنہ 1981 کا خدا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے شہید بہشتی اور سات تیر (28 جون 1981) کے واقعے کے دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، شہید بہشتی کو ممتاز شخصیت بتایا اور 28 جون 1981 سے متصل مہینوں اور اس کے بعد کے مہینوں کے خاص پیچیدہ حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وقت کے حالات پر غور کرنے سے ہمارے آج کے حالات کے لیے راستہ کھل سکتا ہے۔

آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے 28 جون 1981 کے بعد کے مہینوں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مسلط کردہ جنگ کی سختیوں اور صدام کے فوجیوں کی ایران کے مغرب اور جنوب میں کئي بڑے شہروں کے قریب تک پیشقدمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جنگ کے انتہائي سخت حالات کے ساتھ ہی تہران میں ‘منافقین کے گروہ’ (ایم کے او) نے عملی طور پر خانہ جنگي شروع کر دی تھی، ادھر سیاسی میدان میں اٹھائیس جون سے کچھ ہی دن پہلے پارلیمنٹ نے صدر کو سیاسی طور پر نااہل قرار دے دیا تھا اور ملک میں کوئي صدر نہیں تھا، ان حالات میں شہید بہشتی جیسی اہم اور مضبوط شخصیت کو انقلاب اور اسلامی نظام سے چھین لیا گيا۔

انھوں نے اسی طرح اٹھائیس جون کے واقعے کے دو مہینے بعد ہی ملک کے صدر اور وزیر اعظم کی شہادت اور اس کے بعد ایک ہوائي حادثے میں جنگ کے کئي اعلی کمانڈروں کی شہادت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جوانوں اور نئي نسل کو ان واقعات کے بارے میں اطلاع نہیں ہے، انھیں ان مسائل کا مطالعہ اور ان کے بارے میں گہرائي سے غور کرنا چاہیے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ آپ کی نظر میں ایسا کوئي ملک اور ایسی کوئي حکومت ہے جو اس طرح کے تلخ اور وحشتناک واقعات کے سامنے ڈھیر نہ ہو جائے؟

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا: ان تمام واقعات کے سامنے، امام خمینی ‘کوہ دماوند’ (تہران کے قریب واقع پہاڑی چوٹی) کی طرح سربلندی سے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے، مخلص عہدیداران اور انقلابی عوام اور نوجوان بھی ڈٹ گئے اور ملک کے حالات کو پوری طرح سے یعنی ایک سو اسی ڈگری کے زاویے تک بدلنے میں کامیاب رہے جس کے بعد لگاتار ناکامیاں، مسلسل فتوحات میں تبدیل ہو گئيں، منافقین کو سڑکوں پر سے ہٹا دیا گيا، فوج اور سپاہ زیادہ طاقتور ہو گئيں اور ملک کے حالات معمول پر آ گئے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے داخلی کمزوریوں اور کمیوں کی وجہ سے بعض مواقع پر دشمن کے خوشی سے ہیجان زدہ ہو جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سنہ 1981 میں بھی اور اس کے بعد گزشتہ چار عشروں کے دوران بھی دشمن، کئي مواقع پر بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا کہ انقلاب اور اسلامی نظام کی بساط لپٹتی جا رہی ہے لیکن اس کی یہ امید، مایوسی میں تبدیل ہو گئي کیونکہ دشمنوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ اس مایوسی کی اصل وجہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔

آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ دشمن یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ اس دنیا میں سیاسی عوامل کے علاوہ بھی کچھ دوسرے عوامل کارفرما ہیں اور وہ عوامل الہی سنتیں ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دین خدا کی مدد یا اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کے نتیجے کے بارے میں قرآن مجید میں مذکور اللہ کی سنتوں اور قانونوں کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن مجید، الہی سنّتوں سے متعلق مضامین سے مملو ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ اگر معاشرے، دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ جائيں اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں تو اس کا نتیجہ فتح اور پیشرفت ہے لیکن اگر وہ اختلاف، آرام طلبی اور کاہلی کا شکار ہو گئے تو اس کا نتیجہ شکست ہوگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے سماجیات کی نظر سے الہی سنّتوں کے علمی جائزے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی قوم، سنہ انیس سو اکاسی میں، ایک سنت الہیہ یعنی جہاد و استقامت کے مدار پر قائم رہ کر دشمن کو مایوس کرنے میں کامیاب رہی اور آج بھی وہی قاعدہ جاری ہے اور سنہ دو ہزار بائيس کا خدا، وہی سنہ انیس سو اکاسی کا خدا ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ سنت الہی کا مصداق بنیں تاکہ اس کا نتیجہ پیشرف اور فتح کی صورت میں سامنے آئے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں عدلیہ کو، پورے ملک میں ایک اہم اور بااثر ادارہ بتایا اور کہا: قرآن مجید کی آيات کے مطابق، اسلامی حکومت کا فریضہ، نماز قائم کرنا یعنی اسلامی جمہوریہ میں بندگي کی روح کو پروان چڑھانا، زکات ادا کرنا یعنی اسلامی معاشرے میں ہر چیز کی تقسیم میں عدل و انصاف، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی عدل و انصاف، اخوت، ظلم، برائي اور امتیازی سلوک کی روک تھام ہے اور اس پر آئین میں بھی تاکید کی گئي ہے اور یہ عدلیہ کے فرائض میں بھی شامل ہے۔

آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا: مختلف وسائل جیسے عدلیہ اور انصاف کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ان فرائض پر عمل نہ کیا گيا تو یہ اللہ کی نعمتوں کو ضائع کرنے کا مصداق ہوگا اور اس زاویے سے ہم چوٹ کھا جائيں گے۔

انھوں نے اپنی تقریر کے آخر میں عدلیہ کے کام کو، انتہائي دشوار کاموں میں قرار دیا اور کہا: البتہ اگر اس کام کو اللہ کے لیے اور اللہ کی ہدایت کے مطابق انجام دیا جائے تو اس کا صلہ بھی بہت بڑا ہوگا۔

اس ملاقات کے آغاز میں عدلیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے حالیہ عرصے میں اپنے شعبے کے اقدامات کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں انھوں نے عوام کے مختلف طبقوں سے زیادہ سے زیادہ رابطے، حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، عدلیہ کے نظام میں اصلاحات کے دستاویز کو عملی جامہ پہنانے، عدلیہ کی سروسز کو اسمارٹ بنانے اور نئي تکنیکوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال، پیداوار کی حمایت اور اس کی رکاوٹوں کو دور کرنے، دور افتادہ اور پچھڑے علاقوں میں عدلیہ کی بعض سروسز کی مفت فراہمی، بدعنوانی خاص طور پر عدلیہ کے اندر پائے جانے والے کرپشن سے سنجیدگي سے مقابلے، رائے عامہ میں اہمیت کے حامل کیسز اور زیادہ مدعا علیہ والے کیسز کو ترجیح دینے، قوانین اور لازمی عملدرآمد والے قوانین کے بہتر نفاذ کی نگرانی بڑھانے اور اسی طرح عدلیہ کے ملازمین کے معاشی حالات کو بہتر بنانے اور ان کے بنیادی بجٹ کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کا ذکر کیا۔

یہ بھی دیکھیں

آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات ہوئی تو قوم سے معافی مانگ لوں گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات …