بدھ , 28 ستمبر 2022

شھید آیت اللہ بہشتی کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر

شہید محمد حسین بہشتی نے انقلاب اسلامی سے قبل اور اسکے بعد اپنی گرانقدر ناقابل فراموش علمی، معنوی، سیاسی اور سماجی خدمات سے ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے لاکھوں افراد کو فیضیاب کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی بدستور جاری ہے۔

شہید آیت اللہ محمد حسین بہشتی بیک وقت مجتہد، فقیہ، فلسفی، مکتب شناس، سیاستدان اور منتظم و مدبر، دنیا کی کئی زندہ زبانوں پر [عربی، فارسی، انگریزی اور جرمنی] مسلط اور جامع و کامل شخصیت کے حامل مومن و مخلص انسان تھے۔

شہید سید محمد حسین بہشتی دو آبان سنہ تیرہ سو سات ہجری شمسی مطابق چوبیس اکتوبر انیس سو اٹھائیس کو اصہفان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اصفہان کے معروف علما میں تھے اور وہ اصفہان شہر کے قدیم محلے لومبان میں امام جماعت تھے۔ شہید بہشتی نے اٹھارہ برس کی عمر میں قم ہجرت کی۔

تاہم اسی سال انہوں نے فلسفہ کی فیکلٹی میں داخلہ لے لیا اور پانچ سال کے بعد بی اے مکمل کرنے کے بعد وہ دوبارہ قم واپس لوٹ گئے اور انہوں نے حکیم نظامی کالج میں انگریزی پڑھانا شروع کر دی۔ سنہ انیس سو چھپن سے سنہ انیس سو انسٹھ عیسوی کے دوران انہوں نے فلسفے میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اس کے بعد انقلابی تحریک میں شرکت کرنے کی وجہ سے ظالم شاہی حکومت کی خفیہ تنظیم ساواک نے ان کو قم سے تہران جانے پر مجبور کر دیا۔

شہید بہشتی آیت اللہ حائری اور آیت اللہ میلانی کے کہنے پر ہامبورگ چلے گئے اور وہاں مسجد میں دینی اور مذہبی سرگرمیاں انجام دینا شروع کر دیں۔ سنہ تیرہ سو انچاس ہجری شمسی کو ایران واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی، سیاسی اور ثقافتی سرگرمیاں شروع کیں۔ اس دوران ظالم شاہی حکومت کی خفیہ تنظیم ساواک نے ان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔

آذر ماہ سنہ تیرہ سو ستاون مطابق نومبر انیس سو اٹھتر میں انہوں نے امام خمینی (رح) کے حکم پر انقلابی کونسل تشکیل دی۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد انہوں نے ایک رہنما کے طور پر سیاسی اور سماجی سرگرمیاں انجام دیں۔

انہوں نے سیاسی اور ثقافتی انٹیلیچوئلز کی تربیت کے مقصد سے حزب جہموری اسلامی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مجلس خبرگان کے نائب سربراہ کے طور پر آئین کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا۔ سنہ تیرہ سو اٹھاون ہجری شمسی میں عبوری حکومت کے استعفے کے بعد وہ وزیر انصاف بنے اور اس کے بعد امام خمینی (رح) نے ان کو چیف جسٹس مقرر کر دیا۔اپنی شہادت تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔

آخرکار منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او نے سات تیر سنہ تیرہ سے ساٹھ ہجری شمسی مطابق اٹھائیس جون سنہ انیس سو اکیاسی کو حزب جمہوری اسلامی کی عمارت میں بم دھماکے کر دیئے جس کے نتیجے میں آیت اللہ سید محمد حسین بہشتی اپنے بہتّر ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔

تہران کے بہشت زہرا قبرستان میں واقع انکی قبر پر قائد انقلاب اسلامی فاتحہ خوانی کرتے ہوئے
بانی انقلاب اسلامی نے آیت اللہ بہشتی کی شہادت کے بعد فرمایا تھا: "بہشتی اپنی جگہ، خود تنہا ایک امت تھے”۔

رہبر انقلاب اسلامی نے شہید بہشتی کے بارے میں فرمایا ہے کہ بہشتی نے مظلومیت میں زندگی گزاری اور مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے کیونکہ ان کی زندگی میں کوئی بھی ان کی شخصیت کی گہرائی اور عظمت کا ادراک نہ کرسکا۔ شہید بہشتی حقیقی معنوں میں ہر لحاظ سے ایک عظیم انسان تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کا پاکستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گرنے کے حادثے پر تعزیت کا اظہار

تہران:ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی حکومت، فوج اور عوام کو صوبے بلوچستان میں …