بدھ , 30 نومبر 2022

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور کرلیں

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواستیں منظور کرلیں۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں5 رکنی لارجربینچ نے تحریک انصاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔

لارجر بینچ میں جسٹس صداقت علی خان کے علاوہ جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس شاہد جمیل خان شامل تھے۔

لارجربینچ میں پی ٹی آئی کے علاوہ مسلم لیگ ق اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی اپیلوں کی سماعت کی گئی۔

یہ اپیلیں حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ انتخاب اور سنگل بینچ کے فیصلوں کےخلاف دائر کی گئی تھیں، درخواستوں پر 4کے مقابلے میں ایک کا فیصلہ آیا، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے 4 ججز کے فیصلےکے کچھ نکات سے اختلاف کیا۔

اختلافی نوٹ میں جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے میڈیا کی رپورٹنگ کی تعریف کی، ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے پروفیشنل رپورٹنگ کی،کچھ وی لاگرز نے کیس کو اسکینڈ لائز کیا، پیمرا اور ایف آئی اے اسکینڈلائز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور کی ہیں اور عدالت نے حلف کے خلاف اپیلوں کو نمٹایا ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے 5 اپیلیں دائر کی گئیں تھیں، جس میں حمزہ شہباز کے الیکشن کو چیلنج کیا گیا تھا، پنجاب اسمبلی میں جوکچھ ہوا اس کے کنڈکٹ کو بھی چیلنج کیا گیا تھا، ان درخواستوں کو منظور کرلیا گیا ہے۔

حمزہ وزیراعلیٰ نہیں رہے، محمود الرشید
رہنما تحریک انصاف میاں محمود الرشید کا کہنا ہےکہ ہماری اپیلیں منظور کرلی گئی ہیں، حمزہ وزیراعلیٰ نہیں رہے، اب نیا انتخاب ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما راجا بشارت کا کہنا ہےکہ 2 ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا آج اللہ نے نجات دلا دی ہے، پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے لیے الیکشن ہونا ہے، تحریک انصاف کو آج آئینی اور اخلاقی طور پر بھی فتح ملی ہے۔

معاملےکا پس منظر

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب معاملے پر صوبہ کئی ہفتے آئینی بحران کا شکار رہا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ بھی ہوا،ڈپٹی اسپیکرکو پولیس کی حفاظت میں اجلاس کی کارروائی چلانا پڑی۔

16اپریل کوحمزہ شہباز 197ووٹ لےکر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے جب کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے امیدوار پرویز الٰہی کو ایک ووٹ بھی نہ ملا، پی ٹی آئی اور ق لیگ نے وزیراعلیٰ کےانتخاب کےعمل کابائیکاٹ کیا، حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد گورنر پنجاب نےان سے حلف نہ لیا۔

وزیراعلیٰ کے حلف کے لیےلاہورہائیکورٹ میں پٹیشن دائرکی گئی، لاہورہائیکورٹ نے پہلےگورنرپنجاب، پھرصدر کو وزیراعلیٰ سے حلف لینےکا کہا، گورنرپنجاب اور صدر کی جانب سے حلف نہ لینے پر قومی اسمبلی اسپیکر سے حلف لینےکا کہا گیا، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ہائی کورٹ کےحکم پر حمزہ شہباز سے وزیراعلیٰ کا حلف لیا۔

پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائرکی کہ قومی اسمبلی کا اسپیکر حلف نہیں لے سکتا، لاہورہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے لارجربینچ تشکیل دینےکے لیےمعاملہ چیف جسٹس کوبھجوا دیا، پٹیشنز میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن ٹھیک نہیں ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

سپاہ پاسداران نے جنوبی علاقے میں ایک عرب انٹیلی جنس سروس کی سازشوں کو بے نقاب کیا

تہران:سپاہ پاسداران انقلاب نے ایک ایک رجعت پسند عرب انٹیلی جنس سروس کے ایک ایجنٹ …