بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

پاک ایران تعلقات میں نئی جہتیں اور قربتیں

فضل حسین اعوان

مولانا ظفر علی خان نے کئی دہایاں قبل ایک آفاقی شعر کہا تھا:

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں میں قطار اندر قطار اب بھی

آج کے دور میں اس شعر کی عملی تاباں و رخشاں تصویر دنیا کے سامنے 1980ء میں، ایران جبکہ 27فروری2019ء کو پاکستان میں نظر آئی۔ پاکستان میں جب بھارت کے فضائی دستے نے پاکستان میں گھس کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے دفاع کو چیلنج کیا تو پاک فضائیہ نے بھارتی جارح فضائیہ کے دو جہاز مار گرائے، ایک پائلٹ جہاز کے ساتھ جل مرا جبکہ کلبھوشن جہازسے کود گیا جسے گرفتار کر لیا گیاجبکہ باقی جہازوں کوفضائیہ نے بخش دیا اور وہ واپس چلے گئے۔25 اور 24 اپریل 1980ء کی درمیانی شب امریکہ کے لئے شبِ ستم اورندامتِ مرگ ثابت ہوئی جس کا اہتمام خود اسی نے کیا تھا،امریکی صدر جمی کارٹر نے ایران میں یرغمال بنائے گئے 52امریکیوں کی رہائی کے لیے ایک ایرانی صحرائی غیر آباد لینڈنگ سٹرپ پر اپنے کارگو سی130اور سات ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آپریشن کا پلان کیا۔ایک امریکی ہیلی کاپٹر خراب ہوگیا، دو آپس میں ٹکراگئے جبکہ سات امریکی ہلاک ہوئے اور یوں لاشیں سمیٹ کر صدر جمی کارٹر کے دستے نامراد لوٹ گئے۔امریکہ کی طرف سے خبر جاری کی گئی تو ایرانی حکومت سمیت دنیا کو پتہ چلا۔ امریکی سختیوں اور پابندیوں کا ایران کو آج بھی سامنا ہے، ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں کمی آرہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ نے خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو ریورس گیئر لگا دیا، فائیو پلس ون ممالک اپنی کاوشوں پر پانی پھرتا دیکھتے رہ گئے۔ایران اور پاکستان کے مابین آج تعلقات میں نئی راہیں کھل رہی ہیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایران کا دورہ کیا جس کے چند روز کے بعد وزیر توانائی خرم دستگیر ایران گئے۔ دونوں وزراء کے دورے کامیاب رہے۔ پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور خرم دستگیر کا دورہ اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے میں بجلی کی ٹرانسمیشن کے معاہدے ہوئے جبکہ بلاول کے دورے میں گیس پائپ لائن پر فوکس تھا۔ دو وزراء کے ایران کے چند دن کے وقفے سے دورے دونوں ممالک کے مابین قربتوں میں سفر کی تیزی کو ظاہر کرتے ہیں۔ادھر لاہور میں ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران جعفر روناس نے پاکستان میڈیا رائٹرز کلب کے وفد کو بریفنگ دی، جعفر روناس پاکستان میں ایران کے کلچرل اتاشی بھی ہیں، بریفنگ کا اہتمام ایرانی قونصلیٹ کے میڈیا کوآرڈی نیٹر شبیر احمد شگری نے کیا تھا، جعفر روناس نے تفصیلی بریفنگ دی اور مہمان صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ بریفنگ کابنیادی موضوع کلچر اور ثقافت تھا جبکہ ان کی طرف سے پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد ہوا تو دنیا میں سب سے پہلے اسے ایران نے تسلیم کیا، اسی طرح روحانی پیشواآیت اللہ خمینی کی سرپرستی میں قائم ہونے والی ایران کی انقلابی حکومت کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا تھا، جعفر روناس کی طرف سے پاک ایران طویل سرحد کی بات کی گئی کہ یہ سرحد جغرافیائی اور سیاسی ہے جبکہ دو ممالک کے عوام کے ما بین جو محبت، اخوت،ثقافت کے ساتھ جو مذہب کا رشتہ ہے ان کے درمیان کوئی سرحد حائل نہیں۔

ان کی طرف سے کئی شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں دونوں ممالک ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تعلیمی اور ثقافتی حوالے سے ایران اور پاکستان کے مابین تعاون کن کن شعبوں میں ہورہا ہے اور مزید کیا امکانات ہیں۔پاکستان میں خانہ فرہنگ ایران کا قیام 1956ء میں ہوا اُس وقت یہ پاکستان میں قائم ہونے والا پہلا عالمی ادارہ تھا جس کے زیر اہتمام ثفاقتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور جن سے ایک تو دونوں ممالک کے تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسرے عوام کو ایک دوسرے کے کلچر اور ثقافت سے شناسائی ہوتی ہے۔خانہ فرہنگ دونوں ممالک کے ادیبوں، این جی اوز اور دانشوروں کے مل بیٹھنے کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخ میں اعلیٰ مقام کی حامل شخصیات پر سیمینار اورکانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتاہے،پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ایران شناسی کے بارہ شعبے قائم کئے گئے ہیں۔دو رومی کارنر اس کے علاوہ ہیں جن کے ذریعے طلباء کو ہر طرح کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔فارسی سیکھنے کی کلاسوں کے ساتھ ساتھ فارسی کیلی گرافی اور خوش نویسی کی کلاسیں بھی ہورہی ہیں۔وحدت اسلامی پر سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد معمول کے حصہ ہے۔پاکستان میں ایرانی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے دستکاریوں کی نمائش کی جاتی ہے۔جعفر روناس نے بتایا کہ اس سال وہ تین بڑے پروگرام کررہے ہیں،پاکستان میں عالمی سطح کا فارسی زبان کے مقابلے کا انعقاد کیا جائے گا،ایرانی دستکاریوں کی نمائش ہوگی جبکہ سب سے بڑھ کرعالمی مقابلہئ قرأت کا اہتمام بھی کیا جائیگا جس میں دنیا کے بہترین قرآن خواں شرکت کریں گے۔

پاکستان میں خانہ فرہنگ کی طرف سے ہونیوالی کوئی بھی نمائش،کانفرنس،تقریب یا سیمینار حکومت پاکستان کی مشاورت اور معاونت سے ہوتا ہے۔روناس بتا رہے تھے کہ ہم دونوں ممالک کو لوگوں کو قریب لانے کیلئے کوشاں ہیں اور اس کے ساتھ عوام میں ایک دوسرے کے بارے میں پیدا کی جانیوالی غلط فہمیاں بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔مغربی میڈیا ایران میں خواتین کے استحصال کا پراپیگنڈہ کرتا ہے جبکہ پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی بات کی جاتی ہے۔ایرانی خواتین نہ صرف اولمپکس میں گولڈ میڈل تک جیت رہی ہیں بلکہ تعلیم کے عالمی مقابلوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ پاکستان پُرامن ملک ہے اور یہاں آکر پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا نام ونشان نہیں۔ ہر قسم کی سرگرمیوں اور کاروبار کیلئے پاکستان ایک موزوں ومثالی ملک ہے۔دونوں ممالک کا اصل اور روشن چہرہ ایک دوسرے کے عوام اور دنیا کے سامنے لانے کے لئے سیاسی، سماجی، صحافتی اور تعلیمی سمیت دیگر شعبوں کا وفود کے تبادلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

جعفر روناس کی گفتگو کا حاصل ان کی طرف سے پاکستان کی توجہ ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی طرف دلانا تھا۔ ایران میں پٹرول وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے جبکہ ایران میں بہترین معیار کے پٹرول کی قیمت پاکستانی کرنسی میں 15روپے لیٹر ہے۔ پاکستان ایران سے سستا ترین پٹرول درآمد کر کے توانائی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ پاکستان کو آج سستے پٹرول کی اشد ضرورت ہے۔ آج پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہیں اس لئے شہباز شریف امریکی حکومت کے سامنے اپنی مشکلات رکھ کر ایران سے سستا ترین پٹرول خرید سکتی ہے۔ ایران سے آج بھی پاکستان میں پٹرول آتا ہے جس کی برآمد کو قانونی حیثیت حاصل ہے مگر وہ بلوچستان تک ہی لایا جا سکتا ہے۔بلوچستان کے کچھ علاقوں کو ایران کی طرف سے بجلی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ایران کے ساتھ ان تعلقات کو توسیع دی جا سکتی ہے۔ بلاول اور خرم دستگیر کے دورے اس حوالے سے تعلقات میں عروج کی طرف آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …