بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

افغانستان میں ابھرتا انسانی المیہ اور پاکستان

ڈاکٹرسیداحمدعلی شاہ

گزشتہ برس پندرہ اگست میں طالبان کے تخت نشین ہونے کے تین بعد بائڈن انتظامیہ نے افغانستان کے قومی زر مبادلہ کے زخائر فریز کر دیے۔ ان زخائر کی مالیت ساڑھے نو بلین ڈالر تھی۔ افغان سینٹرل بینک کے پاس کیش کی کمی واقع ہوئے جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کا نظم سنبھالنا ناممکن ہو گیا۔ اس کا لازمی نتیجہ افغانستان میں ایک انسانی المیے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پچپن فی صد افغان آبادی خوراک کی قلت کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ہونے والی اموات بیس سالہ امریکی قبضے کے دوران ہونے والی اموات سے زیادہ ہوں گی۔ مستزاد طالبان حکومت کو اندرونی عدم استحکام کا بھی سامنا ہے۔ ایک طرف تو طالبان کی اپنی صفوں میں اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب قدیم قبائلی اختلافات نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ طالبان کابینہ کی تشکیل کے وقت ظاہر ہونے والے اختلافات، جو کہ ملا برادر کی وزارت عظمی کی راہ میں حائل ہوئے، اب کء دیگر مقامات پر بھی پھیلتے جا رہے ہیں۔ یہ اختلافات نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ مثلا صوبہ فریاب کے ازبک کمانڈر مخدوم عالم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح مولوی مہدی مجاہد، جو کہ شیعہ ہزارہ برادری

مولوی مہدی مجاہد کو طالبان کے بچیوں کی تعلیم سے متعلق پالیسی سے اختلاف کے پیش نظر معزول کیا گیا تھا۔ مختلف زرائع سے اب یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ مولوی مہدی نے احمد مسعود (پسر احمد شاہ مسعود) کی مزاحمتی فورسز میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اسی طرح ایک اور طالبان کمانڈر قاری وقاص اپنے تین سو ساتھیوں سمیت احمد مسعود سے مل چکے ہیں۔ روایتی طور پر افغانستان میں موسم بہار گوریلا

جنگی حملوں کے لیے موزوں جانا جاتا ہے۔ حالیہ موسم بہار کے بعد چھوٹے پیمانے پر طالبان مخالف مزاحمتی تحریک افغانستان کے مختلف علاقوں میں سر اٹھاتی نظر آرہی ہے۔اس اندرونی خلفشار کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کو اپنے سرحدی علاقوں میں بھی چیلنچز کا سامنا ہے۔ پاکستانی بارڈر پر تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو اکٹھے ہورہے ہیں۔ جبکہ ازبک سرحدی علاقے میں داعش نے ٹھکانے بنا لیے ہیں۔ ایک جانب ٹی ٹی پی کے دھشت گرد پاکستان پر حملہ آور ہیں جبکہ انہیں اب بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب داعش ازبکستان پر راکٹ باری میں مصروف ہے۔

موجودہ حالات کی حقیقی صورت گری دگردوں معاشی حالات کی وجہ سے ممکن ہوء ہے۔ ایک جانب طالبان حکومت سفارتی تنہاء کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملکی زخائر تک رساء سے قاصر ہے۔ ایسے وقت میں چاہیے تو یہ تھا کہ امریکی پابندیوں کے متبادل کے طور پر چین اور روس سفارتی نہ سہی معاشی

میدان میں نوزائیدہ حکومت کا ہاتھ تھامتے۔ مگر روس یوکرین میں الجھ کر رہ گیا اور چین ابھی تک کورونا سے لڑتا نظر آتا ہے۔ اس صورتحال سے پیدا ہونے والے خلا کو پْر کرنے اب بھارت نے قدم آگے بڑھائے ہیں۔ امسال دو جون کو بھارتی دفتر خارجہ کا ایک اعلی سطحی وفد کابل یاترا کر کے لوٹا ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین کے بقول طالبان نے بھارت کو افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کی درخواست کی ہے۔پاکستانی سرحد کے قریب افغان سر زمین پر ٹی ٹی پی کا پھیلاؤ، بلوچ علیحدگی پسندوں ور ٹی ٹی پی دھشت گردوں کے بڑھتے تعلقات، طالبان کے اندرونی اختلافات، افغانستان کی گرتی معیشت، اور اس پر مستزاد افغان معاملات میں بھارت کی واپسی آنے والے وقتوں میں مشرقی سرحد پر پاکستان کے لیے مشکل حالات کا پتہ دیتی ہے۔ ہمیںیہ نہیں بھولنا چاہیے کہ لاکھوں کی تعداد میں سابقہ افغان نیشنل آرمی کے فوجی آج کل افغانستان میں بے روزگار ہیں۔ طالبان کی آمد کے بعد اگرچہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مگر ایسے مشکل مالی حالات میں طالبان حکومت کے لیے ان ٹرینڈ فوجیوں کے لیے روزگار مہیا کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ خاکم بدہن اگر یہ فوجی کسی عالمی سازش کا شکار ہوکر افغانستان کے بارڈرز پر پنپتے دھشت گروہوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔

تو ایک طویل خانہ جنگی اور خونریزی جنم لے سکتی ہے۔ یہیاد رہے کہ عراق میں داعش کا جنم صدام حسین کی فوج کے بے روزگار فوجیوں کے ہاتھوں ہی ہوا تھا۔ضرورت اس امر کی ہے چین اور پاکستان آگے بڑھ کر معاملات کو سنبھالیں قبل اس کے دیر ہوجائے۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …