بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

بلاول بھٹو کا دورہ ایران، کئی فوائد کا حامل

بلاول بھٹو کا دورہ ایران، کئی فوائد کا حامل

وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ایران کے دو روزہ دورے کو کامیاب دورہ ا س لئے قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس دورے سے پاکستان کئی طرح کے فوائد سیمٹنے میںکامیاب ہو جائیگا۔ وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے امارات، امریکا، چین اور سوئٹزرلینڈ کے بعد ایران کا دورہ کیا ہے۔

ایران کے صدر سید ابراہیم رئیس الساداتی سے ملاقات میں بلاول بھٹو نے جب خود کو فرزند پاکستان اور فرزند ایران قرار دیا تو اس جملے کے پس منظر میں بیگم نصرت بھٹو تھیں۔ بلاول بھٹو کی نانی یعنی پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو 1929 میں ایران کے صوبے اصفحان میں پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد تاجر تھے جن کا تعلق حریری گھرانے سے تھا اور والدہ کرد تھیں۔ یہ ایرانی گھرانا پہلے ممبئی اور پھر تقسیم ہند کے بعد کراچی منتقل ہوگیا تھا۔اپنی زندگی کے آخری دو عشرے بیگم نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی بے نظیربھٹو کے ساتھ دبئی میں گزارے۔ دو روزہ دورے کے موقع پر بلاول بھٹو کو تحفے میں شہید بے نظیر بھٹو کے دورہ مشہد کی یادگار تصاویر کی البم دی گئی۔

سفارت کاری سے آشنا لوگ جانتے ہیں کہ دو ملکوں کے تعلقات،سیاسی،معاشی اور دفاعی ضروریات کے تحت طے کیے جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے ایرانی حکام کو اصل پیغام خود کو فرزند پاکستان اور فرزند ایران کہنے سے نہیں دیا۔ جو بات بلاول بھٹو نے دو ٹوک انداز سے واضح کی وہ یہ کہ پاکستان حکومت ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کی راہ دیکھ رہا ہے اور یہی چیز دوطرفہ تعلقات میں وسعت اور رابطے بڑھانے کے لیے بہتر فضا پیدا کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ایران کے حوالے سے مبصرین، سیاسی تجزیہ کار اور ماہرین معاشیات کی آراء کو سامنے رکھا جاے تو بلاول بھٹو کے دورے کو کامیاب دورہ قرار دیا جارہا ہے۔جبکہ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک کے سیاسی و سماجی حلقے اس موقع پر یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آیا ایران پاکستان پائپ لائن امریکی پابندیوں کے پیش نظر فعال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ملک کے کئی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سوئی اور دوسرے علاقوں میں گیس کے کم ہوتے ہوئے ذخائر ہیں جب کہ حکومت کو تیل کی درآمد پر بھی خطیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے میں پاکستان ایران پائپ لائن کا منصوبہ بحال ہوتا ہے تو اس سے معیشت کو بہت فائدہ ہو گا۔ لیکن دوسرے ناقدین کے خیال میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ اس طرح کے کسی بھی معاہدے کی صورت میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔پاکستان کی ایران سے جغرافیائی قربت ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں یا اس منصوبے کو مکمل کر کے فعال کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔ مالی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں اس معاہدے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔یقینا یہ معاہدہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر گیس اور تیل پیدا کرتے ہیں۔ پائپ لائن بچھانے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ کو فریٹ کے ریٹ دینے نہیں پڑتے بلکہ یہ ایل این جی سے بھی سستی پڑتی ہے۔‘‘

اس معاہدے کو کامیاب بنانے کیلئے سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کے دور میں کوششوں کا آغاز ہوا تھا اور اس کی قیمتوں پر نظر ثانی کی گئی۔ اگر اس وقت یہ معاہدہ طے پا جاتا تو آج ہم توانائی کی اس قدر سنگین صورت حال سے دوچار نہ ہو تے اور نہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ۔ اس وقت کئی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس معاہدے پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا لیکن اب حکومت کے پاس وقت بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی کہ وہ زرداری صاحب کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے از سر نو اس معاہدے پر کام کرے تاکہ ہم توانائی کے بحران سے نکل سکیں۔‘‘ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے طریقے موجود ہیں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان طریقوں پر عمل درآمد کرے۔ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ ایران اور روس مقامی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور پاکستان بھی ایسا کرکے امریکی پابندیوں سے کسی حد تک بچ سکتا ہے۔ انکے مطابق اگر ہم مقامی کرنسی میں ایران سے تجارت کرتے ہیں تو یقینا ایران کی گیس بہت سستی رہے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی محفوظ رہیں گے اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض بھی نہیں لینا پڑیگا۔ روس اور ایران مقامی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لوکل کرنسی میں حکومت یہ کام نہیں کر سکتی، تو پھر ہم بارٹر ( اشیاء کے تبادلے) کے ذریعے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ”نوے کی دہائی میں جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو ایران نے کہا تھا کہ آپ ہمیں شوگر اور ہیوی مکینیکل پلانٹس لگا کر دے دیں اور اس کے بدلے ہم آپ کو یہ پائپ لائن بنا کے دے دیتے ہیں۔ یہ تجویز بہت مناسب تھی، اس سے پاکستان کا زرمبادلہ بھی بچتا۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی نہیں پڑتا اور پاکستانی صنعت میں بھی بہتری آتی ہے۔ لیکن اس وقت ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اگر بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ایران کے بعد کوئی امکان منصوبے کی کامیابی کا پیدا ہوتا ہے، تو حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے اس پر کام کر کے اسے کامیاب بنائے۔

ایران نہ صرف تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے بلکہ روس کے بعد وہ گیس پیدا کرنے والا بھی دوسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ایران پاکستان پائپ لائن کے حوالے سے نوے کی دہائی سے بات چل رہی ہے۔ ایک مرحلے پر اس پائپ لائن منصوبے میں بھارت نے بھی دلچسپی ظاہر کی تھی اور اسے ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن یعنی آئی پی ٹی آئی کا نام بھی دیا گیا تھا لیکن کئی ناقدین کا خیال ہے کہ بعد میں امریکی دباؤ کی وجہ سے بھارت نے اس پروجیکٹ کو خیرباد کہہ دیا ۔مندرجہ بالا رپورٹ کے مندرجات اپنی جگہ۔ ماہرین کی رائے بھی صائب لیکن ہمیں اس وقت پاکستان کے معاشی مفاد کو پیش نظر رکھ کر فوری فیصلے کرنے ہیں جن کے دور رس اثرات ہوں اور پاکستان معاشی بحران سے نکل کر اپنی تیل اور گیس کی ضروریات بھی پوری کر سکے۔ اس ضمن میں بلاول بھٹو کی سفارت کاری کی تعریف و توصیف دنیا بھر میں کی جارہی ہے جبکہ پاکستان کے سنجیدہ دانشور بلاول بھٹو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے بہتر پاکستان بناتا ہوا بھی دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …