بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

امریکی انسانی حقوق، رہبر معظم کی نظر میں

تحریر: رامین حسین

امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ دنیا کے مختلف ادارے اور شخصیات ان خلاف ورزیوں پر امریکہ کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی مختلف مواقع پر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ تحریر حاضر میں ہم رہبر معظم انقلاب اسلامی کی نظر میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی حکومت کے رویوں کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

1)۔ امریکی حکمران انسانی حقوق کے قائل نہیں ہیں
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے اپنی ایک تقریر میں امریکی انسانی حقوق کے بارے میں فرمایا: "امریکی حکمران یہ دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کے حامی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے قائل ہی نہیں ہیں۔”

آپ نے امریکی حکمرانوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا: "آپ کمپنیوں کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں اور بڑے امریکی سرمایہ داروں کے حقوق کے قائل ہیں۔ آپ دنیا بھر میں امریکہ کی ناجائز رژیم کے مفادات پر عقیدہ رکھتے ہیں۔” امام خامنہ ای کی اس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ امریکی حکمرانوں کی جانب سے انسانی حقوق کی طرفداری کے دعوے محض ڈھونگ ہیں جس کا مقصد دنیا والوں کو دھوکہ دینا ہے۔ ولی امر مسلمین ایک اور جگہ فرماتے ہیں: "امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کا نعرہ لگانے کا مقصد دوسروں کو دھوکہ دینا اور ان پر دباو ڈالنا ہے۔” دنیا بھر خاص طور پر مشرق وسطی، افغانستان، براعظم افریقہ، لاطینی امریکہ اور حتی خود امریکہ کے اندر رونما ہونے والے سیاسی واقعات کا مختصر جائزہ لینے سے بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ خود امریکی حکمران انسانی حقوق کے سب سے بڑے خلاف ورزی کرنے والے ہیں۔

2)۔ انسانی حقوق سے متعلق امریکہ کا سیاہ نامہ اعمال
رہبر معظم انقلاب اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں: "امریکی حکمرانوں کو انسانی حقوق کا نام زبان پر لیتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی؟ دنیا میں کوئی بھی انسانی حقوق کی طرفداری کا دعوی کر سکتا ہے لیکن امریکی حکمران ایسا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کا نامہ اعمال انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔” حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں اگر کوئی کتاب لکھی جائے تو وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں صفحات پر مشتمل ہو گی۔ امریکی حکمرانوں نے ہمیشہ سے عرب دنیا میں موجود آمرانہ حکومتوں کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت کی ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ جیسی ڈکٹیٹر رژیم جو اپنی ہی عوام کے خلاف طاقت کا کھلا استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ کے فوجی قبضے کے دوران بیشمار بےگناہ انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔

3)۔ سیاہ فام امریکی شہریوں کے خلاف انسان سوز جرائم
امریکی حکومت ایک طرف تو انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کے دعوے کرتے دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسری طرف خود اپنی ہی سیاہ فام شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ امریکہ کے سیاہ فام شہری طویل عرصے سے حکومتی اداروں کی جانب سے شدید امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ اس بارے میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں: "امریکہ کے سیاہ فام شہری بدستور دباو، ظلم و ستم اور امتیازی رویوں کا شکار ہیں۔ داودی فرقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 80 افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ایک گھر میں جمع تھے اور امریکی سکیورٹی اداروں نے انہیں زندہ زندہ جلا کر راکھ بنا دیا۔ کیا یہ انسانی حقوق کی پابندی ہے؟ امریکہ کیسے خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے؟”

4)۔ فلسطین اور یمن میں امریکہ کا اصلی چہرہ عیاں ہوا ہے
یمن اور فلسطین میں امریکی حکومت نے جو اقدامات انجام دیے ہیں اس سے انسانی حقوق سے متعلق امریکی حکمرانوں کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں: "(امریکی حکمران) سعودی حکمرانوں کی مدد کرنے میں مصروف ہیں جبکہ وہ یمن کے بازاروں، مساجد، عزاداری کی مجالس اور خوشی کے جشن پر بم برسا کر یمنی شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ اوپر سے وہ انسانی حقوق کی حمایت کا دعوی بھی کرتے ہیں۔” ایک اور جگہ پر رہبر معظم انقلاب فرماتے ہیں: "دنیا کے لوگ مختلف مواقع پر ہمیشہ امریکی حکمرانوں کی زبان سے انسانی حقوق کا حامی ہونے کا نعرہ سنتے رہتے ہیں جبکہ فلسطین میں ان کے قبیح چہرہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔”

مسئلہ فلسطین میں امریکہ ہمیشہ سے غاصب صہیونی رژیم کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کرتا آیا ہے۔ اسی طرح امریکہ آل سعود رژیم کو بھی جدید ترین فوجی سازوسامان مہیا کرتا آیا ہے جن کے ذریعے سعودی حکمران بےگناہ یمنی شہریوں کا خون بہاتے آئے ہیں۔ فلسطینی شہریوں کے خلاف غاصب صہیونی رژیم اور یمنی شہریوں کے خلاف آل سعود رژیم کے مجرمانہ اقدامات اس قدر واضح ہیں کہ حتی مغربی ممالک کے شہری ان کی مذمت کرنے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں دنیا بھر میں انسانی حقوق سے متعلق سرگرم وکلاء نے "انتڑنیشنل ریسرچ کمیشن” قائم کیا ہے اور امریکی پولیس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی پولیس طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت سیاہ فام شہریوں کو ٹارچر اور قتل کرتی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …