بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

آگ سے جڑی تل ابیب کی تقدیر

گذشتہ ایک سال کے دوران صہیونی ریاست کے بہت سے صنعتی اور سیکورٹی مراکز اور اسلحہ ساز کارخانے عظیم آتش زدگیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ تل ابیب کی عارضی صہیونی ریاست نے ان واقعات کی خبروں کی کو سنسر کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی تصویریں بہرحال سماجی رابطے کی ویب گاہوں میں نشر ہو ہی گئیں اور صہیونی حکمرانوں کو ان میں سے کئی واقعات کے بارے میں وضاحت کرنا پڑی۔ یہ واقعات صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں کے لئے ایک اہم اور تزویراتی پیغام ساتھ لائے ہیں اور وہ یہ کہ تل ابیب کو مبینہ سلامتی سرزمین فلسطین میں کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور حاصل نہیں ہو سکے گی۔

مقبوضہ فلسطین میں آتش زدگیوں کی اہم ترین خبریں اپریل سنہ 2021ع‍ سے آنا شروع ہوئیں؛ جب ایک میزائل پروپیلنٹ (Missile propellant) کے صنعتی کمپلیکس میں عظیم دھماکہ ہؤا۔ یہ کمپلیکس “راملہ” شہر کے نواح میں واقع ہے اور مقبوضہ سرزمین کے مرکز کے قریب تعمیر کیا گیا ہے اور اس کا تعلق ۔ ٹومر (תומר Tomer) نامی سرکاری کمپنی سے ہے جو میزائلوں کے لئے مختلف نظامات اور میزائلوں کے انجن تیار کرتی ہے۔ اس کمپلیکس میں ہونے والے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے سے دھوئیں اور آگ کا ایک ستون دیکھا جا سکتا تھا اور اس کی تصاویر بھی شائع ہوئیں۔

صہیونی ریاست اور اس کی شراکت دار کمپنیوں نے یا تو ان واقعات پر چپ سادھ لی یا ایک قدم اور بھی آگے بڑھ کر انکار اور رازداری اختیار کر لی۔ تل ابیب کی فریق ٹھیکیدار کمپنی کے ترجمان نے اس دھماکے کے بارے میں ابتدائی طور دعویٰ کیا کہ سائبر اسپیس پر شائع ہونے والی تصویریں گمراہ کن ہیں؛ اور یہ کہ یہ ایک “دانستہ تجرباتی دھماکہ!” تھا جو کسی غیر متوقعہ حادثے پر منتج نہیں ہوا! کمپنی کے ترجمان نے دھوئیں کے بادلوں اور آسمان سے باتیں کرنے والی بھڑکتی آگ کے ستونوں کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر دعویٰ کیا کہ غاصب صہیونی وزارت جنگ کے ذرائع نے اس تجربے کا پیشگی اعلان نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ ٹومر کمپنی کی بنیاد میزائلوں کو دھکیلنے والے نظامات [متعلقہ ایندھن وغیرہ] کی تیاری کی غرض سے سنہ 2015ع‍ میں رکھی گئی اور صہیونی ذرائع کے مطابق یہ کمپنی عارضی صہیونی ریاست کے تیار کردہ بعض میزائلوں کے لئے انجن بنا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کمپنی ایرو (Arrow) فضائی دفاع نیٹ ورک، سیارچے خلا میں بھیجنے والے “شاویت” (Shavit) راکٹوں، نیز اسرائیلی ٹیکٹیکل آرٹلری سسٹم “ایکسٹرا” (Extended Range Artillery [EXTRA]) کے راکٹوں کے لئے انجن تیار کرتی ہے۔

ٹومر کمپنی میں آتش زدگی کی خبر آنے کے فورا بعد، ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی کہ ڈیمونا کے علاقے میں صہیونی جوہری تنصیبات کے قریب خوفناک دھماکے کی آواز سنائی دی ہے۔ المیادین نیوز چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ کم از کم ایک میزائل مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں واقع ڈیمونا کی جوہری تنصیبات کی طرف داغا گیا ہے۔ مقامی باشندوں نے بھی دھماکے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ ان کے گھر اس دھماکے سے لرز اٹھے ہیں۔

عارضی صہیونی ریاست کے حساس ترین جوہری مرکز کے قریب اس خوفناک دھماکے کے بعد، صہیونی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ تل ابیب کے زیر استعمال پیٹریاٹ امریکی سسٹم نے مذکورہ علاقے میں ایک میزائل کا راستہ روک لیا ہے!! حالانکہ میزائل متعینہ نشانے پر لگ گیا تھا اور سب نے علاقے میں تعینات صہیونی فضائی دفاعی نظام “آئرن ڈوم” کی کمزور کو ایک بار پھر دیکھ لیا جو باہر سے مقبوضہ سرزمین کی طرف آنے والے میزائل کا سراغ لگانے اور اس کو فضا میں ہی مار گرانے سے عاجز رہا۔ ڈیمونا پر کامیاب اور مؤثر میزائل حملے کے بعد مقبوضہ سرزمین کے مرکزی علاقوں میں خطرے کے سائرن کی آوازیں اور بھی زوردار انداز سے گونج اٹھیں جب کچھ ہی گھنٹے بعد صہیونی فوج کی ریڈیو سروس نے صہیونیوں کی سلامتی کے لئے اس دہشت ناک واقعے پر اپنے پہلے رد عمل کے طور پر اعلان کیا کہ “میزائل غزہ سے نہیں آیا ہے بلکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بیرونی حملہ تھا”۔ ڈيمونا کے دھماکے کے بعد تل آویو کی عارضی ریاست اور اس کے مغربی اور علاقائی حامی سمجھ گئے کہ “صہیونی ریاست کسی بھی قسم کا حملہ سہنے کے لئے تیار ہے اور اس کے زد پذیر نقاط میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ڈیمونا جوہری تنصیبات کے بعد آگ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع ایک بڑی عمارت کی مہمان بنی جو ایک بہت بڑے دھماکے کا باعث بنی۔ اس آتش زدگی کی خبر صہیونی حکام اور ذرائع ابلاغ کی مکمل خاموشی کے باوجود مختلف ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی۔ عارضی صہیونی ریاست کے ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ علاقوں کے شمالی شہر عکا کی عمارت میں آتشزدگی کو کوریج دیتے ہوئے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ آتشزدگی عکا شہر کی شالوم جلیل اسٹریٹ پر ایک باغ میں واقع تعمیراتی منصوبے میں ہوئی ہے۔ لیکن مذکورہ عمارت میں لگی ہوئی آگ اس قدر شدید تھی کہ امداد و نجات (Rescue) اور فائر بریگیڈ حکام کو آس پاس کے رہائشیوں سے اپیل کرنا پڑی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

فائر بریگیڈ کے آپریشن کمانڈر نے یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد اعلان کیا تھا کہ فائر بریگیڈ کے کمانڈر آپریشنز نے واقعے کے بعد اعلان کیا تھا کہ مذکورہ عمارت سے آگ کے دوسری عمارتوں تک پھیل جانے کے خدشے کے پیش نظر ان میں سے کچھ لوگوں کو نکال لیا گیا ہے؛ ادھر صہیونی اخبار “اسرائیل ہیوم” کی رپورٹ کے مطابق – دھوئیں کی شدت – عمارت سے کافی دور رہنے والے لوگوں کو بھی گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔ شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہو رہا تھا کہ آتشزدگی سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے بادلوں نے پورے علاقے کے ڈھانپ رکھا ہے جس کو بہت دور کے علاقوں سے دیکھا جاسکتا تھا۔ صہیونی حکام اور ذرائع ابلاغ نے اس آگ اور دھوئیں کے بارے میں کسی بھی قسم کی وضاحت کرنے سے احتراز کیا اور اس واقعے کے مالی اور جانی نقصانات کے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔ بہرحال بعض ماہرین نے اسی طرح کے دوسرے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ آتشزدگی کا یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔

آتشزدگی کا ایک واقعہ مقبوضہ فلسطین کے علاقے صحرائے النَقَب کے قریبی شہر “رہط” میں رونما ہؤا۔ جعلی صہیونی ریاست – شدید سیکورٹی انتظامات کرکے اور ابلاغیاتی قدغن لگا کر بھی – دھوئیں کے بلند و بالا ستونوں کو نہ چھپا سکی اور اس واقعے کے اہم حصوں کو کیمروں نے ضبط و ثبت کرکے نشر کیا۔

غاصب صہیونیوں کو مقبوضہ سرزمین کے علاقے کے ایک بڑے واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع نے غاصب یہودی ریاست کے فائر بریگیڈ حکام کے حوالے سے رپورٹ دی کہ گذشتہ سال (2021ع‍) میں درہ اردن میں واقع صنعتی علاقے شلومتزیون (Shlomtzion) میں ایک بڑی آتش زدگی ہوئی۔ یہ بھی اعلان ہؤا کہ یہ آتشزدگی ایک عمارت سے شروع ہوئی جو درحقیقت خطرناک کیمیاوی مواد تیار کرنے کا ایک کارخانہ ہے۔ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کی تیس سے زیادہ ٹیموں نے خطرناک صنعتی علاقے میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ صہیونی ریاست کے فوجیوں نے اس واقعے کے بعد ارد گرد کے تمام مراکز کو خالی کروا کر بند کردیا اور یہودی بستیوں “یافیت” (Yafit) اور ماسوآ (Massu’a) اور غاصبوں کی دوسری بستیوں کے رہائشیوں سے کہا تھا کہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

مقبوضہ فلسطین کی حیفا (Haifa) بندرگاہ کی پیٹرو کیمیکل تنصیبات بھی ان اہم مقامات میں سے ایک ہے جس کو اس سال (2022ع‍) میں آگ کی میزبانی کرنا پڑی۔ غاصب صہیونی ریاست کے بعض ذرائع نے حیفا میں گیس ٹینکوں سے آگ بھڑک اٹھنے کی خبر دیتے ہوئے اس واقعے کی شدت کو نمایاں کیا؛ گوکہ جعلی ریاست کے سرکاری ذرائع نے اس آتشزدگی کی خبروں کو وسیع پیمانے پر کوریج دیئے جانے کا سد باب کرنے کی بہتیری کوشش کی لیکن کچھ مقامی ذرائع اور سماجی رابطے کی ویب گاہوں پر شائع ہونے والی خبریں اور تصاویر بتا رہی تھیں کہ نہ صرف حیفا کے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں بڑا دھماکہ ہؤا ہے بلکہ مقبوضہ ساحلی شہر ریشون لصیون (Rishton Letzion) کے پیٹرول پمپوں میں بہت بڑا خلل واقع ہؤا ہے۔

اور ہاں! 24 مئی سنہ 2022ع‍ کو حیفا کے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں آگ لگنے سے ایک ہی روز قبل اسی بندرگاہ پر واقع بحری جہاز بنانے کے کے کارخانے میں بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا اور جعلی صہیونی ریاست کی امداد و نجات کی گاڑیاں اس علاقے میں بھجوا دی گئیں تھیں لیکن علاقے کے گھیر لیا گیا تھا اور اندر سے کوئی خبر باہر کو نہ آ سکی اور حیفا کے مقام پر ان پے در پے واقعات کی خبروں کو سنسر کیا گیا، ان کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا اور ان کے اسباب بیان نہیں کئے گئے۔ البتہ ان دو واقعات سے پہلے بھی کچھ خبریں ایسی بھی آئیں کہ مقبوضہ سرزمین کے اسی علاقے “حیفا” میں واقع صہیونیوں کی غذائی صنعت کے ایک بڑے مرکز میں بھی بڑی آگ لگی تھی۔ رپورٹ اسرائیل نامی نیوز ویب سائٹ نے جعلی ریاست کے فائر بریگیڈ کے ترجمان کے حوالے سے اس آگ پر قابو پانے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ حیفا بندرگاہ کے فائر بریگیڈ نے آگ کو پھیلنے نہيں دیا تھا۔

آج سے دو ہفتےقبل بھی منگل (31 مئی 2022ع‍) کی صبح کو الشہاب نیوز نے رپورٹ دی کہ العیساویہ گاؤں میں صہیونی فوج کے ایک اڈے کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ ایجنسی کے مطابق یہ اڈہ غاصب فوجیوں اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد نذر آتش کیا ہے اور آگ مسلسل پھیل رہی ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اس واقعے سے قبل صہیونیوں نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا تھا اور انہین فلسطینی نوجوانوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سے پہلے یکم مئی 2022ع‍ کو بھی شمالی فلسطین کے علاقے “احراش” نامی بستی میں وسیع آتش زدگی کی خبریں آئی تھیں اور جعلی ریاست نے فائر بریگیڈ کی نو ٹیمیں اور چار آگ بجھانے والے طیارے اس علاقے کی طرف بھجوائے تھے؛ غاصب صہیونیوں نے معمول کے مطابق اس آتشزدگی کے اسباب اور نقصانات کو صیغہ راز میں رکھا تھا۔

دو روز قبل بدھ (8 جون 2022ع‍) کو مقبوضہ فلسطین میں تازہ ترین آتشزدگیوں کے تسلسل میں ذرائع نے خبر دی کہ مقبوضہ فلسطین کے شمال مغربی شہر حیفا کے نواح میں ایک بڑی آتشزدگی واقع ہوئی ہے۔ عرب48 نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ آگ “عرعرہ” میں واقع لکڑی کے ایک کارخانے میں لگی ہے جس کے نتیجے میں کارخانے کے آس پاس کے رہائشی علاقوں کو خالی کر دیا گیا اور سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔ آتشزدگی کا ایک واقعہ ایسے حال میں رونما ہؤا ہے کہ اس سے ایک روز قبل رات گئے صہیونی غاصبوں کی ایک فوجی میس (mess) میں آگ لگی ہے۔

عارضی صہیونی ریاست کے ٹی وی 11 نے (8 جون 2022ع‍ کو) ملٹری اکیڈیمی-1 کے افسروں کی میس میں آتش زدگی کی خبر نشر کی لیکن اس کی وجہ نہیں بتائی۔ اور 9 جون کے شمالی فلسطین میں ایک لکڑی کے کارخانے میں آتشزدگی ہوئی جو اس قدر شدید اور وسیع تھی کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو کئی گھنٹوں تک آگ کا پھیلاؤ روکنے میں مصروف رہنا پڑا۔

ارنا نے “فلسطین الیوم” کے حوالے سے رپورٹ دی ہی کہ مقبوضہ فلسطین کے شہر “صفد” کے مرکزی بس ٹرمینل میں آگ لگی ہے۔ آج (11 جون 2022ع‍ کو) صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اس واقعے میں 18 بسیں جل کر راکھ ہوئی ہیں۔ ابھی تک [معمول کے مطابق] اس آتشزدگی کا سبب اور مزید نقصانات کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

بشکریہ ابنا نیوز ایجنسی

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …