پیر , 26 ستمبر 2022

ایرانی پیشرفتہ جنگی کشتی کا تعارف، صیہونی اخبار کی زبانی

غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے معروف روزنامے نے ایرانی انقلابی گارڈز سپاہ پاسداران کی جانب سے تیار کردہ ریڈار میں نہ آئے والی تازہ جنگی کشتی کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے لکھا ہے کہ سپاہ پاسداران کی بحری فورس جو عموماً تیز رفتار لڑاکا کشتیوں اور ڈرون طیاروں سے لیس ہوتی ہے، اب جدید بنیادوں پر پیشرفت کرتے ہوئے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جنگی بحری کشتیاں بنانے میں مصروف ہے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کا لکھنا ہے کہ سیٹلائیٹ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران ایک نیا لڑاکا بحری بیڑہ تیار کر رہا ہے جبکہ ایران نے قبل ازیں 65 میٹر طویل جنگی کشتی بھی سمندر میں اتاری تھی، جو ایک بڑے خفیہ منصوبے کا نتیجہ تھی۔ صیہونی اخبار کا لکھنا ہے کہ نیا ایرانی بحری بیڑہ جزیرہ قشم کے ایک کارخانے میں تیار کیا جا رہا ہے۔

یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ ریڈار میں نہ آنے والی اس نئی جنگی کشتی نے سب سے پہلے اماراتی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروائی، جس کے بعد وہ کھل کر منظر عام پر آگئی۔ صیہونی اخبار نے لکھا کہ ایران کی نئی جنگی کشتی میزائلوں سے لیس ہے اور پیشرفتہ نظر آتی ہے، جس کی لمبائی 144 فٹ ہے جبکہ اس کشتی کا پچھلا عرشہ بھی جدید نظر آتا ہے، جو ممکنہ طور پر "نور” یا "قادر” اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہوسکتا ہے، جو چینی میزائلوں کی طرز پر تیار کئے گئے اور "ہارپون” و "نپچون” اینٹی شپ میزائلوں جیسے ہیں۔ صیہونی اخبار نے لکھا کہ یہ جنگی کشتیاں ایران کے لئے اہم ہیں، کیونکہ وہ خلیج فارس میں امریکہ کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایرانی بحریہ اور ایرانی سپاہ پاسداران کی بحریہ 2 علیحدہ علیحدہ بحری فورسز ہیں، درحالیکہ سپاہ پاسداران کے پاس سینکڑوں تیز رفتار جنگی کشتیاں اور ایرانی بحریہ کے پاس متعدد ایسے جنگی بحری بیڑے ہیں، جو وطن سے کہیں دور بحری آپریشن انجام دینے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی لکھاری سٹتھ فرینٹسمین نے اپنے مقالے میں مزید لکھا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جو عام طور پر تیز رفتار جنگی کشتیوں سے لیس ہوتی ہے، کی بحری فورسز کی حالیہ کامیابیوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ عنقریب ہی بڑے جنگی بحری بیڑے بھی سمندر میں اتار دے گی، جس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایران میزائلوں سے لیس جنگی بحری بیڑے تیار کر رہا ہے۔ صیہونی مصنف نے ایران کی نئی پیشرفتہ جنگی کشتی کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ ان جنگی کشتیوں کو نہ صرف راکٹوں، تارپیڈو، مائنوں اور اینٹی شپ میزائلوں سے لیس دوسری لڑاکا کشتیوں کے لئے کمانڈ شپس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ علیحدہ طور پر عمل کرتے ہوئے سپاہ پاسداران کے لئے ایک لمبے رینج کی کمبیٹ فورس کا کام بھی دے سکتی ہیں۔ بہرحال یہ دونوں قسم کی جدید ایرانی جنگی کشتیاں سپاہ پاسداران کے جدت پسندانہ منصوبے میں سرفہرست ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دمشق اور انقرہ کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے:شامی وزیر خارجہ

دمشق:شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد کا کہنا ہے کہ دمشق اور انقرہ کے درمیان …