اتوار , 25 ستمبر 2022

ایران کا یمن کو اسلحے کی فراہمی کیلئے برطانیہ کے بے بنیاد دعوے کو مسترد

تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے برطانوی حکومت کے اس بے بنیاد الزام کو مسترد کر دیا کہ برطانوی افواج نے یمنی عوام کے لیے ہتھیاروں کی ایک ایرانی کھیپ کو ضبط کر لیا ہے۔

یہ بات ناصر کنعانی نے جمعہ کے روز برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے اس دعوے پر اپنے ردعمل کا ظاہر کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی مسلح افواج نے بے بنیاد دعوی کیا کہ انہوں نے جنوری 2022 میں ایرانی اسلحے کی کھیپ پکڑی تھی مگر اس طرح کا الزام بے بنیاد اور پرانا ہے۔
کنعانی نے کہا کہ برطانیہ بے دفاع یمنی عوام کا قتل عام کرنے کے لیے خود ساختہ فوجی اتحاد کو جدید ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ لہذا، برطانیہ یمن کے خلاف جارحیت کی جنگ میں مجرم ہے۔ اس طرح یہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اپنا ایک انسان دوست چہرہ پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
کنعانی نے کہا کہ برطانوی ذرائع ابلاغ کی خبروں اور اعداد و شمار کے مطابق، اس ملک نے یمن مخالف اتحاد کو تقریباً 8 ارب پاؤنڈ کے جدید ہتھیار فروخت کیے ہیں، جن میں بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، عین مطابق گائیڈڈ گولہ باری اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ یورپی ملک میں اسلحہ تیار کرنے والوں کو مختص مخصوص اجازتوں پر غور کرتے ہوئے تعداد بڑھ جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ نے یہ ہتھیار سعودی قیادت والے اتحاد کو فروخت کیے جب کہ برطانوی حکام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ حملہ آور سکولوں، ہسپتالوں، شادیوں کی تقریبات میں بے دفاع لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور یہاں تک کہ کھانے پینے کی اشیاء کے گوداموں پر بھی گولہ باری کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاشبہ، برطانوی حکومت کی جانب سے اتحاد کو ہتھیاروں کی برآمدات کا جاری رہنا غیر انسانی تنازعات کے جاری رہنے کی ایک وجہ ہے۔ اس لیے برطانیہ کے پاس اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دعوے کرنے کی کوئی اخلاقی صلاحیت نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے،اختلافات کا خاتمہ ہونا چاہیے: مقتدیٰ صدر

بغداد:عراق کے مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدی صدر نے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے ، جنگ …