بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

تصاویر: سری لنکن صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر مظاہرین کا دھاوا

سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کی سرکاری رہائش گاہ پر ہزاروں شہریوں نے دھاوا بول دیا اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جہاں گزشتہ 7 دہائیوں میں بدترین معاشی بحران کے باعث عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

فوجی اور پولیس اہلکار نعرے لگاتے ہوئے مشتعل ہجوم کو روکنے میں ناکام رہے اور مظاہرین لوہے کے گیٹ توڑتے ہوئے وزارت خزانہ اور صدر گوٹابایا راجا پکسے کے دفتر میں داخل ہوگئے۔

صدارتی محل کے اندر سے نشر ہونے والی فیس بک لائیو میں دکھایا گیا کہ ہزاروں مظاہرین کمروں اور کوریڈور میں جمع ہوگئے، ان میں چند مظاہرین کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھا۔

ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند افراد سوئمنگ پول میں پہنچے ہوئے ہیں اور کئی مظاہرین بیڈ اور صوفوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ ویڈیوز سوشل میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔

مظاہرین نے سری لنکن صدر کے دفتر میں پہنچنے کے بعد نعرے لگائے اور غصے کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے صدر کی سرکاری رہائش گاہ میں داخلے کے بعد قومی پرچم لہرایا اور نعرے لگائے

مظاہرین نے صدر کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہونے کے بعد خوشی کا اظہار کیا

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیےآنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا

سری لنکا کے عوام نے معاشی بحران پر غصے کا شدید اظہار

مظاہرین نے سری لنکن صدر سے استعفے کا مطالبہ کیا

یہ بھی دیکھیں

تصاویر: افغانستان میں بدترین زلزلے سے نقصانات

افغانستان کے جنوب مشرقی شہر خوست کے قریب آنے والے زلزلے میں اب تک ایک …