اتوار , 25 ستمبر 2022

 سری لنکا کے بدترین اقتصادی بحران نے تخت و تاج کو ہلا کر رکھ دیا

سری لنکا کے2019سے شروع ہوئے بدترین اقتصادی بحران نے تخت و تاج کو ہلا کر رکھ دیا، انتخابات جیتنے کےلئے غیر حقیقی اقدامات سے ملک معاشی تباہی میں چلاگیا،ٹیکسوں میں کٹوتیاں اور بھاری سب سڈی دینے کے اعلانات نے خزانے خالی کردیے ،صدارتی محل میں مظاہرین گھوم رہے ہیں جب کہ صدر کا اتا پتہ نہیں۔سری لنکا میں معاشی بحران کی وجہ معاشی بدانتظامی،بیرونی قرضوں میں اضافہ، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی،کرنسی کی قدر میں گراوٹ، اور بڑھتی ہو ئی مہنگائی ہے۔عوامل ٹیکسوں کی کٹوتیاں، نوٹ چھاپنے،نامیاتی کاشتکاری کی طرف منتقلی،2019کے ایسٹر دھماکے، اور کووڈ کے اثرات ہیں۔ حکمران اتحاد کی طرف سے اکثریت کھو دینے سے سیاسی انتشار بڑھ گیا۔یوکرائین جنگ نے مزید حالات خراب کردیے۔سیاسی بحران اور ناقابل یقین مہنگائی نے ملک بھر کو سراپا احتجاج میں تبدیل کردیا، حکومت نے 2005میں الیکشن جیتنے کےلئے کسانوں کو کھادوں پر بھاری سب سڈی دینے کا اعلان کیا جسے ماہرین نے تباہ کن فیصلہ قرار دیا لیکن یہ سب سڈی سولہ سال سے زائد تک جاری رہی جسے گزشتہ سال کے آخر پر ختم کیا گیا۔سری لنکا1965سے 2016تک آئی ایم ایف سے سولہ بار قرض پروگرام میں گیا،اور یہ قرض سخت شرائط کے ساتھ لئے گئے جن میں بجٹ خسارے میں کمی،غذائی اشیا پر سب سڈی کے خاتمے، مانیٹری پالیسیوں میں سختی، اور کرنسی کی قدر میں کمی شامل تھی۔ 1948میں آزادی کے بعد ملک کو پہلی بارایسے شدید بحران کا سامنا ہے۔سری لنکا کی کرنسی کی قدر گر چکی،ایک ڈالر 360سری لنکن روپے کے برابر ہے۔ سری لنکا کا قرض سے جی ڈی پی تناسب 2019میں 42فی صد تھا جب کہ2021میں 119فی صد ہو چکا۔ رواں برس8ارب 60کروڑ ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنی ہے جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی کروڑڈالر رہ گئے۔اپریل2021میں سری لنکن حکومت نے حکم دیا کہ ملک کی تمام زراعت نامیاتی کاشت کاری پر منتقل کردی جائے، کھادوں کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی،دلیل یہ دی گئی کہ کھادوں کے صحت پر مضر اثرات ہوتے ہیں۔ان اقدامات نے زرعی پیداوار میں نصف حد تک کمی کردی،افراط زر کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔خوراک سے لے کر ایندھن تک تمام اشیائے ضروری کی قلت ہے۔مظاہرین ملک کو اس اقتصادی تباہی کے دھانے پر لے جانے کا ذمہ دار صدر راجاپکسے حکومت کو قرار دیتے ہیں،ان کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کرچکے ہیں،مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہو گئے،کچھ اطلاعات کے مطابق وہ ملک سے فرار ہوچکے ہیں تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ فوج کی نگرانی میں محفوظ مقام پر ہیں۔گزشتہ ماہ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ضروری اشیا کی ادائیکی کے قابل نہیں رہے۔جنوبی ایشیا کی سوا دو کروڑ آبادی کے ملک میں ڈالرز کی کمی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے ساتھ عراق اور ناروے میں سفارت خانے اور آسٹریلیا میں قونصل خانہ بند کیا جاچکا، دسمبر میں نائیجیریا، جرمنی اور قبرص میں سفارتی مشن بند ہوچکے۔ معیشت کا سیاحت پر بہت زیادہ انحصار ہے۔کرونا کے باعث سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جس نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔سری لنکا 2007 سے مسلسل غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے ہے جو 11 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔سری لنکا کے غیر ملکی قرضوں میں 14 فی صد سے زائد ایشیائی ترقیاتی بینک سے لیا گیا ہے جو ساڑھے چار ارب سے زائد ہے۔اس قرض میں جاپان اور چین دونوں کے الگ الگ ساڑھے تین ارب سے زائد بھی واجب الادا ہیں۔اس کے علاوہ بھارت اور عالمی بینک، اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضے بھی شامل ہیں۔پچھلے عشرے میں چین نے سری لنکا کو پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کا قرضہ دیا ہے۔یہ فنڈز ایسے منصوبوں کے لیے دیے گئے جن کی لاگت بہت زیادہ ہے لیکن ان سے آمدن کے امکانات بہت کم تھے۔ اس لیے ان منصوبوں کی وجہ سے سری لنکا کے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا لیکن ان کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ آمدن کے ذرائع پیدا نہیں ہوئے۔چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔سری لنکا کے معاشی مسائل کی وجہ اقتصادی پالیسیاں بھی ہیں۔ 2007 کے بعد سے ہر حکومت قرضوں کی ادائیگی کے لیے کسی سوچ بچار کے بغیر بانڈز جاری کرتی رہی ہیں۔ایک جانب حکومت غیر ملکی قرضوں اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے ڈالر استعمال کرتی رہی تو دوسری جانب مرکزی بینک نے ملکی کرنسی کی قدر کو برقرار رکھنے کے لیے زرمبادلہ کا استعمال کیا۔اس وجہ سے غذا اور دیگر اشیاباہر سے منگوانے کے لیے زرِ مبادلہ ہی نہیں بچا اور افراطِ زر میں بھی اضافہ ہوا۔صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد صدر گوتابایا راجا پکشے نے بڑے پیمانے پر ٹیکس کٹوتیوں کا اعلان کیا۔ ان اقدامات کے تحت ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو تقریباً نصف کردیا گیا۔ ٹیکس میں کمی سے ملکی آمدن متاثر ہوئی۔ ٹیکس میں کمی کے اس فیصلے کے کچھ ہی عرصے بعد کرونا کی عالمی وبا پھیل گئی۔وبا کے باعث دنیا بھر میں سفری پابندیاں عائد ہونے لگیں اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سری لنکا کی معیشت اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔گزشتہ دو برسوں میں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 70 فی صد سے زائد کمی آئی۔سری لنکا نے بھارت سے ایک ارب ڈالر قرض حاصل کیاہے۔چین سری لنکا کو ڈیڑھ ارب روپے کی قرض کی سہولت دینے پر غور کر رہا ہے۔پچھلے عشرے میں چین نے سری لنکا کو شاہراہوں، بندرگاہوں، ایک ایئرپورٹ کی تعمیر اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کا قرضہ دیا ہے۔کچھ ماہرین سری لنکا کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار چین کو بھی قرار دیتے ہیں۔ قرض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اسے چین کو 99سال کی لیز پر پورٹ دینی پڑی۔ اب سری لنکا کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے حالیہ مہینوں میں بھارت نے سری لنکا کی2ارب چالیس کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے۔سری لنکا اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف سے تقریباً 3.5 بلین ڈالر کی بیل آؤٹ رقم کا مطالبہ کر رہا ہے، جس کے لیے وہ بات چیت کر رہا ہے۔سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اس سال آئی ایم ایف سمیت عالمی برادری سے پانچ بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی صدر نے غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر دیا

واشنگٹن:امریکا کے صدر نے اہم غیر نیٹو اتحادی کے افغانستان کے درجے کو ختم کر …