بدھ , 30 نومبر 2022

ماؤنٹ ایورسٹ، نانگا پربت کی بلندی میں اضافہ ہو رہا ہے؟

چین اور نیپال کے تازہ ترین سرکاری مشترکہ سروے کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ سطح سمندر سے 8848.86 میٹر (29032 فٹ) بلند ہے۔

لیکن یہ دنیا کی واحد بلند چوٹی نہیں۔ ہمالیہ کے اسی سلسلے میں سطح سمندر سے 8000 میٹر (26247 فٹ) کی بلندی پر دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے 10 موجود ہیں۔

ایلمور کا کہنا ہے کہ ایورسٹ اپنے جیسی چوٹیوں میں گھری ہوئی ہے ’اگر آپ نے کبھی گرین لینڈ یا کینیڈین راکیز کے اوپر پرواز کی ہے تو آپ نے وہاں بڑے بڑے پہاڑ دیکھے ہوں گے لیکن ہمالیہ ایک مختلف دنیا ہے۔‘

اتنی بلند چوٹیوں میں گھری اس چوٹی کے متعلق کیا یہ جاننا ممکن ہے کہ آخر یہ کتنی بڑی چوٹی ہے؟ ایلمور اس کا جواب دینے سے ہچکچاتی ہیں ’یہ ایسا ہی ہے جیسے باسکٹ بال ٹیم کے سب سے لمبے شخص کو یہ بتانے کی کوشش کرنا کہ اس ٹیم میں سب ہی لمبے قد کے ہیں لیکن اس کا قد تھوڑا سا زیادہ ہے۔‘

دنیا کے سب سے بلند پہاڑ کی پیمائش کی تاریخ 1852 تک جاتی ہے۔ اس وقت یورپ میں چارلس ڈکنز اپنے ناول بلیک ہاؤس کی قسطیں شائع کر رہے تھے اور شمالی امریکہ نے بھاپ سے چلنے والے اپنے پہلے فائر انجن کی جانچ پڑتال کا کام شروع کر رکھا تھا۔

ایشیا میں ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی ایک معمہ تھی۔ اسے صرف ’چوٹی 15‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

انگریزوں نے ایک انڈین ریاضی دان رادھا ناتھ سقدار کو اپنے عظیم مثلثی سروے پر کام کرنے کے لیے ملازمت پر رکھا تھا۔ وہ جس علاقے پر قبضہ کر رہے تھے اس کے بارے میں زیادہ درست جغرافیائی معلومات اکٹھا کرنا چاہتے تھے تاکہ تجارتی اور فوجی مقاصد کے حوالے سے ان علاقوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے کنٹرول کر سکیں۔

سقدار نے مثلثیات کا استعمال کیا۔ انھوں نے ان چوٹیوں کی مدد سے جن کی پوزیشنز اور بلندیاں پہلے ہی معلوم تھیں، ایورسٹ کے افقی اور عمودی زاویوں کو ناپا۔ اس طرح انھوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی کی پیمائش کی۔ ان کے حساب کے مطابق یہ پہاڑ 8839.8 میٹر (29002 فٹ) اونچا تھا۔

اگرچہ 1850 کی دہائی کے مقابلے میں اب پہاڑوں کی پیمائش کرنے والی ٹیکنالوجی میں جدت آ چکی ہے لیکن رادھا ناتھ سقدار کے اعداد و شمار حیران کن حد تک درست تھے اور ان کی پیمائش اور تازہ ترین سرکاری اونچائی میں محظ نو میٹر کا فرق تھا۔

اگرچہ اس تلاش اور کام کا سہرا سقدر کے سر جاتا ہے مگر پہاڑ کا نام ان کے سابقہ ​​برطانوی باس سرویئر سر جارج ایورسٹ کے نام پر رکھا گیا جو سقدار کی اس دریافت سے کئی سال پہلے ریٹائر ہو چکے تھے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

تب سے کئی ٹیمیں ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی کو سمجھنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سنہ 1954 میں ایک انڈین سروے میں ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 8848 میٹر (29029 فٹ) بتائی گئی جسے نیپالی حکومت نے بھی قبول کیا۔

لیکن پھر سنہ 2005 میں چینیوں نے اس کی پیمائش 8848 میٹر (29017 فٹ) یعنی تقریباً چار میٹر (13 فٹ) کم کی۔

اس کے بعد سنہ 2020 میں چین اور نیپال کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر ایک نئی سرکاری طور پر قبول شدہ اونچائی پر اتفاق کیا جو سروے آف انڈیا کے اصل حساب سے 0.86 میٹر (2.8 فٹ) زیادہ تھی۔

اگرچہ پہلے سے پیمائش شدہ اونچائی میں یہ تبدیلیاں سروے کرنے والوں کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی میں بہتری کی وجہ سے ہیں، لیکن اس میں سیاست کا بھی عمل دخل ہے۔

ایک لمبے عرصے سے چین اور نیپال اس پر بحث کرتے آئے ہیں کہ آیا سمٹ پر برف کی ٹوپی کو پیمائش میں شامل کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

لیکن ہمیں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہر سال ایورسٹ کی اونچائی میں تھوڑا سا اضافہ ہو جاتا ہے۔

کسی زمانے میں ایورسٹ کی چونا پتھر پر مشتمل چوٹیاں سمندر کی تہہ پر تھیں مگر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سب تقریباً 200 ملین سال پہلے تبدیل ہونا شروع ہوا جس وقت جراسک ڈائنوسار سامنے آنا شروع ہوئے اور جب پینجیا کا سپر براعظم ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔

انڈیا کا براعظم آخرکار آزاد ہو گیا اور 150 ملین سال تک بحر طیطس کے وسیع حصے میں شمال کی طرف سفر کرتا رہا یہاں تک کہ تقریباً 45 ملین سال پہلے یہ ایک ساتھی براعظم جسے اب ہم ایشیا کے نام سے جانتے ہیں، سے جا کر ٹکرایا۔

ایک براعظم کی دوسرے میں جا کر ٹکرانے کی وجہ سے بحر طیطس کے نیچے موجود سمندری پرت کی بنی پلیٹس، یوریشین پلیٹ کے نیچے کھسک گئیں۔ اس کے نتیجے میں سبڈکشن زون تخلیق ہوا۔

اس کے بعد سمندری پلیٹ زمین کے پردے میں مزید گہرائی میں پھسلتی گئی، اور اس عمل کے دوران چونے کا پتھر کھرچتا چلا گیا یہاں تک کہ انڈین اور یوریشین پلیٹیں ایک ساتھ سکڑنا شروع ہو گئیں۔

انڈین پلیٹس نے ایشیا کے نیچے پھسلنا شروع کیا، لیکن چونکہ یہ سمندری پلیٹ سے زیادہ سخت چیزوں سے بنی ہے اسی لیے یہ صرف اس کے نیچے کھسکی نہیں مگر چونے کے پتھر کی کرسٹ اور ٹکڑوں کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہوئے سطح بکھرنے لگی۔

اور اس کے نتیجے میں ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ اوپر اٹھنا شروع ہوا۔ تقریباً 15-17 ملین سال قبل ایورسٹ کی چوٹی کی بلندی 5000 میٹر (16404 فٹ) تک پہنچ چکی تھی اور اس کی بلندی میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔

دو براعظموں کی پلیٹوں کے درمیان ٹکراؤ آج بھی جاری ہے۔ انڈیا سالانہ پانچ سنٹی میٹر (2 انچ) شمال کی جانب سرک رہا ہے جس کی وجہ سے ایورسٹ کی چوٹی کی بلندی میں سالانہ چار ملی میٹر (0.16 انچ) اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ہمالیہ کے دوسرے حصے سالانہ 10 ملی میٹر (0.4 انچ) بڑھ رہے ہیں۔

لیکن ایورسٹ کی اونچائی کیوں اور کیسے تبدیل ہوتی ہے؟ یہ سمجھنا آسان نہیں۔ جب پلیٹ ٹیکٹونکس چوٹی کو آسمان کی طرف دھکیل رہی ہوتی ہیں، کٹاؤ اسے دور دھکیل رہا ہوتا ہے۔

اس عمل کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے ماونٹ ایورسٹ سے 8700 میٹر (5405 میل) دور ایک اور چوٹی پر تحقیق کی۔

یہ بھی دیکھیں

یوکرین کے فوجی وفد کا خفیہ دورہ اسرائیل

کیف:یوکرین کا ایک فوجی وفد خفیہ دورے پر اسرائیل پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق صیہونی ذرائع …