پیر , 26 ستمبر 2022

مال بردار جہاز جو برج خلیفہ کی بلندی کو چھو سکتے ہیں

گذشتہ سال جب ایور ایس نامی دنیا کا سب سے بڑا مال بردار بحری جہاز 14 اگست کو چین کے ینیشیئن پورٹ سے نکل کر جنوبی چین سمندر میں داخل ہوا تو یہ ایک ریکارڈ توڑنے والے سفر کی شروعات تھی۔

آج تک کسی بھی مال بردار بحری جہاز نے اتنے زیادہ کنٹینرز کے ساتھ سفر نہیں کیا جو 20 فٹ کے تقریبا 21710 کنٹینرز بنتے ہیں۔

تقریباً 400 میٹر لمبا اور 62 میٹر چوڑا یہ مال بردار جہاز واقعی دیو ہیکل حجم کا ہے لیکن اس جیسے کم از کم ایک درجن اور جہاز بھی موجود ہیں جب کہ کئی زیر تعمیر ہیں۔ اگر ان میں سے کسی دو کو ملا کر اوپر تلے کھڑا کر دیا جائے تو وہ دنیا کی طویل ترین عمارت، دبئی کے برج خلیفہ، جتنے بلند ہوں گے۔

اگر دنیا کے سب سے بڑے کنٹینر جہازوں کی فہرست پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ہی لمبائی میں 400 میٹر یا کچھ کم ہیں اور 60 میٹر چوڑے ہیں۔ آج کے دور میں ان کا حجم اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا، جس کی کئی حیران کن وجوہات ہیں، اور یہ بھی کہ مستقبل میں بلکہ آئندہ کبھی بھی ان سے بڑے مال بردار بحری جہاز بنائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن یہ وجوہات ہیں کیا؟

دنیا بھر میں تقریبا 5500 کنٹینر جہاز ہیں جو مجموعی طور پر 20 فٹ کے 25 ملین کنٹینر لے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ہر جہاز مکمل طور پر کنٹینرز سے لدا ہوا ہو۔

جارج گرفتھس ایس اینڈ پی گلوبل کے کنٹینر مارکیٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آئندہ چند سال کے دوران نئے کنٹینزر جہازوں کی تیاری سے سامان لے جانے کی یہ صلاحیت 25 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

’ہم بڑے حجم کے بہت زیادہ کنٹیزر جہاز تیار ہوتے دیکھ رہے ہیں جو حیران کن طور پر 14000 تک کنٹینرز لے جا سکتے ہیں۔‘

صرف گذشتہ دہائی کے دوران ہر مال بردار بحری جہاز کی اوسط صلاحیت 3000 سے بڑھ کر 4500 ٹی ای یو تک پہنچ چکی ہے اور اس وقت 21000 سے زیادہ کی صلاحیت رکھنے والے 50 سے زیادہ جہاز ہیں۔ تقریباً یہ سب ہی گذشتہ پانچ سال کے دوران تعمیر کیے گئے ہیں

لیکن گرفتھس کہتے ہیں کہ یہ جہاز دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہوں کو بھی مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ ان سے سامان اتارنے اور لادنے کے لیے کرینز کو جہاز کی دوسری جانب تک رسائی درکار ہوتی ہے۔ ان جہازوں کو بھی سوئز اور پانامہ کینال جیسے مقامات سے گزرنا پڑتا ہے جہاں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ یہ جہاز سمندر کی تہہ کو نہ چھو جائیں۔

یونیورسٹی آف پلائےموتھ میں میری ٹائم ٹرانسپورٹ ریسرچ گروپ کے سربراہ سٹیورس کرمپیریڈس کہتے ہیں کہ چند پورٹس یا بندر گاہوں میں یہ بڑے مال بردار جہاز پانی میں اتنی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں کہ تیرنے کی بجائے یہ تہہ پر پھسل رہے ہوتے ہیں۔ ایسی نقل و حرکت کے دوران مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج کی دنیا میں موجود جہازوں سے بھی بڑے حجم کے کنٹینر شپ بنانے کے لیے موجودہ بندرگاہوں کے نظام کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔ اور گرفتھس کہتے ہیں کہ یہ نہایت مہنگا عمل ثابت ہو گا۔

’آپ ایسے جہازوں میں پیسہ کیوں لگانا چاہیں گے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ کو ایک خطیر سرمایہ بندرگاہوں پر بھی خرچ کرنا پڑے گا؟‘

سٹیورس کرمپیریڈس کہتے ہیں کہ بڑے جہاز ہر جگہ جانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے کیوں کہ ان پر موسمی حالات کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ جہاز بحر الکاہل میں سفر نہیں کرتے جہاں ان کو شدید طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درمیانے حجم کے مال بردار جہاز اکثر بحرالکاہل میں سینکڑوں کنٹینرز کھو دیتے ہیں۔

سٹیورس کرمپیریڈس کے مطابق یہ جہاز ساحل کے قریب آ جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ بڑی لہروں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ’یہ استحکام کی بات ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ زیادی تر امریکی بندرگاہیں بھی اتنی بڑی نہیں ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے کنٹینر جہازوں کو سنبھال سکیں۔ اب تک 20000 سے زیادہ کی صلاحیت رکھنے والے چند ہی جہاز امریکی بندرگاہوں پر آئے ہیں۔

آپ کو شاید ایک بات کا احساس ہوا ہو۔ ان جہازوں کو بنانے میں کسی قسم کا بڑا چیلنج نہیں بلکہ اصل مسئلہ ان دیوہیکل جہازوں کو چلانے کا ہے۔

بندرگاہیں

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

سولس میرین کنسلٹنٹس کی نیول آرکیٹکٹ اور مینجنگ پرٹنر روزالنڈ بلیزجزک کے مطابق ’حجم کے حساب سے کوئی حد نہیں ہے‘ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’کسی بھی جہاز پر ایک حد تک ہی کنٹینر لادے جا سکتے ہیں کیوں کہ ایک موقع ایسا ضرور آئے گا جب سب سے نیچے موجود کنٹینر وزن کی تاب نہیں لا سکے گا۔‘

روزالنڈ بلیزجزک کے ساتھی جون سمپسن کہتے ہیں کہ کنٹینرز کو ایک جگہ رکھنے کے لیے باندھا بھی جاتا ہے اور اس صلاحیت کے حامل نظام کی بھی ایک حد ہے کہ وہ کتنے کنٹینرز کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے اور چوڑے جہاز کس طرح سمندری لہروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔

جب کسی بھی جہاز کو سامنے سے آنے والی سمندی لہروں کا سامنا ہو تو پیرا میٹرک رولنگ ہو سکتی ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ جب کسی نہایت چوڑے جہاز کے ساتھ سمندری لہر گزرے تو جہاز کا اگلا اور پچھلا حصہ اس وقت پانی سے باہر ہوتا ہے جب یہ لہر جہاز کے درمیان میں سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں جہاز ادھر ادھر لہرانا شروع کر دیتا ہے۔

روزالنڈ بلیزجزک کہتی ہیں کہ ’ایسا ہونے کے لیے بہت بڑی سمندری لہر کی ضرورت نہیں۔‘

جہاز کا حجم جتنا بڑا ہو گا، یہ خطرہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر بڑے جہاز چھوٹے جہازوں کی نسبت کمزور ہوتے ہیں ۔

روزالنڈ بلیزجزک کہتی ہیں کہ ’یہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے جوتے کا ڈبہ ہو لیکن اوپر سے کھلا ہوا ہو۔‘ پرسکون سمندر میں ان کو کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوتا لیکن مقام اور وقت کے حساب سے اس جہاز کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دشمن نیویارک میں ایرانی قوم کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا:ایرانی صدر

تہران:ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ دشمنوں نے سرتوڑ کوشش کی …