اتوار , 25 ستمبر 2022

جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی نشانیاں اور علامات جانتے ہیں؟

وٹامن ڈی کو اکثر سن شائن وٹامن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارا جسم اسے سورج کی روشنی سے بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اس وٹامن کو حالیہ عرصے میں بہت زیادہ توجہ ملی ہے جس کی وجہ مدافعتی صحت کے لیے اس کا کردار ہے، بالخصوص کووڈ 19 کے حوالے سے۔

اسی طرح یہ وٹامن ہڈیوں کی صحت اور جسم کے متعدد دیگر افعال کے لیے بھی بہت اہم ہوتا ہے۔

بیشتر بالغ افراد کو روزانہ 1500 سے 2000 انٹرنیشنل یونٹس وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے، سورج کی روشنی سے ہٹ کر مخصوص غذاؤں جیسے مچھلی اور فورٹیفائیڈ ڈیری مصنوعات سے بھی اس کا حصول ممکن ہے۔

مگر صرف غذا سے اس وٹامن کی اوپر درج مقدار کا حصول آسان نہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں وٹامن ڈی کی کمی دنیا بھر میں سب سے عام غذائی کمی بھی ہے۔

وٹامن ڈی اہم کیوں ہے؟

وٹامن ڈی ایسا وٹامن ہے جو جسم کے متعدد افعال کے لیے ناگزیر ہے، ہڈیوں کی صحت اور قوت مدافعت کے لیے یہ بہت اہم ہوتا ہے۔

اس سے ممکنہ طور پر کینسر سے تحفظ ملتا ہے اور متعدد دائمی امراض جیسے ہڈیوں کی کمزوری، ڈپریشن، ذیابیطس ٹائپ 2، امراض قلب اور دیگر سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب افراد وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی کی علامات کیا ہیں؟

جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کے بارے میں جاننا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کی علامات اکثر کئی ماہ یا برسوں تک ظاہر نہیں ہوتیں، بلکہ کئی بار تو علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔

مگر کچھ نشانیوں اور علامات سے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کا عندیہ ملتا ہے۔

اکثر بیمار رہنا

وٹامن ڈی مدافعتی صحت کے لیے اہم ہوتا ہے جس سے بیمار کرنے والے بیکٹریا اور وائرسز سے مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

وٹامن ڈی براہ راست ان خلیات سے رابطے میں رہتا ہے جو بیماریوں سے لڑنے کا کام کرتے ہیں۔

اگر آپ اکثر بیمار ہوجاتے ہیں بالخصوص نزلہ زکام یا فلو کا سامنا ہوتا ہے تو یہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں وٹامن ڈی کی کمی اور نظام تنفس کے امراض بشمول نزلہ زکام اور نمونیا کے درمیان تعلق ثابت ہوا ہے۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی سے کووڈ 19 کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، مگر فی الحال وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے استعمال سے کووڈ 19 سے بچنا ثابت نہیں ہوا۔

تھکاوٹ

تھکاوٹ کا احساس متعدد وجوہات کے باعث ہوسکتا ہے جن میں سے ایک وٹامن ڈی کی کمی بھی ہے۔

مگر لوگ اکثر اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی بھی ہر وقت تھکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی نیند کے معیار کو متاثر کرتی ہے، نیند کا کم دورانیہ تھکاوٹ کا احساس بڑھاتا ہے۔

ہڈیوں اور کمر میں درد

ہڈیوں اور کمر کے نچلے حصے میں درد بھی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے۔

وٹامن ڈی جسم میں کیلشیئم کے جذب ہونے کا عمل بہتر بناکر ہڈیوں کی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں کمردرد کی شدت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ڈپریشن

وٹامن ڈی کی کمی کو ڈپریشن سے بھی منسلک کیا جاتا ہے بالخصوص معمر افراد میں۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس سے ڈپریشن کی علامات کی شدت میں کمی لانا ممکن ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

زخم بھرنے میں تاخیر

چوٹ لگنے یا سرجری کے بعد زخم بھرنے میں تاخیر ہونا بھی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی علامت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وٹامن ڈی ایسے مرکبات بننے کا عمل تیز کرتا ہے جو زخم بھرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

وٹامن ڈی ورم کو کنٹرول کرنے اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے بھی اہم ہوتا ہے جو کہ زخم بھرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری

وٹامن ڈی کیلشیئم کے جذب ہونے اور ہڈیوں کے میٹابولزم میں بھی اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔

ہڈیوں کے حجم میں کمی آنا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہڈیوں کو کیلشیئم اور دیگر منرلز کی کمی کا سامنا ہے جس سے معمر افراد میں فریکچر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ایک تحقیق میں درمیانی عمر کی خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی اور ہڈیوں کی کمزوری کے درمیان ایک ٹھوس تعلق دریافت کیا گیا۔

ماہرین کے خیال میں جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچانے کے لیے اہم ہے۔

بال گرنا

متعدد غذائیں اور ان کے اجزا بالوں کی صحت پر اثرانداز ہوسکے ہیں۔

اگرچہ تناؤ سے بھی بال گرنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے مگر بالوں سے بہت یتزی سے محرومی کسی بیماری یا غذائی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

خواتین کے بالوں کے گرنے کو اکثر وٹامن ڈی کی کمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

اسی طرح تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بالوں کے گرنے کے ایک مسئلے alopecia areata کا باعث بن سکتی ہے۔

مسلز میں تکلیف

مسلز میں تکلیف کی وجوہات کا تعین کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے مگر شواہد سے عندیہ ملا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اکثر مسلز کی تکلیف کا سامنا کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

جسمانی وزن میں اضافہ

وٹامن ڈی کی کمی موٹاپے کا شکار بھی بنا سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی کمی، جسمانی وزن اور توند کی چربی میں اضافے کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا، بالخصوص مردوں میں یہ اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

انزائٹی

وٹامن ڈی کی کمی کو انزائٹی امراض سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انزائٹی کے شکار افراد میں وٹامن ڈی کی ایک قسم calcidiol کی کمی ہوتی ہے۔

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار سے انزائٹی کی علامات کی شدت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے،اختلافات کا خاتمہ ہونا چاہیے: مقتدیٰ صدر

بغداد:عراق کے مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدی صدر نے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے ، جنگ …