بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

رژیم چینج کے ثبوت

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایک ایسے وقت جب پاکستان میں عمران حکومت کی تبدیلی میں امریکہ کے کردار پر بحث مباحثہ جاری ہے، امریکا کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے کئی بار بیرون ملک حکومتوں کی تبدیلی کے لیے بغاوت کی کوششوں کی منصوبہ بندی میں مدد کی ہے۔ یاد رہے کہ کئی ممالک کی منتخب حکومتوں کے خاتمے پر انگلیاں امریکہ کی جانب اٹھتی رہی ہیں، تاہم یہ پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کھلے عام رجیم چینج کا اعتراف کیا ہو۔ جان بولٹن کے اس اعتراف کے بعد سوشل میڈیا پر خارجہ پالیسی کے ماہرین نے 1953ء میں ایرانی وزیراعظم محمد مصدق کی معزولی اور ویتنام کی جنگ، افغانستان اور عراق میں امریکہ کے کردار پر کڑی تنقید کی ہے۔ امریکی مداخلت کے نظریے کو اس وقت مزید تقویت ملتی ہے، جب بعض امریکی حکام کے بیانات سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح کا مندرجہ ذیل اعتراف قابل زکر ہے۔

امریکی حکومتیں، دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے غیر قانونی اور ناجائز مفادات کے لئے فوجی بغاوتوں سمیت ہر قسم کے تخریبی اقدامات عمل میں لاتی ہیں اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہیئے۔ یہ بات قومی سلامتی کے سابق امریکی مشیر جان بولٹن نے اپنے تازہ انٹرویو میں کیا ہے۔ قومی سلامتی کے سابق امریکی مشیر جان بولٹن نے دنیا کے مختلف ملکوں میں رونما ہونے والی بغاوتوں اور حکومت کی تبدیلی میں اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے جان بولٹن نے چھے جنوری دو ہزار بیس کے واقعے میں کسی بغاوت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اندرون ملک نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بغاوتوں کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کی حثیت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے اندرون امریکہ اپنے مخالفین کو ڈرپوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ ملک بچانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق، جان بولٹن نے امریکی جریدے نیوز میکس کو بھی انٹرویو دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ امریکہ کی حفاظت کی خاطر، ہر امریکی صدر کو بغاوتوں کے طریقہ کار سے ضرور کام لینا چاہیئے۔ قومی سلامتی کے سابق امریکی مشیر کا کہنا تھا کہ میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ میں نے اپنی یادداشتوں میں وینیز ویلا کے بارے میں لکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے ہر صدر کو امریکی عوام کے مفادات کی حفاظت کے لیے جو بھی ضروری ہو، وہ انجام دنیا چاہیئے اور اگر وہ ایسا کرنے کو تیار نہ ہو تو اسے مشاورت کی ضرورت ہے۔ جان بولٹن نے جو دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رہے ہیں، یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے کن کن ملکوں میں بغاوتوں کی منصوبہ بندی کی ہے یا اس میں شریک رہے ہین۔

خیال رہے کہ 2019ء میں جان بولٹن نے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر جوآن گائیڈو کی ملک کے صدر نکولس میدورو کو ہٹانے کی کوششوں کی حمایت کی تھی۔ وینزویلا میں صدر میدورو کو اقتدار سے ہٹانے کی اپوزیشن کی کوششیں ناکام رہی تھیں اور منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنے پر دو سابق امریکی فوجیوں ایرون بیری اور لیوک ڈینمن کو گرفتار کرکے دہشت گردی کا مقدمہ بھی چلایا گیا تھا۔ جان بولٹن عراق پر امریکی حملے کے سب سے بڑے حامی تھے، انہوں نے ایران اور شمالی کوریا پر بھی حملے کی حمایت کی، لیکن ان کی یہ سوچ انتہاء پسند ٹرمپ کو بھی اچھی نہ لگی اور آخرکار دو ہزار انیس میں انہیں اس عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بغاوتوں کے ذریعے اپنے مخالفین کو راستے ہٹانے کا حربہ شروع ہی سے امریکی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے دور حکومت میں جب جان بولٹن قومی سلامتی کے مشیر اور مائیک پومپیو وزیر خارجہ تھے، لاتینی امریکہ کے ملکوں میں بغاوتوں کی پالیسی میں شدت پیدا ہوئی اور کیوبا کے خلاف دباؤ میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

جان بولٹن، جو کہ 2018ء سے 2019ء تک ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رہے، مختلف بغاوتوں میں ملوث رہنے کا اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور میں دنیا کے کئی ممالک کے خلاف امریکہ کی مداخلت پسندانہ اور معاندانہ پالیسیوں کی حمایت کی۔ بائیڈن کے اقتدار میں آںے کے فوراً بعد انہوں نے ایران کے بارے میں جو بیان دیا تھا، وہ بھی ان کے حالیہ اعتراف کی تائید کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر جان بولٹن نے ایرانی حکومت کو نہ گرانے پر صدر پر نکتہ چینی کی تھی۔ بولٹن نے 2015ء کے جوہری معاہدے پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے "سراسر جھوٹ” پر مبنی قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ڈی ڈبلیو ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران میں حکومت تبدیل کر دینی چاہیئے۔

جان بولٹن نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میرے خیال میں مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن اور سلامتی اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی، جب تک آیت اللہ کی حکومت تبدیل نہیں کر دی جاتی، صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس سے جوہری ہتھیاروں کا خطرہ لاحق ہے بلکہ اس لیے بھی کیونکہ وہ دہشت گردی کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے زیادہ دباو کی پالیسی نہ اپنانے کے لیے ٹرمپ کو قصوروار سمجھتے ہیں۔ ”میں اس کے لیے صدر کو قصوروار سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اس پالیسی کی منطق پر پوری طرح سے عمل نہیں کیا اور تہران حکومت کو نہیں گرایا۔” بولٹن نے کہا کہ سن 2015ء کا جوہری معاہدہ ”ایران کے اس سراسر جھوٹ پر مبنی ہے کہ اس کا جوہری ہتھیاروں کا کبھی کوئی پروگرام نہیں رہا ہے۔”

بولٹن، جو صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں اقوام متحدہ کے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک کو ”آیت اللہ حکومت کے خطرات کا اندازہ تھا، لیکن وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے خوش فہمی کا شکار ہوگئے۔” بولٹن کا کہنا تھا کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنا جوہری پروگرام کبھی ترک نہیں کیا۔” اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے حاصل ہونے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بولٹن نے کہا کہ "ایران کے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اسے کبھی ترک نہیں کیا۔” بولٹن نے مزید کہا، ”ایسے کوئی اسٹریٹیجک اشارے نہیں ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ وہ اسے ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایک مطلق العنان حکومت کا سیدھی سادی جمہوریتوں کے ساتھ اسی طرح کا ایک اور معاہدہ ہے، جو یہ کہتا ہو کہ "ہاں ٹھیک ہے، ہم ٹھوس اقتصادی فائدے کے بدلے میں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کر دیں گے۔”

سابق قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ اگر نومنتخب صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکا کو دوبارہ شامل کرتے ہیں تو یہ ایک تباہی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ”اس سے ایران کو اس راستے پر آگے بڑھتے رہنے کی اجازت مل جائے گی، جس پر وہ اس وقت گامزن ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ”میں یورپی ملکوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہا ہوں، لیکن ایران کو یورینیم افزودہ کرنے یا پلوٹینیم کی ری پروسیسنگ صلاحیت کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی تھی۔” بولٹن کے اس بیان کے بعد بھی اگر کوئی شک کرتا ہے کہ امریکہ رژیم چینج میں ملوث نہیں ہوتا تو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ایران، عراق اور شمالی کوریا پر امریکی حملے کے حامیوں میں بولٹن کا نام سرفہرست تھا۔ بولٹن نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران ایران اور لاطینی امریکی ممالک بشمول وینزویلا، بولیویا اور کیوبا کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی شروع کی۔ بولٹن نے وینزویلا اور نکاراگوا کے ساتھ ساتھ کیوبا کو "ظالم ٹرائیکا” کہا اور اعلان کیا کہ وہ ان تینوں ممالک پر دباؤ اور پابندیاں بڑھائیں گے۔

مخالفین کو ختم کرنے کے لیے بغاوت کو ڈیزائن کرنا ہمیشہ سے ہی امریکی پالیسیوں میں سے ایک رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے دور میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو جیسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے اس میں شدت آئی تھی۔ بولیویا کی بغاوت، جس میں مورلیس نے بولیویا کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا، اس کی بنیادی وجہ امریکی مداخلت تھی۔ ستمبر 2018ء میں مستعفی ہونے سے قبل مورالس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی صدر سے کہا تھا کہ اگر امریکہ جمہوریت کی حمایت کرتا ہے تو اس نے بغاوتوں کی مالی معاونت اور آمروں کی حمایت کیوں کی۔؟ مورالس کے کہنے کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے مختلف ممالک میں فوجی بغاوت کی مالی اور فوجی مدد اور منصوبہ بندی کی گئی۔ وینزویلا میں بھی امریکہ نے بغاوت کے منصوبہ سازوں کی حمایت کرکے نکولس مادورو کی بائیں بازو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

بولٹن واشنگٹن کاراکاس تعلقات میں سنگین بحران اور وینزویلا کے عبوری صدر کے طور پر جوآن گوائیڈو کو متعارف کرانے والے پہلے شخص تھے۔ گوائیڈو کی حمایت اور واشنگٹن کے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد بولٹن نے ایک بار پھر وینزویلا کو دھمکی دی تھی کہ تمام آپشنز میز پر ہیں اور یہاں تک کہ امریکی فوجی مداخلت کے آپشن کی بھی دھمکی دی۔ بولٹن کی لاطینی امریکہ میں مداخلت پر مبنی پالیسیاں ایسی تھیں کہ ان کی برطرفی کے ساتھ ہی اس وقت کے وینزویلا کے وزیر صنعت طارق العصامی نے انہیں "سب سے بڑا جھوٹا” قرار دیا، جس نے وینزویلا کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا اور کہا: "یہ تاریخی سچائی ہے کہ جنگ کا عفریت ختم ہوگیا اور اب مستقبل ہمارا ہے۔”

درحقیقت بولٹن کی تمام تر کوششوں کے باوجود، مادرو کی بائیں بازو کی حکومت بغاوت کو ناکام بنانے اور مختلف رکاوٹوں اور بھاری امریکی پابندیوں پر قابو پانے میں کامیاب رہی۔ امریکہ ماضی میں بھی اور اب بھی مختلف ممالک میں کھلم کھلا مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے اور بعض ممالک مین تو وہ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کی سرپرستی کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، ایسے میں بولٹن کا اعتراف ان تمام حقائق کو برملا کر رہا ہے کہ امریکہ نہ صرف دوسرے ممالک کے داخلی مسائل میں غیر قانونی مداخلت کرتا ہے، بلکہ حکومتیں تبدیل کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ ایران کے حوالے سے تو وہ رژیم چینج منصوبے کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتا اور اپنے قومی بحٹ میں اس کام کے لئے باقاعدہ بجٹ مختص کرتا ہے۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …