بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

رجب طیب اردوغان تہران میں

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کی سرکاری دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران کے دورہ پر ہیں۔ ترکی کے صدر اور ان کے ہمراہ وفد کے دورے کے دوران دونوں اطراف کے حکام دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیاسی تعاون کے بڑھتے ہوئے عمل کا جائزہ لیں گے۔ دوطرفہ ملاقاتوں کے علاوہ، ترکی کے صدر کے دورہ تہران کا ایک اور مقصد آستانہ عمل کی ضمانت دینے والے ممالک (ایران، روس اور ترکی) کے رہنماؤں کا ساتواں اجلاس ہے، جو تہران میں منعقد ہونے والا ہے۔
اردوغان کا دورہ تہران ایسے عالم میں ہوگا جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھی تہران آئیں گے اور تینوں ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ایران، روس اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتویں اجلاس میں شام کے اندرونی بحران سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسی وجہ سے تہران اجلاس کا انعقاد تینوں شریک ممالک، خطے اور دنیا کی دیگر حکومتوں اور اقوام کے لیے اہم ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں علاقائی تعاون کی ایک طاقتور اور اہم مثال کے طور پر آستانہ عمل کی تشکیل کے درج ذیل مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
1۔ شام سے امریکہ کا کردار کم ہونا اور کھیل کا میدان بدلنا۔
2۔ شام کی سلامتی کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کی جڑوں کو خشک کرنا۔
3۔ شام میں انسانی امداد کی منتقلی کے لیے تیاریوں کا اہتمام کرنا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا۔
4۔ امریکیوں کو مداخلت کی اجازت دیئے بغیر جنیوا عمل، شام کی تعمیر نو اور خطے میں میکرو سکیورٹی کے انتظام کے بارے میں منصوبہ بندی کا امکان۔
آستانہ عمل کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اس عمل میں انقرہ اور تہران کے درمیان بعض سنجیدہ اختلافات کے باوجود سفارتی صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ مشترکہ مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مذاکراتی و سفارتی روش کو اختیار کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر تہران اجلاس کی قراردادوں پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو بلاشبہ امریکہ جو شام کے تیل کے وسائل کو چوری کر رہا ہے، اس ملک کو چھوڑ کر امریکی براعظم میں واپس جانے پر مجبور ہو جائے گا۔

بہرجال ایران اور ترکی کے تعلقات کو دو ہمسایہ اور مسلم ممالک کے طور پر دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی پہلوؤں سے جانچنا ضروری ہے۔ خاص طور پر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ وہ خطے اور یہاں تک کہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران اور ترکی کے درمیان اقتصادی تعلقات روز بروز وسیع تر جہتیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ تہران اور انقرہ دو طرفہ تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقائی تعاون کی جہت میں شام کے اندرونی مسائل کے حل کے عمل میں ایران اور ترکی کی شرکت اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ مغربی تسلط پسند حکومتیں جو مغربی ایشیائی ممالک کی تقدیر کا فیصلہ کرتی تھیں، اب انہیں اپنے براعظم میں واپس جانا ہوگا۔ ایران اور ترکی روس کے ساتھ مل کر نہ صرف خطہ کے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ شام سمیت اس خطے کے ممالک کے اندرونی اور علاقائی تنازعات کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس میدان میں مسائل ہیں، لیکن امید ہے کہ یہ مسائل جلد ختم ہو جائیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شام میں ایرانی اور روسی مشیروں کی موجودگی شام کے صدر بشار الاسد کی جائز حکومت کی اجازت سے ہے، جبکہ اس ملک میں ترک فوج کی موجودگی غیر قانونی طور پر کی گئی ہے، جسے جلد ہی شام کو ترک کرکے اپنے ملک واپس جانا ہوگا۔ 2011ء سے ترکی کی حکومت نے امریکہ کی قیادت میں مغربی حکومتوں اور خلیج فارس کی بعض رجعت پسند عرب حکومتوں کے ساتھ مل کر شام میں بشار الاسد کی جائز حکومت کا تختہ الٹنے کی حمایت کی، لیکن اب صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ ترک فوج کی کارروائی غیر قانونی ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ ادھر کچھ ماہرین حالیہ صورت حال کو نئے ورلڈ آرڈر کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ایک ایسا آرڈر جو دنیا کو یک قطبی دنیا سے بچائے گا اور دنیا کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھے گی۔ اس سلسلے میں ایک ممتاز آرمینی ماہر "ہاروت آرٹین اراکلین” کا خیال ہے: "آج جنم لینے والے نئے ورلڈ آرڈر میں ترکی تیسری طاقت کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر وہ کامیاب نہ ہوا تو وہ میدان سے نکل جائیگا گا۔ آج شام میں ترکی جارح ہے۔” ترکی شام، آذربائیجان، ترکمانستان میں تیل اور گیس کے تمام وسائل کو جذب کرکے یورپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ انرجی کے ہتھیار ہیں، جن سے انقرہ مستقبل میں کھیلے گا، اگر اس کے پاس یہ ہتھیار نہیں رہے تو وہ مجبوراً "سائیڈ لائنز” پر ہو جائے گا۔”

بہرحال ترکی کے صدر اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ تہران دوطرفہ تعاون کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس سفر میں ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کا ایک اہم حصہ اگلے سال کے لیے تیار کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تہران میں ایران، روس اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتویں اجلاس کا انعقاد خطے کی سلامتی میں اہم عنصر ہوگا۔ بے شک شام کے اندرونی اور علاقائی مسائل کے خاتمے میں آستانہ عمل کا منفرد کردار تینوں ممالک کا ایک اور قدم ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب ایسی صورت حال میں جب ایران اور ترکی علاقائی توازن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، سعودی عرب خود کو ایسی صورت حال میں پاتا ہے، جہاں اس کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور وہ اس صورت حال میں ایسا منظر نامہ اور حکمت عملی بھی وضع نہیں کرسکتا، جس میں ریاض کی خارجہ پالیسی میں آزادانہ فیصلہ سازی کی گنجائش ہو۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید 30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے …