بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (2)

تحریر: مشاہد حسین سید

30 سال بعد، امریکی پالیسی ساز الائنس، قوانین اور اداروں کے ادغام سے سرد جنگ جیسا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ’’ چین کے گرد تزویراتی دائرہ ‘‘قائم کیا جاسکے،جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ ماہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اپنی چین پالیسی تقریر میں کہاتھا۔

یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ صدر رچرڈ نکسن کے چین کے تاریخی دورے کے اس پچاسویں سال چین میں امریکی سفیر، نکولس برنز کہتے ہیں کہ ’’امریکا اور چین کے تعلقات 50 سال میں کم ترین سطح پر ہیں۔‘‘ یوکرین جنگ کسی بھی یورپی ملک پر گزشتہ ربع صدی میں ہونے والا پہلا حملہ ہے، لیکن سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے واضح طور پر کہا ہے کہ سی آئی اے کی ’’اولین ترجیح ابھرتا ہوا چین ہے۔‘‘امریکا، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت پر مشتمل کواڈ(Quad) کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

ایک نئی اینگلو سیکسن گروہ بندی، اوکس (AUKUS) بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ چین کو تزویراتی طور پر محدود کرنے کیلئے امریکی کانگریس نے سالانہ 300 ملین ڈالر سے ’’چینی اثر کا تدارک ‘‘ کرنے والا فنڈ قائم کردیا ہے۔ اگرچہ چین بحر اوقیانوس سے 3500 میل دور ہے، نیٹو اپنی رسائی اب ایشیائی بحرالکاہل تک بڑھائے گا۔

میڈرڈ میں نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس میں امریکا کے چار ایشیائی اتحادیوں کے رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا: آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا۔ بائیڈن انتظامیہ نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا مقابلہ کرنے کیلئے اس کی نقل کرتے ہوئے ایک پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کے اہداف بھی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے جیسے ہیں۔

تاہم امریکا کی خارجہ پالیسی کا بنیادی زور عسکری اور سکیورٹی جہت ہے ،جہاں چین کی طاقت کو فوجی اصطلاح میں ایک ملٹری چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔صدر باراک اوباما کی ’’ایشیا پر ارتکاز‘‘ کی پالیسی کے گیارہ سال بعد بائیڈن نے نافذ کیا ہے ۔ اب ایشیائی بحرالکاہل کو انڈین بحرالکاہل کہا جارہا ہے، اور اسکے پیچھے یہ اعلان کارفرما ہے کہ بحرہند اور بحرالکاہل اب’’امریکی جھیلیں‘‘ ہوں گی۔ اس کامطلب ہے کہ کھلے سمندروں پر اپنا اثر قائم کرنے کی کوششوں میں تیزی دکھائی دے گی ۔ جس دوران ایسا لگتا ہے کہ امریکا پر چین کی اٹھان کی حقیقت یک لخت آشکار ہوئی ہے اور وہ اس کا راستہ روکنے پر کمر بستہ ہے، پانچ بنیادی نکات نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایک لاحاصل کوشش کرنے جارہا ہے ۔ وہ نہ صر ف اپنے اہداف میں ناکام رہے گابلکہ چین کو روکنے کی کوشش میں اس کے اپنے مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔

پہلا ، امریکی اور چینی معیشتوں کے بندوبست کے درمیان موازنہ سامنے آئے گا۔ سرمایہ کاری اور کھلی تجارت جیسی معاشی پالیسیاں اپناتے ہوئے چین نے دنیا کا دل جیت لیا ہے ۔ نیز چین نہ کسی کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی سوالات پوچھتا ہے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور اس کے مالیاتی بازو، ایشین انفراسٹرکچر بینک نے اپنے کچھ معیار طے کیے ہیں۔ امریکا کو جس وقت ہوش آیا تو وہ یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ چین نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کا وسیع وعریض انفرسٹرکچر قائم کرلیا ہے ۔ اس کے ذریعے توانائی ،معیشت، بندرگاہیں، پائپ لائنز، سڑکیں اور ریلوے لائنز تعمیر ہورہی ہیں ۔ سولومن جزائر سے لے کر سعودی عرب تک ،اور پانامہ سے لے کر پاکستان، اسرائیل اور انڈونیشیا تک تمام خواہش مند پارٹنر ان میں شریک ہوسکتے ہیں ۔

دنیا کے 193 ممالک میں سے 130 کی چین کے ساتھ تجارت اُن کی امریکا کے ساتھ تجارت سے کہیں بڑھ کرہے ۔ چین کے ساتھ امریکی اقتصادی بندوبست کا موازنہ کریں، تو امریکی اعلانات کے درمیان ایک وسیع فرق ہے ۔ امریکی اعلانات پر عمل درآمدہوتا دکھائی نہیں دیتا۔دوسری طرف چین اپنی عملی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی منظر نامے کی ایک سست لیکن یقینی تبدیلی کو اپنے فائدے کیلئے آگے بڑھا رہا ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہورہی ہے۔

امریکی اقتصادی سفارت کاری کے ماضی کا ریکارڈ بھی سبق آموز ہے۔ 2006 میں بش انتظامیہ کے دوران امریکا نے بہت دھوم دھام سے، تعمیر نو کے زونزکے آغاز کا اعلان کیا۔ ان کا مقصد پاک افغان سرحد پر رہنے والے لوگوں کیلئے اقتصادی مواقع پیدا کرنا تھا۔ کہا گیا کہ یہ اقتصادی زون جنگ کی جگہ امن اور خوش حالی لائینگے، بے روزگار جہادیوں کو معاشی مراعات پیش کریں گے، سامان تیار کر کے اور خصوصی امریکی فنڈ سے چلنے والے صنعتی زونز میں ملازمتوںکے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقے کو دہشت گردی کے مرکز سے امن، ترقی اور خوشحالی کے اقتصادی زون میں تبدیل کریں گے۔ ان ا علانات کو امریکی کانگریس کی حمایت نہ مل پائی اور یہ منصوبہ دم توڑ گیا ۔

اوباما انتظامیہ کے دوران سیکرٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن نے جولائی 2011 میں چنائی، انڈیا سے نیو سلک روڈکے آغاز کا اعلان کیا۔ اس پر چینی خوش نہیں تھے۔ ہلیری کے اعلان کے کئی ماہ بعد وہ جنوری 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس موقع پر اُنھوں نے بیان دیا،’’ صرف ایک شاہراہ ریشم ہے، جو 2000 سال پہلے چین سے شروع ہوئی تھی اور ہمارے سامنے کسی نئی شاہراہ ریشم کا کوئی تصورنہیں۔ اس کا تو ہرگز نہیں جو امریکی سرپرستی میں انڈیا سے شروع ہوئی ہے۔ ‘‘اس نئی شاہراہ ریشم کا یہ تصور کبھی عملی جامہ نہ پہن سکا۔ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا نے بلڈ ایکٹ( (BUILD Act) شروع کیاجس کا مقصد سرمایہ کاری کا بہتر استعمال تھا جس کے نتیجے میں ترقی کے مواقع پیدا ہوں۔ (جاری ہے)

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (1)

تحریر: مشاہد حسین سید امریکی تاریخ کی طویل ترین تباہ کن جنگ ،جو افغانستان سے …