بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

حکمرانوں کا رپورٹ کارڈ

تحریر: یاسر پیرزادہ

ایک ستم ظریف نےسوشل میڈیا پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا رپورٹ کارڈ بنا کر جاری کیا ہے، یہ رپورٹ کارڈ بالکل اسی قسم کا ہے جیسے سکول کے بچوں کا ہوا کرتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں نصابی مضامین کی بجائے بھارت کی عالمی درجہ بندی کو بنیاد بنا کر مودی جی کی آٹھ برس کی کارکردگی کی پڑتال کی گئی ہے۔

رپورٹ کارڈ ملاحظہ ہو:

نام: نریندر مودی، ملک: ہندوستان، سال: 2014 تا دم تحریر، کورس: مکمل سیاست میں ماسٹر
نریندر مودی کے دور حکومت میں ہندوستان کی عالمی درجہ بندی:
آزادی اظہار: 150/180، گریڈ: ڈی
بھوک /قحط کاعالمی اشاریہ: 101/116، گریڈ: ای
مسرت کا اشاریہ: 136/14، گریڈ: ای
اقوام متحدہ کا انسانی ترقی کا اشاریہ: 131/189، گریڈ: سی
انسانی آزادی کا اشاریہ: 119/165، گریڈ: سی
انتخابی جمہوریت کا اشاریہ: 119/165، گریڈ: سی
آزاد جمہوریت کا اشاریہ: 93/179، گریڈ: بی
مشاورتی جمہوریت کا اشاریہ: 102/179 گریڈ: سی
نتیجہ: فیل
رائے: نریندر مودی بہت آمرانہ رجحان رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ آئین کا احترام کریں اور اس کی اقدار کی پاسداری کریں۔‘

رپورٹ کارڈ بنانے والے کو داد دینی پڑے گی کہ اس نے اعداد و شمار اور عالمی اشاریوں کی مدد سے مودی جی کی کارکردگی کا کلیجہ نکال کر رکھ دیاہے۔ مجھے یہ انداز پسند آیا کیونکہ اس میں حتی الامکان کوشش کی گئی ہے کہ تعصب سے کام لینے کی بجائے غیر جانبدار ی سےاور عقلی پیمانے پر حکمران کی کارکردگی کو جانچا جائے۔

سیاست میں عقل کا عمل دخل ویسے کم ہی ہوتا ہے، یہ تو ایک طرح کارومانس ہے جس میں عقل زیادہ تر محو تماشائے لبِ بام رہتی ہے۔ یہ رومانوی رجحان صرف ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں ہی دیکھنے کو نہیں ملتا بلکہ دنیا بھر میں سیاست اسی رومانس کےتابع ہے اور سچ پوچھیں تو یہ رومانس ہی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

اگر لوگ اپنے حکمرانوں کو اس قسم کے رپورٹ کارڈز پر پرکھنا شروع کردیں تو ان کے ممالک میں جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے سیاسی تعصبات سے جان چھڑا لی جائے۔

اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ایسا رپورٹ کارڈ بنایا جائے جس میں کسی حکمران کے مثبت اور منفی تمام پہلوؤں کا احاطہ ہو یعنی صرف ان اشاریوں کو بنیاد بنا کر حکمران کی کارکردگی کا جائزہ نہ لیا جائے جن میں وہ کمزور ہو بلکہ وہ تمام اشاریے بھی شامل کیے جائیں جن میں اس کی کارکردگی بہتر ہو۔

مثلاً مودی جی کے رپورٹ کارڈ میں تقریباً تمام اشاریے جمہوریت یا آزادی سے متعلق ہیں اور ان میں معاشی اشاریوں کا کوئی ذکر نہیں، ممکن ہے ان میں مودی جی کی کارکردگی قدرے بہتر ہو۔

اسی طرح اقلیتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے کوئی اشاریہ شامل نہیں، اگر ہوتا تو یقیناً اس میں مودی جی بد ترین درجے میں پائے جاتے۔ ایسا رپورٹ کارڈ بناتے وقت سابقہ اور موجودہ حکمران کا تقابل کرنا بھی ضروری ہے۔

مثلاً اس رپورٹ کارڈ میں مودی جی کی سرکار قحط کے عالمی اشاریے میں 101 ویں نمبر پر ہے، دیکھنا چاہیے کہ 2014 سے پہلے بھارت کا اس اشاریے میں کیا درجہ تھا۔

اگر تو بھارت 101 کے آس پاس ہی تھا تو پھر مودی جی کو ای گریڈ دینا زیادتی ہے لیکن اگر بھارت کی درجہ بندی پہلے بہتر تھی اور مودی جی کے دور میں بدتر ہوئی تو پھر یقیناً موصوف کو فیل کرنا چاہیے۔

ہمارا کوئی بچہ جب سکول سے اپنا نتیجہ لے کر آتا ہے تو ہم اس کی پوری پڑتال کرتے ہیں، کسی مضمون میں نمبر کم ہوں تو اس کے لتّے لیتے ہیں، اس کے اساتذہ سے ملتے ہیں، پرنسپل سے بات کرتے ہیں، خصوصی توجہ کی درخواست کرتے ہیں، ٹیوشن رکھواتے ہیں اوریوں وہ تمام اقدامات کرتے ہیں جن کی بدولت ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اگلی مرتبہ نتیجہ بہتر آئے گا۔

لیکن جب ملک کا معاملہ ہو تو ہم رومانوی کیفیت میں چلے جاتے ہیں اور اپنے پسندیدہ لیڈر کی کارکردگی کی عقلی بنیادوں پر پڑتال کرنے کی بجائے محض جذباتی انداز میں اس کے دفاع میں جُت جاتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے لیڈر کی کارکردگی کو سرے سے جانچتے ہی نہیں ہیں، ہمارے لاشعور میں اس کی کارکردگی کا چارٹ سا بن رہا ہوتا ہے لیکن وہ ٹھوس اعداد و شمار یا اشاریوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اپنے دل کی آواز پر ہوتا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے تمام لیڈران کا ایسا ہی سکور کارڈ بنائیں جس میں ان کے دور حکومت میں ہونے والی تمام اچھی بری باتوں کا احاطہ عالمی اشاریوں کی مدد سے کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کون کس درجے میں پہنچتا ہے۔

چونکہ یہ رپورٹ کارڈ عالمی اداروں کی درجہ بندی کی بنیاد پر بنایا جائے گا، اس لیے دھاندلی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی، تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے سکور کارڈ میں معاشی، سماجی، جمہوری اور شخصی آزادیوں سمیت تمام اشاریے شامل کیے جائیں تا کہ ایک لیڈر کی درست رپورٹ سامنے آ سکے۔

ہمارے ملک میں یہ کام ’پلڈاٹ‘ کے سربراہ احمد بلال محبوب صاحب کر سکتے ہیں، جن کا ادارہ پاکستان میں جمہوریت کی ترقی کے حوالے سے قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔

اگر وہ یہ کام نہیں کرتے تو پھر کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کو چاہیے کہ وہ یہ کام کر ڈالے۔ ویسے بھی کبھی کبھار ڈھنگ کا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (1)

تحریر: مشاہد حسین سید امریکی تاریخ کی طویل ترین تباہ کن جنگ ،جو افغانستان سے …