بدھ , 17 اگست 2022
تازہ ترین

پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے؟

تحریر: سید اسد عباس

ہماری دنیا میں موجود ممالک کو ایک دوسرے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، کسی کے پاس تیل ہے تو کسی کے پاس اجناس، کسی کے پاس ٹیکنالوجی ہے تو کسی کے پاس کوئی اور وسیلہ زندگی، جو ہمارے سیاسی اختلافات کے باوجود بہرحال ہماری ضرورت ہیں۔ یہاں ایک ظریف نقطہ یہ ہے کہ ان وسائل کی فراہمی بھی اب سیاست سے جڑی ہوئی ہے اور دنیا بھر کے ممالک اپنے سیاسی مفادت کے تحفظ کے لیے ان وسائل کے حصول میں بھی ایک بیلنس رکھتے ہیں، جو کسی بھی ملک کی نیشنل سکیورٹی کے لیے اہم ہے۔ اگر آپ کسی بھی وسیلہ حیات کی فراہمی کے لیے ایک ہی ملک پر انحصار شروع کر دیں تو ایک طرح سے اپنی قومی سلامتی، خود مختاری اور سالمیت کا سودا کر رہے ہیں۔ دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ایسے میں کسی ایک ملک پر وسائل کی فراہمی کے لیے انحصار آپ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

یورپ میں ایسا ہی ہوا ہے۔ یورپ کو روسی تیل اور گیس باقی دنیا کے مقابلے میں سستے داموں ملتا ہے اور یورپ کی توانائی کی تقریباً 60 فیصد ضروریات روسی توانائی سے پوری ہوتی ہیں۔ یوکرائن جنگ کے بعد سے یورپ مشکل میں ہے۔ یوکرائن جنگ میں روس کو مجبور کرنے کے لیے نیٹو کے ساتھ مل کر یورپ نے روس پر پابندیاں تو لگا دی ہیں، تاہم اب ان کے اپنے ملک میں تیل اور گیس نیز غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے اور سردیوں کی آمد آمد ہے۔ اگر روس پر یورپی پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو شاید یورپ شدید مشکلات سے دوچار ہو جائے۔ امریکا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس کے علاوہ وہ مشرق وسطیٰ سے بھی تیل کی خریداری کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک پر لگائی جانے والی پابندیاں اب خود اس کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ امریکا نے جب سے روس، ایران، وینیزویلا اور شام کے تیل پر پابندیاں عائد کی ہیں، اس کے بعد سے اس کی کوشش ہے کہ عرب ممالک زیادہ تیل پیدا کریں، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کو کنڑول کیا جاسکے اور مغربی ممالک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہ ہو۔

یوکرائن دنیا کو غذائی اجناس فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ دنیا کی 30 فیصد گندم اسی ملک سے دنیا بھر کو میسر کی جاتی تھی، تاہم اب گندم، خوردنی تیل کی دنیا میں کمی واقع ہوچکی ہے، جس سے ان اجناس کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ یورپی ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ روس کے بعض اداروں پر سے پابندیاں ہٹا لی جائیں، اسی طرح یہ ممالک عرب ریاستوں سے بھی توانائی کے معاہدے کر رہے ہیں۔ حال ہی میں عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان فرانس گئے اور وہاں انھوں نے گیس کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ اگرچہ روسی گیس پر انحصار کو کم کرے گا، تاہم اس کی لاگت یقیناً روسی گیس سے زیادہ ہوگی۔ امریکی حکومت بھی اب عندیہ دے رہی ہے کہ ہم شاید روسی گیس کمپنی اور قومی بینک پر سے پابندیاں اٹھا لیں۔ یورپی ممالک اب توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیل اور گیس کے علاوہ دیگر ذرائع کی جانب بھی جا رہے ہیں۔

ترکی بھی روس سے گیس امپورٹ کرتا ہے، روس کے ساتھ ساتھ وہ ایران سے بھی گیس لے رہا ہے۔ کل ہی ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ایران میں مختلف شعبہ جات میں آٹھ معاہدوں پر دستخط کیے، جس میں ایک معاہدہ بچیس برس کے لیے ترکی کو گیس کی فراہمی کا منصوبہ بھی ہے۔ ایران اور ترکی کے مایبن باہمی تجارت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جلد ہی ایران اور ترکی کے مابین فری ٹریڈ زونز قائم کر دیئے جائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ مغربی ممالک نے انقلاب اسلامی ایران کے وقت سے ہی ایران پر مختلف اقتصادی، معاشی پابندیاں لگا رکھی ہیں، جس کی وجہ سے ایران نہ تو دنیا سے بعض مصنوعات خرید سکتا ہے اور نہ ہی عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرسکتا ہے اس کے باوجود ایران اس وقت دنیا کی چودھویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ 1.7 ٹریلین ڈالر کہنا آسان ہے۔ روس کی معیشت 1.8 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا میں تیرھویں نمبر پر ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں میں اقتصادی اور معاشی پابندیوں کے باوجود اتنی بڑی معیشت تشکیل دینا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

ایران نے یہ صلاحیت عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں مصنوعات فروخت کرنے کا لالچ کرنے کے بجائے ہمسایوں سے روابط کو فروغ دے کر حاصل کی ہے۔ ترکمانستان، آرمینیا، ترکی، عراق، عمان، روس، چین، وینیزویلا، شام، لبنان اور افریقہ میں ایران کے تجارتی روابط فروغ پا رہے ہیں۔ کہیں اجناس کا تبادلہ کیا جاتا ہے تو کہیں لوکل کرنسی میں تجارت ہو رہی ہے۔ ساتھ ساتھ مغرب کے ساتھ بھی مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ قومی اقتدار اعلیٰ، ملکی حاکمیت کے تحفظ کی یہ مثال دنیا کے لیے ایک نمونہ ہے۔ آج مغرب کو ایرانی تیل اور گیس کی ضرورت ہے۔ روس جنگ اور وہاں سے وسائل کے منقطع ہونے کے بعد امریکہ لہجہ نرم پڑ چکا ہے، وہ بار بار کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ طے پا جائے، تاکہ ایرانی تیل اور گیس عالمی منڈی میں آئے اور مغربی ممالک میں مہنگائی کا جن بوتل میں رہے۔

یہ سیاسی مسائل اور معاشی مفادات کا معرکہ ہے، جس میں وہی کامیاب ہوگا، جو اپنے وسائل کو متبادل ذرائع سے فروخت کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے گا۔ ہندوستان کو ہی دیکھ لیں، اس کی سیاسی وابستگیاں کسی گروہ کے ساتھ ہیں، معاشی مفادات کہیں اور۔ سیاسی اور معاشی معاملات میں ہندوستان ایک توازن قائم کیے ہوئے ہے۔ اتحاد وہ امریکہ اور اسرائیل سے کرتا ہے اور تیل و گیس وہ روس سے خرید رہا ہے۔ اپنی مصنوعات وہ دنیا بھر میں بیچ رہا ہے۔ مصنوعات کی پیداوار کی بھی الگ کہانی ہے، اگر آپ ملک میں ایسے مواقع نہیں پیدا کریں گے، جس سے ایسی مصنوعات بن سکیں، جو عالمی منڈیوں میں مقابل مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں تو نہ آپ کی مصنوعات بکیں گیں، نہ زرمبادلہ ملک میں آئے گا۔

جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے، ہم دہائیوں سے اپنے سیاسی و معاشی مسائل کے مابین توازن قائم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔ مہنگا تیل اور گیس کی مصنوعات خریدتے ہیں، بجلی کے یونٹس انہی مہنگی مصنوعات سے لگاتے ہیں، ملکی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا، سرمایہ کار وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جہاں ماحول سازگار ہے، ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی ہوتی ہے، قرضوں میں دن بدن اضافہ ہوتا ہے اور ہم سیاسی دھڑے بازی میں مشغول ہیں۔ ترکی، ترکمانستان، عراق، عمان، ہندوستان ایران سے تیل، گیس، بجلی اور دیگر مصنوعات خرید سکتے ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ شجرہ ممنوعہ ہے۔

گوادر میں ہم ایران سے سو میگاواٹ سے زیادہ بجلی لے سکتے ہیں، لیکن اس سے آگے آتے ہوئے اس بجلی کے پاؤں جلتے ہیں اور عالمی پابندیاں آڑے آجاتی ہیں۔ عالمی مارکیٹ سے 230 روپے لیٹر پیڑول لیتے ہوئے ہمیں تکلیف نہیں ہوتی ہے، لیکن ہمسائے سے اس سے بہت سستا پیٹرول لیتے ہوئے ہمیں گھبراہٹ ہوتی ہے۔ امریکہ پر انحصار کیا تو پورے کا پورا دفاعی نظام ہی امریکی بنا دیا، اب چین کی جانب چلے ہیں تو پوری ٹیکنالوجی اسی جانب جا رہی ہے۔ خود انحصاری کا تو نام ہی نہ لیں۔ کیا دنیا میں جینے اور اپنی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے یہی آداب ہیں۔؟ جو بھی پاکستان کو اس حال میں پہنچانے کا ذمہ دار ہے، اس کو کس زمرے میں رکھا جائے، آیا وہ محب وطن ہے یا غدار۔؟

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

چین کے بارے میں تباہ کن امریکی پالیسی (1)

تحریر: مشاہد حسین سید امریکی تاریخ کی طویل ترین تباہ کن جنگ ،جو افغانستان سے …