اتوار , 25 ستمبر 2022

امریکا نے ایک بار پھر ایران کی فضائی برتری کا اعتراف کیا

امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام کی فضائیہ کے کمانڈر نے مغربی ایشیا میں ایران کی فضائی برتری کا اعتراف کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مغربی ایشیا اور شمالی افریقا میں امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام کی ایئر فورس کے نئے کمانڈر الیکسس گرینکوویچ نے صحافیوں سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ امریکی جنگی طیاروں کو مغربی ایشیا کی فضاؤں میں اب بھی برتری حاصل ہے لیکن وہ ایران کو روکنے پر قادر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے ڈرون طیاروں کو اپنی  ٹیکنیک سے اپنی اسٹریٹیجی کے مطابق تیار کیا ہے اور اس میدان میں قابل ملاحظہ پیشرفت کی ہے۔ جنرل الیکسس گرینکوویچ نے کہا کہ اگر صورتحال ایسی ہو جائے کہ دشمن جو چاہے کرے اور ہم اس کو نہ روک سکیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو فضائی برتری حاصل ہے۔

انہوں نے اس خطے میں امریکی فضائیہ کے نئے کمانڈر کی حیثیت سے ایران کے ڈرون خطرات کو دور کرنے اور مغربی ایشیا میں فضائی برتری حاصل کرنے کو امریکا کا ایک اہم ہدف قرار دیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سینٹکام کے سابق کمانڈر جنرل میک کنزی بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کی ڈرون صلاحیت کے نتیجے میں جنگ کوریا کے بعد پہلی بار امریکا کی فضائی برتری کا خاتمہ ہوا ہے۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ڈرن طیارے دنیا کے جدید ترین ڈرون طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دمشق اور انقرہ کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے:شامی وزیر خارجہ

دمشق:شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد کا کہنا ہے کہ دمشق اور انقرہ کے درمیان …