جمعرات , 7 دسمبر 2023

پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ

پاکستان اور افغانستان ن کے مابین دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

عالمی منڈی میں فرنس آئل مہنگا ہونے کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

دوطرفہ معاہدے کا مقصد پاکستان میں بجلی کی کمی کے پیش نظر پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے بجائے نسبتا سستے کوئلے کا حصول ہے۔

اس معاہدے سے قبل ہی بلوچستان میں چمن بارڈر اسٹیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے کم مقدار میں کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ نئے معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں خرلاچی اور غلام خان کے کسٹم اسٹیشنز سے بھی کوئلے کی درآمد شروع ہوجائے گی۔

درآمد شدہ کوئلہ دو پلانٹس حبکو اور ساہیوال پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا. سرکاری ذرائع کے مطابق کوئلے کی درآمد سے پاکستان کی توانائی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونے کی توقع ہے۔

اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے قابل تجارت کرنسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں کافی کمی دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ یہ فیصلے پاکستان کے تجارتی وفد کے کابل کے 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہونے والے 3 روزہ دورے کے دوران ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …