اتوار , 25 ستمبر 2022

کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟ جسٹس اعجاز

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت میں جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا ہے کہ کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیخلاف پرویز الہی کی درخواست پر کی۔ حمزہ شہباز کے وکیل پیش ہوئے اور اپنے موکل کا جواب عدالت میں جمع کروادیا۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آ گئے اور آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی بحران سے گریز کیلیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے جو تمام مقدمات کو یکجا کرکے سنے۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے بھی عدالت سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کن نکات پر فل کورٹ سماعت کرے؟۔ عرفان قادر نے کہا کہ میرے ذہن میں کافی ابہام ہے۔

چیف جسٹس نے عرفان قادر کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق ہمارے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے، اگر آپ نے ہماری بات نہیں سننی تو کرسی پر بیٹھ جائیں۔ عرفان قادر نے کہا کہ آپ یہ مت سمجھیں ہم یہاں لڑائی کرنے آئے ہیں، عدالت تسلی رکھے ہم صرف یہاں آپکی معاونت کیلیے آئے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟۔

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی ، جمیعت علماء اسلام اور چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کرتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کردی۔

یہ بھی دیکھیں

سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے

اسلام آباد: لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف …