جمعہ , 7 اکتوبر 2022

اسرائیل میں لبنان کے خلاف جارحیت کرنے کی جرأت نہیں : حسن نصراللہ

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ لبنان پر ہر قسم کی جارحیت کا اسرائیل کو دندان شکن جواب دیا جائیکا۔

المیادین ٹیلی ویژن چینل سے کل رات گفتگو کرتے ہوئے لبنان کی عوامی اور انقلابی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصرالله نے کہا کہ تموز کی جنگ سے لے کر آج تک اسرائیل کو معلوم ہو چکا ہے کہ لبنان کے خلاف ہر قسم کے جارحانہ اقدام کا اسے جواب ملا ہے۔

سید حسن نصرالله نے کہا کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت نے 1985 میں بعض مقبوضہ علاقوں سے پسپائی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے فلسطین میں استقامتی جوانوں کے داخلے کو روکنے کیلئے سرحدی پٹی پر سکیورٹی زون بنا کر اپنی شکست کا سامان فراہم کیا اور پھر 1993 سے 1996 تک اسے کئی بار شکست کا مزہ چھکنا پڑا۔

سید حسن نصرالله نے کہا کہ صیہونی دشمن کے خلاف  استقامتی جوانوں کی شہادت پسندانہ کارروائیاں شروع ہوئیں اور انہوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور 2006 کے بعد دشمن نے لبنان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے کی جرأت نہیں کی۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کا کاریش کے علاقے میں گیس کی تلاش کے لیے بحری جہاز بھیجنا لبنان کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔ اور لبنان کے حقوق کے حصول کے بغیر کسی کو بھی اس گیس فیلڈ سے گیس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صیہونی حکومت کو بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ وہ لبنان کےسمندری علاقے سے گیس اور تیل نکالنے کی جرائت نہ کرے کیونکہ اس کو حزب اللہ اور استقامتی تحریک کے سخت ردعمل  کا سامنا کرنا پڑے گا سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر صیہونی حکومت لبنان کے سمندری علاقے سے تیل و گیس نکالنے کی کوشش کرے گی تو ہم اس کو پوری قوت کے ساتھ روکیں گے خواہ جنگ کی ہی صورتحال کیوں نہ پیدا ہو – ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو اس کی ساری ذمہ داری صیہونی حکومت پر عائد ہوگی  انھوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے دفاعی ہتھیاروں اور ڈرون طاقت و توانائی میں ماضی کے مقابلے میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ سب کے لئے باعث حیرت بنا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا  کہ حزب اللہ مقبوضہ فلسطین کے سمندر میں ہر جگہ دشمن کے خلاف اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی توانائی رکھتی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے جسے ہمارے میزائل نشانہ نہ بناسکتے ہوں ۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمارے ڈرون طیاروں نے بھی پچھلے برسوں کے دوران مقبوضہ فلسطین میں پروازیں انجام دی ہیں اور دسیوں بار وہ اپنی کامیاب پروازیں انجام دے کر واپس اپنے ٹھکانوں کو لوٹے ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

یونان کے قریب مہاجرین کی کشتی الٹنے سے 16 خواتین سمیت 18 افراد ہلاک

یونان: یونان کے قریب خراب موسم اور طوفانی ہواؤں کے سبب مہاجرین کی دو کشتیاں …