بدھ , 28 ستمبر 2022

عزاداری امام حسین علیہ السلام کا فلسفہ

علوم انسانی و اسلامی میں مہم ترین بحث، تربیت انسان ہے ۔ حتی انبیاء کی رسالت کا اصلی ترین ہدف بھی تربیت و ہدایت انسان تھا۔ انسان کیونکہ مخلوق خداوند ہے لہذا تربیت انسان بھی اصل میں خداوند کا ہی کام ہے ۔ اسی لیے خداوند نے اپنی سب سے قیمتی مخلوق کی تربیت و ہدایت کے لیے، نمونے بھی سب سے اعلی و قیمتی بیھجے ہیں ۔ ان عملی نمونوں میں سے ایک امام حسین علیہ السلام کی ذات مقدس و نورانی ہے۔
جس طرح خود امام حسین علیہ السلام کی ذات مقدس و نورانی کے اسلامی معاشرے میں آثار و برکات ہیں۔ اسی طرح ان کی عزداری کرنے کے بھی بہت سے اخلاقی اور تربیتی آثار ہیں۔ جیسے:
1-حفظ مكتب و شريعت اسلام
امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو اور واقعہ کربلا کو زندہ رکھنا یہ ہر غیرت مند انسان کو ہر ظالم و ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا درس دیتا ہے اور انسان میں انقلاب دینی و جذبہ فدا کاری لاتا ہے۔یعنی اہل بیت علیہم السلام کے لیے عزاداری کرنا یہ باعث بنتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا نام اسلام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور ہر زمانے کا یزید اسلام پر حملے کرنے کی جرات نہیں کرتا۔
عزداری باعث بنتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور اسلام کا نام کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتا اور اسلام حقیقی تحریف اور تاثیرات منفی سے کاملا محفوظ رہتا ہے یا ان تاثیرات منفی کا برا اثر بہت ہی کم اسلام پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام کی اسلام کو نابود یا کم اثر کرنے کے لیے کوشش رہی ہے کربلاء، مسلمانوں اور اسلام کے درمیان جدائی ڈالی جائے۔ یہ عزداری کا اثر و برکت ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اسلام اپنی اصلی حالت میں باقی ہے۔
امام خمینی (رح) فرماتے ہیں کہ: امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اسلام کی حفاظت کرتی ہے۔ امام (ع) کا پیغام تمام زندہ و جاوید ہے جو رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے۔ امام حسین علیہ السلام،کربلاء اور انکے سرخ پیغام کو اس گریے اور عزاداری نے حفظ کیا ہے۔(۱)
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:شاید دوسری دنیا کے لوگ ہمیں رونے والی قوم و ملت کہیں اور اپنے روشن فکر لوگ شاید اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اشک کے ایک قطرے کا اتنا ثواب کیسے مل جاتا ہے؟ یہ گریہ ملتوں کو بیدار و متحد کرتا ہے۔ عزداری کا اثر و فائدہ ہے نہ فقط یہ کہ مجلس عزا برپا کر کے مجلس سن لی اور گریہ کر لیا۔ بلکہ عزداری کا وہ سیاسی پہلو مہم ہے کہ جس کے لیے ہمارے آئمہ(ع) نے اتنی تاکید کی ہے۔ (۲)
2–امت اور عملی نمونے کے درمیان عمیق جذباتی رابطہ
عزداری اک قسم کا امام حسین علیہ السلام سے احساساتی و جذباتی رابطہ ہے اور ہر ظالم و ستم گر کے خلاف اعلان احتجاج ہے۔
بقول استاد شہید مطہری: شہید پر گریہ کرنا، اس کے انقلاب میں اسکے ساتھ شریک ہونا ہے۔یعنی ان مجالس میں جو روحانی و باطنی تبدیلی آتی ہے وہ معاشرے میں بھی تبدیلی کا باعث بنتی ہے اور یہی تبدیلی اس امام مظلوم کے انقلاب و پیغام کو حفظ کرنے کا بھی باعث بنتی ہے۔جیسے امام خمینی(رح) فرماتے ہیں کہ:آج جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب محرم و عاشورا کی وجہ سے ہے۔ انقلاب اسلامی ایران و 8 سال اس انقلاب کا دفاع سب کا مستقیم عزداری اور مجالس سے رابطہ ہے۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ شیعوں نے اسی عزداری و مجالس سے ہی ظالموں کے مقابلے پر اپنی شناخت و وجود کو حفظ کیا ہے۔
3–وسیع سطح پر مجالس کا برپا کرنا اور عام لوگوں کا دین حقیقی سے آشنا ہونا
یہ بات سب پر واضح ہے کہ ہر سال اسی مجالس عزاداری کی وجہ سے نہ فقط شیعہ بلکہ دوسرے مذاہب کے افراد بھی اسلام، کربلا اور امام حسین علیہ السلام سے آشنا ہوتے ہیں۔ یہی آشنائی باعث بنتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور کربلا چودہ سو سال گزرنے کے با وجود آج بھی زندہ ہیں۔ بس اس بات کی ضرورت ہے کہ مجالس عزداری کی کثرت کے ساتھ ان کی علمی و معرفتی حالت کو بھی مزید بہتر بنایا جائے۔
4–تجلی روح و تزکیہ نفس
امام حسین علیہ السلام اور انکے با وفا اصحاب کے مصائب پر گریہ کرنے سے انسان کی روح میں اک نور و اس کے نفس میں اک خاص قسم کا آرام و سکون پیدا ہوتا ہے کہ یہی نور و آرام اس انسان کی روحانی و باطنی اصلاح و ترقی کا باعث بنتا ہے۔ اس اصلاح روحانی سے انسان زیادہ سے زیادہ خداوند کے قریب ہوتا ہے۔ گویا یہ گریہ و عزاداری ہے کہ انسان کو خداوند کے قریب کرتے ہیں۔شیعہ کی تاریخ ان عملی تبدیلوں سے بھری پڑی ہے اور اس بات پر ہر با ضمیر شہادت و گواہی دیتا ہے۔
5–عزاداری مظلوم سے ہمدردی اور ظالم سے نفرت کا اعلان
امام حسین علیہ السلام کے روز عاشورا کے فرمان کی روشنی میں کہ: ’’فإنّي لا أري الموت إلا سعادة ولا الحياة مع الظالمين إلا برماً‘‘۔(۳)
ہر با ضمیر انسان اس شعار کی روشنی میں اک طرف امام مظلوم سے اعلان وفا داری کرتا ہے کہ کسی بھی ظالم کے سامنے سر تسلیم نہیں کرے گا اور ہمیشہ امام(ع) و حق کے ساتھ رہے گا۔ یہی اعلان وفا داری قوم و ملت کو دشمنان اسلام و تشیع کے سامنے قوت اور طاقت دیتا ہے۔ تو دوسری طرف اپنی نفرت اور بیزاری کا خود بنی امیہ اور پیروان بنی امیہ، اظہار کرتا ہے۔ وہ بنی امیہ کہ جہنوں نے رسول خدا (ص) سے جعلی احادیث نقل کیں ہیں کہ ہر طرح کے حاکم کے خلاف قیام حرام ہے ۔ بنی امیہ اس طرح کی احادیث خود بنا کر لوگوں کے درمیان منتشر کرتے تھے۔ جیسے عمر ابن خطّاب سے روایت کرتے ہیں کہ:’’فأطع الإمام وإن كان عبداً حبشيّاً، إن ضربك فاصبر، وإن أمرك بأمر فاصبر، وإن حرَمَك فاصبر، وإن ظلمك فاصبر، وإن أمرك بأمر ينقص دينك فقل: سمع وطاعة، دمي دون ديني‘‘۔(۴) خلیفہ و حاکم کی پیروی کرو اگرچہ وہ سیاہ پوست حبشی ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ حاکم تم پر ستم ہی کیوں نہ کرے، اگر غلط قسم کے حکم ہی کوں نہ دے، اگر تم کو تمہارے حق سے محروم ہی کیوں نہ کرے، اگر غیر شرعی حکم کہ جو دین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، بے چون و چرا تمہیں وہ حکم ماننا ہو گا اور دین کو قربان کرنا ہو گا نہ جان کو۔
اس روایت سے بھی ایک جھوٹی روایت کہ جسکی نسبت رسول خدا(ص) سے دیتے ہیں کہ رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ:’’يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي، وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جُثمان أنس. قلت: كيف أصنع يا رسول الله ! إن أدركت ذلك؟ قال: تسمع وتطيع للأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك فاسمع وأطع‘‘۔ (۵)
میرے بعد ایسے خلفاء آئیں گے کہ میرے والی ھدایت انکے پاس نہیں ہو گی، نہ میری سنت پر عمل کرنے والے ہوں گئے۔ انکے دل شیطان کے دل کی طرح ہوں گے لیکن جسم و بدن انسانوں کی طرح ہوں گے۔راوی نے اس موقع پر سوال کیا کہ اگر ہم اس زمانے میں زندہ ہوئے تو ہمیں کیا کرنا ہو گا؟
آپ(ص) نے فرمایا کہ: تمہارا کام بس ان کی پیروی کرنا ہے اگر وہ تم پر ظلم و ستم ہی کیوں نہ کریں اور تمہارے اموال کو غارت ہی کیوں نہ کریں۔ تمہارا کام بس بے چون و چرا انکی اتباع و اطاعت کرنا ہے۔اس طرح کی جعلی روایات کی روشنی میں اہل سنت کے علماء اور فقھاء نے ہر طرح کے حاکم کے خلاف قیام کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔
نووی عالم بزرگ اہل سنت کہتا ہے کہ:’’ وأمّا الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا فسقة ظالمين، وقد تظاهرت الأحاديث بمعني ما ذكرته، وأجمع أهل السنة أنه لا ينعزل السلطان بالفسق‘‘۔ (۶)
حاکم کے خلاف قیام و جنگ کرنا اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ کام حرام ہے اگرچہ وہ حاکم ظالم و فاسق ہی کیوں نہ ہو۔ اسلامی معاشرے کا حاکم فسق و فجور کرنے کے با وجود بھی اپنے عھدے و مقام سے منعزل نہیں ہو گا۔:’’وهكذا عن التفتازاني في شرح المقاصد والقاضي الإيجي في المواقف‘‘۔ (۷)
6-امت اسلامي کے درمیان وحدت اور اتفاق
امام حسین علیہ السلام پر عزاداری اور گریہ کی برکت سے امت اسلامی کے مختلف فرقوں کے درمیان ایک وحدت و اتحاد کی فضا معاشرے میں ایجاد ہوتی ہے کہ یہ فضا مجالس میں کہ جو امام بار گاہوں اور مساجد میں برپا ہوتی ہیں، حاضر ہونے سے ایجاد ہوتی ہے کیونکہ ان مجالس میں معارف نورانی اسلام بیان ہوتے ہیں ۔ جنکی وجہ سے دلوں سے نفرتیں و کدورتیں ختم ہوتی ہیں اور دل آپس میں نزدیک ہوتے ہیں ۔ یہ عزداداری کا سب سے بڑا اور مہم فائدہ و اثر ہے۔امام خمینی(رح) فرماتے ہیں کہ:’’ہم سیاسی گریہ کرنے والی قوم ہیں کہ ہم اپنے انہی اشکوں سے ایک سیلاب لے کر آیئں گئے اور اسلام کے راستے میں آنے والی ہر قسم کی رکاوٹ کو اپنے اشکوں سے بہا لے جایئں گئے ۔ یہی اشک و عزاداری ہیں کہ انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔(۸)
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:’’سارے امام حسین علیہ السلام کے مصائب کا ذکر اور ان مصائب پر گریہ کریں ۔ کیا امت اسلامی میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی چیز مشترک ہو سکتی ہے؟ یہ اتحاد فقط و فقط امام حسین علیہ السلام کے وجود کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے ۔ بس اے مسلمانو اس اتحاد کی فضا اور اس عزاداری کو ہاتھوں سے جانے نہ دو‘‘۔(۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات :
۱۔خمینی ، سید روح اللہ ، صحيفه نور ج 8 ص 69 ۔
۲۔ خمینی ، سید روح اللہ ، صحيفه نور ج 13 ص 156۔
۳۔ تحف العقول ص 245،شرح الأخبار للقاضي النعمان المغربي ج 3 ص 150،مناقب ابن شهر آشوب ج 3 ص 224،بحار الأنوار ج 44 ص 192 ۔
۴۔ سنن البيهقي: 159/8، المصنف لابن أبي شيبة: 737/7، كنزالعمال: 778/5، الدر المنثور: 177/2 ۔
۵۔ صحيح مسلم: 20/6، كتاب الأمارة باب الأمر بلزوم الجماعة ح 51۔
۶۔ شرح مسلم للنووي: 229/12 ۔
۷۔ شرح المقاصد ج 2، ص71؛ المواقف: 349/8 ۔
۸۔ خمینی ، سید روح اللہ ، صحيفه نور ج 13 ص 156، 157 ۔
۹۔ خمینی ، سید روح اللہ ، صحيفه نور ج 10 ص 217 ۔

یہ بھی دیکھیں

بی بی سی کی کارستانیاں

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) ملکہ برطانیہ کی موت کے بعد ہم نے میڈیا اور …