بدھ , 28 ستمبر 2022

میں اب بھی افغانستان کا صدر ہوں: اشرف غنی

کابل:افغانستان سے مفرور ہونے کے بعد اپنی پہلی باضابطہ ٹی وی گفتگو میں اشرف غنی نے دعوی کیا کہ انہیں ایک ڈیل کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق وہ اب بھی صدارتی عہدے پر باقی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کو افغانستان میں جمہوریت کے عدم استحکام کا ذمہ دار اور افغانستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کو نااہل اور منافق قرار دیا۔ اشرف عنی نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت کے گرنے میں بہت سے عناصر ملوث تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سب سے آخر میں کابل چھوڑ کر نکلے۔

انٹرویو کے دوران محمد اشرف غنی نے ایک جانب طالبان کے طرز حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری جانب طالبان کے خلاف مسلحانہ کارروائی کی حمایت نہ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک غلط راستے پر گامزن ہے اور اگر طالبان نے اسی طریقہ کار پر اصرار کیا تو ان کے خلاف اور بھی محاذ وجود میں آجائیں گے۔

اشرف غنی کی جانب سے صدر ہونے کا دعوی ایسی حالت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ ان کے مفرور ہونے کے بعد، سابق نائب صدر امراللہ صالح نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو صدارتی عہدے کا سرپرست قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ اشرف غنی کو افغانستان سے نکلنے کے طریقے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی سمیت افغانستان کی متعدد سیاسی اور سماجی شخصیات نے سابق صدر کو افغانستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

بی بی سی کی کارستانیاں

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) ملکہ برطانیہ کی موت کے بعد ہم نے میڈیا اور …