بدھ , 28 ستمبر 2022

افغانستان سے فوج کا انخلا ایک غلطی تھی۔ امریکی جنرل کا اعتراف

واشنگٹن: نجنرل فرینک میک کینزی، جو یکم اپریل کو امریکی فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں، اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے جا رہے تھے جب انہیں اطلاع ملی کہ کابل پر قبضہ ہو چکا ہے،یہ 15 اگست 2021 تھا اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس وقت کے کمانڈر نے کئی ہفتوں تک بے چینی اور افراتفری سے بھرپور صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جب گروپ نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔
معاہدے میں طالبان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ امریکی فوج سے نہیں لڑے گی۔تاہم میک کینزی کے دوحہ پہنچنے سے پہلے ہی طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھال لیا۔ طالبان پہلے ہی صدارتی محل کے اندر موجود تھے اور افغانستان کے صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے تھے۔اس طرح جس افغان حکومت جس کو امریکہ نے 20 سال تک قائم رکھنے کے لیے اتنی محنت کی تھی وہ چند ہی گھنٹوں میں گر گئی

جنرل ریٹائرڈ فرینک میک کینزی نے کابل پر طالبان کے قبضے کے ایک سال بعد ویڈیو کال کے ذریعے پولیٹیکو میگزین سے بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت امریکہ کو ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت مل گئی۔ اس طرح دو ہفتوں میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلا ممکن ہوا۔
افغانستان سے انخلا ایک غلطی تھی انہوں میں اعتراف کرتا ہوں لیکن یہ میرے کرنے کا فیصلہ نہیں تھا۔فرینک میک کینزی نے بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں وہاں رہنا چاہیے تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا وہ اس بنیادی فیصلے کی وجہ سے ہوا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو کتنا قصوروار ٹھہرانا چاہیے تو فرینک میک کینزی کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ دونوں انتظامیہ ہی افغانستان چھوڑنا چاہتی تھیں۔ یہ فیصلہ دونوں صدور کو کرنا تھا۔ میں نے کچھ مختلف تجویز کیا۔ لیکن فیصلہ انہوں نے کرنا تھا۔‘
فرینک میک کینزی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری انٹیلی جنس نے ہمیں بتایا ہے کہ طالبان ممکنہ طور پر القاعدہ کو دوبارہ سے سر اٹھانے کی جگہ دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ داعش سے چھٹکارا حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔‘

یہ بھی دیکھیں

ایران مخالف کارروائیاں کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے:بریگیڈیئر جنرل "نیلفروشان

بغداد: آئی آر جی سی کے ڈپٹی کمانڈر برائے آپریشنز کے امور نے کہا کہ …