پیر , 26 ستمبر 2022

جامعہ بنوریہ کا سائٹ میں پانچ ایکڑ اراضی پر قبضہ

اسلام آباد: کراچی نمائندہ جرأت اخبار کے مطابق، مسجد کی آڑ میں گودام بناکر کرائے کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ وصولیاں، نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی سے محکموں کا گریز سائٹ میں متعدد جگہوں پر جامعہ بنوریہ کے قبضے ، مافیائی انداز میں کام کرنے والے ادارے سے ہم مسلک اکابر علماء بھی دامن بچانے لگے  جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ ایک منظم لینڈ مافیا کا روپ دھار چکا ہے۔ مفتی نعیم مرحوم کے دور سے جاری مختلف مشکوک سرگرمیاں اُن کے صاحبزادے مفتی نعمان کے دور میں بھی اسی طرح جاری ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ بنوریہ ، سائٹ کے مختلف علاقوں پر منظم قبضے بھی کرواتی ہیں۔ اس معاملے میںاُن کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ یاتو مساجد پر قبضے کیے جاتے ہیں یا پھر مختلف زمینوں اور پلاٹوں پر قبضے کرکے اس کے ایک حصے پر مساجد بناکر اُسے تحفظ دے دیا جاتا ہے۔ اور مساجد کی آڑ میں قبضہ کی گئی زمینوں کو مختلف کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جامعہ بنوریہ کے بالکل قریب واقع حافظ سینٹر بھی ایک ایسی ہی قبضہ کی گئی جگہ ہے۔ جامعہ بنوریہ نے تقریباً پانچ ایکڑ کے اس علاقے پر قبضہ کرکے اس کے بالکل داخلی حصے پر ایک مسجد بنادی، جس سے پانچ ایکڑ کی جگہ پرقبضے کو تحفظ مل گیا۔ پھر باقی حصوں پرمختلف گودام ، اسٹورز وغیرہ قائم کرکے اُسے کرایے پر دے دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مسجد کی آڑ میں قبضہ کی گئی اس بیش قیمت اراضی پر مختلف لومز اور دھاگے کے گوداموں سے تقریباً پچیس لاکھ کے قریب کرایے وصولے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مقبوضہ اراضی پر قائم مسجد کے امام مفتی نعمان کے مشکوک پسِ منظر رکھنے والے فرنٹ مین مولانا عبدالحمید تونسوی کے دست راست مولانا ندیم گلو ہیں جو اس پورے علاقے کی تمام مشکوک سرگرمیوں کا تحفظ بھی یقینی بناتے ہیں۔ جس کے ذمے مختلف قبضوں کے لیے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے لڑکوں کی فراہمی ہوتا ہے۔واضح رہے کہ یہ اراضی بھی عملاً نالے کی جگہ پر ہے،جہاں سے تمام تجاوزات کو ہٹایا جارہا ہے۔ مگر جامعہ بنوریہ سائٹ کی اس مقبوضہ اراضی کو کسی ادارے نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ سائٹ میں ایسی متعدد جگہیں ہیں جہاں جامعہ بنوریہ نے قبضے کررکھے ہیں۔( جس کی تفصیلات آئندہ دنوں میں شائع ہوتی رہیں گی) بدقسمتی یہ ہے کہ جامعہ بنوریہ العالمی (سائٹ) ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو مافیائی انداز میں کام کرتا ہے۔ جن سے خود اُن کے ہم مسلک اکابر علماء بھی اپنا دامن بچاتے ہیں۔ مگر قتل وغارت گری سے الزامات تک اور قبضوں سے ناجائز بھتوں تک کے تمام سنگین جرائم کے مرتکب اس ادارے کے سربرآوردگان پر ہاتھ ڈالنے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کتراتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیوز لیک،اہم راز افشاں

اسلام آباد: سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کی متعدد آڈیو لیک ہوئی …