پیر , 26 ستمبر 2022

سلمان رشدی نے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں اور الٰہی ادیان کے تمام پیروکاروں کی ریڈ لائن کو عبور کر کے خود کو عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔ناصر کنعانی

تہران:

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے گستاخ رسول سلمان رشدی پر قاتلہ حملے اور اس سلسلے میں امریکی حکام کے اظہار خیال کے بارے میں کہا کہ ہمیں بھی اس معاملے کی میڈیا کے ذریعے خبر ملی تاہم اس معاملے کے متعلق جو کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ سلمان رشدی پر حملے کے مسئلے میں اس کے حامیوں کے سوا کسی بھی دوسرے شخص کو سرزنش، ملامت اور یہاں تک کہ مذمت کے لائق نہیں سمجھتا۔

انہوں نے مزید کہا ، سلمان رشدی نے اسلامی مقدسات کی توہین کی اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی ریڈ لائن اور اسی طرح الٰہی ادیان کے تمام پیروکاروں کی ریڈ لائن کو عبور کر کے خود کو عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بنایا اور اس سے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے بلکہ تمام آسمانی اور الٰہی ادیان کے پیروکار متفق ہےکہ ایک الٰہی اور آسمانی دین اور رسول الٰہی کی توہین کی گئی، رنجیدہ خاطر ہوئے تھے اور اب بھی رنجیدہ خاطر ہیں۔

ناصر کنعانی نے حملہ آور شخص کے ایران سے تعلق کے بارے میں زیر گردش بعض خبروں کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم رسمی طور پر تردید کرتے ہیں کہ کوئی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو مورد الزام ٹھرانے کا حق نہیں رکھتا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ہماری مذاکرتی ٹیم نے ایک اچھے، مضبوط اور پائیدار سمجھوتے کے حصول کے لئے مصمم ارادے کے ساتھ مذاکرت میں شرکت کی۔ ایسا سمجھوتہ جو ایرانی قوم کے مفادات کا حصول یقینی بنائے اور پابندیوں کو ختم کرے۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

ایران کے شمالی علاقے میں حالیہ بدامنی کے دوران داعشی دہشت گرد گرفتار

تہران: ایرانی شمالی صوبہ مازندران کے شہر ساری میں عوامی استغاثہ اور انقلاب اسلامی کی …